مسلم لیگ (ن) میں اختلافات، عبدالقادر بلوچ اور ثنااللہ زہری کا پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 01 نومبر 2020
لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ کوئٹہ میں پی ڈی ایم جلسے میں ثنا اللہ زہری کو مدعو نہ کرنے پر برہم ہوئے — فائل فوٹو: اے پی پی
لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ کوئٹہ میں پی ڈی ایم جلسے میں ثنا اللہ زہری کو مدعو نہ کرنے پر برہم ہوئے — فائل فوٹو: اے پی پی

کوئٹہ: بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور مرکزی قیادت کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوگئے ہیں، جس کی وجہ حال ہی میں کوئٹہ میں ہونے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں سابق وزیر اعلیٰ سردار ثنااللہ زہری کو مدعو نہ کرنا اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صاق کا بیان ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) میں موجود ذرائع نے تصدیق کی کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور ثنااللہ زہری دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ’لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور دیگر رہنما پارٹی سے استعفیٰ دینے سے متعلق جلد اعلان کریں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ایاز صادق کی کہی ہوئی بات معافی سے آگے نکل چکی ہے، شبلی فراز

ان کا کہنا تھا کہ عبدالقادر بلوچ جو بلوچستان کے گورنر اور کور کمانڈر کوئٹہ رہ چکے ہیں انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے صدر سردار اختر مینگل کے کہنے پر ثنا اللہ زہری کو پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کی دعوت نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا۔

ادھر سردار اختر مینگل نے اس بات کی تائید کی کہ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ثنااللہ زہری کو پی ڈی ایم جلسے میں مدعو نہ کرنے کہا تھا جس کی وجہ ان دونوں کے درمیان قبائلی تنازع ہے جبکہ ان کے اور ان کے بھائی کے خلاف نواب امان اللہ زرک زئی کے قتل کا مقدمہ بھی درج ہے۔

مزید پڑھیں: ابھی نندن سے متعلق بیان کو بھارتی میڈیا توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے، ایاز صادق

ذرائع نے انکشاف کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو حال ہی میں دورہ کوئٹہ کے دوران کہا تھا کہ پی ڈی ایم کے کوئٹہ کے جلسے میں ثنا اللہ زہری کو مدعو کیا جائے۔

تاہم مریم نواز کی جانب سے یہ معاملہ پارٹی کے نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بھیجا گیا، جنہوں نے اس معاملے کو پارٹی سربراہ نواز شریف کے سامنے اٹھایا اور انہیں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے صدر کے تحفظات سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ثنا اللہ زہری کو پی ڈی ایم کے جلسے میں نہیں بلایا جاسکتا کیونکہ وہ گزشتہ ڈھائی سال سے پاکستان میں موجود نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں: تمام اپوزیشن پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ثنا اللہ زہری نے اس وقت پارٹی قائد نواز شریف کے مشورے کے خلاف وزیراعلیٰ بلوچستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جب ان کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی گئی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ ’میاں صاحب نے ان سے استعفیٰ نہ دینے کے لیے کہا تھا‘۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے بھی ڈان کو تصدیق کی کہ ثنااللہ زہری کو اختر مینگل کے ساتھ قبائلی تنازع کے باعث پی ڈی ایم جلسے میں نہیں بلایا گیا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سردار ثنااللہ زہری کو قبائلی تنازع کے باعث پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے میں نہیں بلایا تھا‘ مزید یہ کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ پارٹی سے استعفیٰ دینا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی ہے۔


یہ خبر یکم نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

تبصرے (0) بند ہیں