ایران پر معاشی دباؤ میں اضافہ: امریکا نے تیل کی صنعت پر نئی پابندیوں کا اعلان کردیا

اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2020

ای میل

امریکا نے ایرانی وزیر پیٹرولیم سمیت دیگر افراد اور اداروں کو بھی بلیک لسٹ میں بھی شامل کرلیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکا نے ایرانی وزیر پیٹرولیم سمیت دیگر افراد اور اداروں کو بھی بلیک لسٹ میں بھی شامل کرلیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل کی صنعت پر نئی پابندیوں کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ ایرانی وزارت پیٹرولیم، نیشنل ایرانی آئل کمپنی اور نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی پر ایران کے پاسداران انقلاب کی مالی اعانت کرنے پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ایران کے جوہری سائنسدانوں پر پابندی کا اعلان کردیا

امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسٹیون میوچن نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 'ایران میں حکومت، قدس فورس کی غیر مستحکم سرگرمیوں کے لیے مالی اعانت پیٹرولیم سیکٹر سے فراہم کرتی ہے‘۔

امریکا نے ایرانی وزیر پیٹرولیم سمیت دیگر افراد اور اداروں کو بھی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا۔

مذکورہ پابندیوں کے بعد ایرانی وزیر اور اداروں کے تمام اثاثے جو امریکا میں ہوں گے منجمد کردیے جائیں گے۔

ایران نے پابندیوں کے جواب میں کہا کہ تہران کی تیل کی صنعت امریکا کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔

وزیر تیل نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'ایران کی تیل کی صنعت امریکی دباؤ سے بالاتر ہے'۔

بیژن نامدار زنگنہ نے کہا کہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف امریکی پابندیاں محض غیر فعال ردعمل ہیں جو واشنگٹن کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: عراق: امریکی فضائی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ ہلاک

انہوں نے کہا کہ 'دنیا میں یکطرفہ پن کا دور ختم ہوچکا ہے'۔

وزیر تیل نے مزید کہا کہ ایران کی تیل کی صنعت کو کوئی نہیں روک سکتا۔

واضح رہے کہ مارچ میں امریکا نے ایران سے زیر حراست امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تہران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

امریکا نے ایرانی پیٹرو کیمیکلز کی تجارت کرنے والے جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ اور چین میں قائم 9 اداروں کے ساتھ ساتھ 3 ایرانی افراد کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔

اس سے قبل رواں برس جنوری میں امریکا نے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزام میں ایران کے 8 اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔

ایران پہلے ہی اقتصادی پابندیوں کے باعث کورونا وائرس کے تدارک میں مالی مشکلات سے دوچار ہے اور تقریباً 35 برس بعد آئی ایم ایف سے قرض مانگنے پر مجبور ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ایران کے مرکزی بینک پر پابندی عائد کردی

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تجارتی اور معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں جبکہ معاہدے کے دیگر عالمی فریقین برطانیہ، جرمنی، فرانس، روس اور چین نے ایران سے معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں وقت مزید اضافہ ہوا جب سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئےتھے جس کے بعد تیل برآمد کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو نے اپنی پیداوار روک دی تھی۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد امریکا اور سعودی عرب دونوں نے ایران کو اس کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا تھا تاہم ایران نے ان بیانات کو جنگ کے لیے ایک بہانہ قرار دیا تھا اور واضح کیا تھا کہ ایران جنگ کے لیے تیار ہے اس لیے کسی قسم کی جارحیت سے گریز کیا جائے۔