لاہور میں اسموگ کی صورتحال دن بدن بگڑنے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

لاہور میں اسموگ کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑنے کا انکشاف ہوا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
لاہور میں اسموگ کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑنے کا انکشاف ہوا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور: پڑوسی ملک کے مضافاتی علاقوں اور دیہی علاقوں میں درجہ حرارت میں مسلسل گراوٹ کے ساتھ اسموگ میں وسیع پیمانے پر اضافے کی پیش گوئی کے دوران پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا فضائی معیار کا انڈیکس غیر صحت بخش قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق محکمہ ماحولیات کے ایک سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا ٹاؤن ہال کی اے کیو آئی کا درجہ 207 ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ ایک اعتدال پسند ہے لیکن اگر اس کی تعداد 300 ہو جائے تو یہ غیر اطمینان بخش ہوگا۔

مزید پڑھیں: اسموگ کیا ہے اور اس سے بچنا کیسے ممکن؟

رات 9 بجے آئی کیو ایئر کی یومیہ رپورٹ کے مطابق شہر میں کئی مقامات پر اے آئی کیو انتہائی بدترین رہا، ان میں ایچ اے سی ایگری پوائنٹ پر لیا گیا 404 بھی شامل ہے جس کے بعد 367 (سندر انڈسٹریل اسٹیٹ)، 267 (ایمپریس روڈ) اور 259 (یتیم خانہ) شامل ہیں، اسی طرح مختلف دیگر مقامات پر بھی شہر کی اے کیو آئی کو 244 ، 211، 210 ، 206 ، 198 اور 192 دکھایا گیا۔

عہدیدار اس صورتحال کو زیادہ پریشان کن نہیں سمجھ رہے لیکن انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ نواحی علاقوں میں فصلوں کی باقیات کو جلائے جانے کے ساتھ ہی اس میں اضافہ ہوگا کیونکہ کاشتکار چاول کی فصل کی کٹائی میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلے 15 دنوں میں (10 نومبر تک) علاقوں اور پڑوسی ملک میں اینٹوں کے بھٹوں کے شروع ہونے کے ساتھ ہی فصلوں کی باقیات جلائے جانے کی وجہ سے یہ بہت بڑھ جائے گا لہٰذا اسموگ کی صورتحال 10 نومبر تک اپنے عروج کو پہنچ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب نے اسموگ کو ’آفت‘ قرار دے دیا

انہوں نے کہا کہ محکمہ نے اسموگ کو کم کرنے کی کوشش میں 7 نومبر سے 31 دسمبر تک پنجاب میں 7،523 اینٹوں کے بھٹوں پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا، مزید برآں اینٹوں کے بھٹوں کو روایتی طریقے کے بجائے زگ زیگ ٹیکنالوجی میں منتقل کرنا باقی ہے، انہیں 31 دسمبر کے بعد کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

پنجاب میں 7 ہزار 532 اینٹوں کے بھٹوں میں سے 695 کو زگ زیگ ٹیکنالوجی میں منتقل کیا گیا ہے، اس سال 20 جنوری کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن پہلے ہی دی گئی تھی لہذا 31 دسمبر کے بعد صرف ان بھٹوں کو ہی چلانے کی اجازت ہوگی جو اس طرز پر منتقل کردیے جائیں گے۔