’کرپشن‘ ریفرنس میں سابق سی او او بائیکو کی ایک ارب 29 کروڑ روپے کی پلی بارگین منظور

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2020

ای میل

عدالت نے پلی بارگین کی درخواست کو منظور کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت نے پلی بارگین کی درخواست کو منظور کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: احتساب عدالت نے سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف 60 ارب روپے سے زائد کے ’کرپشن‘ ریفرنس میں سابق چیف آپریٹنگ آفسیر (سی او او) بائیکو پیٹرولیم پاکستان لمیٹڈ کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ پلی بارگین کو منظور کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پروسیکیوشن میں موجود ذرائع نے بتایا کہ بائیکو کے سابق سی او او کامران افتخار لاری نے نیب کراچی اور حیدرآباد ڈویژن کی تاریخ کی سب سے بڑی ایک ارب 29 کروڑ 29 لاکھ 66 ہزار 602 روپے کی پلی بارگین کی۔

بیورو نے سابق وزیر اور اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم کو ایک نئے ریفرنس میں نامزد کیا تھا جبکہ ان کے ساتھ ساتھ بائیکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت مالک عامر عباسی اور اس وقت کے سی او او کامران افتخار لاری کو بھی نامزد کیا تھا۔

مزید پڑھیں: کرپشن کینسر ہے، خاتمے کیلئے بڑی سرجری کی ضرورت ہے، چیئرمین نیب

بعد ازاں کامران افتخار لاری نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 25 (بی) کے تحت احتساب عدالت نمبر 4 کے جج سریش کمار کے سامنے درخواست دائر کی کہ ان کی نیب حکام کے ساتھ ایک ارب 29 کروڑ 29 لاکھ 66 ہزار 602 روپے کی مجموعی پلی بارگین منظور کریں۔

ان کے وکیل دفاع وحید عالم جینجر نے درخواست جمع کروائی کہ نیب چیئرمین نے ان کے موکل کی طرف سے پلی بارگین کو منظور کیا اور اس معاملے کو منظوری کے لیے عدالت کو بھیج دیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ موجودہ معاملے کی سابق وزیر ڈاکٹر عاصم کی گرفتار کے دوران نشاندہی کی گئی اور اس کے بعد ایم/ایس پاکستان پیٹرولیم لمیٹیڈ (پی پی ایل) سے شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ وزارت پیٹرولیم نے بائیکو پیٹرولیم پاکستان لمیٹڈ کے لیے ہالا بلاک کا کنڈنسیٹ الاٹ کیا تھا لیکن 7 سال گزرجانے کے بعد بھی اس کی ادائیگی نہیں کی گئی۔

اس کے مطابق چیئرمین نیب نے انکوائری کی اجازت دی، جو بعد ازاں انویسٹی گیشن میں تبدیل ہوئی اور پھر عدالت میں نیب کی جانب سے ریفرنس دائر کیا گیا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار/ملزم افتخار لاری نے چیئرمین نیب کو درخواست دی کہ وہ ان کی پلی بارگین منظور کریں اور وہ رقم دینے کے لیے تیار ہیں، جس کا تعین موجودہ کیس میں ان کی طرف سے ذمہ داری (لائیبلٹی) طور پر کیا گیا۔

عدالت میں وکیل نے بتایا کہ وفاقی انسداد بدعنوانی ادارے نے یہ درخواست گزار کے خلاف ایک ارب 29 کروڑ 29 لاکھ 66 ہزار 602 روپے کی لائبلٹی کا تعین کیا، جس میں ابتدائی طور پر 43 کروڑ 96 لاکھ 8 ہزار 645 روپے کا پے آرڈر تیار کیا اور 42 کروڑ 66 لاکھ 78 ہزار 979 روپے کی 2 بقایا بینک ضمانت بھی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے موکل نے چیئرمین نیب کو حلف نامے کے ساتھ ایک ارب 29 کروڑ 29 لاکھ 66 ہزار 602 روپے کی مجموعی رقم کی 2 بقایا قسطوں کے پے آرڈرز بھی جمع کروائے۔

علاوہ ازیں عدالت نے اپنے حکم میں لکھا کہ 9 اکتوبر کو چیئرمین نیب کی جانب سے درخواست کو منظور کیا گیا تھا اور اسے بعد ازاں منظوری کے لیے عدالت کو بھیجا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دار نیب ہے، سپریم کورٹ

مزید برآں تفتیشی افسر نے ملزم کی جانب سے دیے گئے تینوں پے آرڈرز کی تصدیق کے حوالے سے بیان بھی جمع کروایا گیا۔

جج نے لکھا کہ درخواستگزار/ملزم نے اپنی لائبلٹیز کا کلیر کیا اور اس کے مطابق درخواست منظور کی جاتی ہے جبکہ درخواست گزار/ملزم این اے او 199 کی دفعہ 25 (بی) کے تحت جرم ثابت ہوا ہے۔

عدالت میں جج نے حکم دیا کہ اگر ملزم/درخواست کوئی عوامی عہدہ رکھتے ہیں تو انہیں ہٹایا جائے اور وہ 10 سال کے لیے نااہل ہوں گے۔