بلوچستان: ضلع قلات میں 8 سالہ بچہ ریپ کے بعد قتل

27 اکتوبر 2020

ای میل

منگل کی صبح 9 بجے پولیس نے خاندان کو بتایا کہ بچے کی لاش قلات کے قریب ایک پہاڑی سے ملی ہے — فائل فوٹو
منگل کی صبح 9 بجے پولیس نے خاندان کو بتایا کہ بچے کی لاش قلات کے قریب ایک پہاڑی سے ملی ہے — فائل فوٹو

بلوچستان کے ضلع قلات سے 8 سالہ بچے کی لاش برآمد کی گئی جسے ریپ اور شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔

بچے کے رشتہ دار ظہور احمد کے مطابق بچہ پیر کے روز گھر کے قریب مدرسے گیا لیکن سہ پہر کو تقریباً ساڑھے 4 بجے لاپتہ ہوگیا جو اس کے واپس گھر آنے کا وقت تھا۔

اہلخانہ نے بچے کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی اور پولیس کے ہمراہ پوری رات بچے کو تلاش کرتے رہے لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔

منگل کی صبح 9 بجے پولیس نے خاندان کو بتایا کہ بچے کی لاش قلات کے قریب ایک پہاڑی سے ملی ہے، بچے کی لاش کو بعد ازاں پوسٹ مارٹم کے لیے کوئٹہ لایا گیا۔

پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ بچے کے ساتھ ایک سے زائد افراد نے بدفعلی کی تھی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: قلعہ عبداللہ میں 8 سالہ بچے کی ریپ کے بعد درخت سے لٹکی ہوئی لاش برآمد

انہوں نے کہا کہ پتھر سے مارنے کی وجہ سے بچے کی کھوپڑی ٹوٹ گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران جمع کیے گئے نمونے لاہور بھیجے جائیں گے جن کا نتیجہ آنے میں ایک ہفتہ لگے گا۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنسی درندگی کے واقعات میں اضافے پر تشویش ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ تھانے میں دلخراش واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ 9 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزارت انسانی حقوق کے ریجنل دفتر کے ترجمان نے کہا کہ رواں سال اب تک بلوچستان میں بچوں سے زیادتی کے 40 سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 3 سالہ بچے کا ’بدفعلی کے بعد قتل‘، 15 سالہ ملزم گرفتار

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں 8 سالہ بچے کو ریپ کے بعد قتل کر کے اس کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی برآمد ہوئی تھی۔

اگست میں غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ملک میں ایک ہزار 489 بچوں (یومیہ 8) کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

متاثرہ بچوں میں 785 لڑکیاں اور 704 لڑکے شامل ہیں۔

’کروئل نمبرز‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ریپ کے 822 کیسز میں ملزمان متاثرہ بچوں کے رشتہ دار ہی نکلے جبکہ 135 کیسز میں انجان ملزمان نے بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا۔