امریکی انتخابات میں ماضی کے مقابلے میں کیا کچھ مختلف ہوا؟

اپ ڈیٹ 04 نومبر 2020

ای میل

جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو امریکا کے صدارتی انتخاب برائے 2020ء کے لیے پولنگ آخری لمحات میں ہے اور بے چینی سے نتائج کا انتظار کیا جارہا ہے۔

نتائج کیا ہوں گے؟ یہ بلاگ شائع ہونے تک شاید واضح ہوجائیں، لیکن یہ بھی خدشات ہیں کہ نتائج سامنے آنے میں تاخیر ہوسکتی ہے اور یہ تاخیر کئی دنوں کی بھی ہوسکتی ہے۔

اس بار صدارتی انتخابات ماضی میں ہونے والے انتخابات سے بہت مختلف رہے۔ سب سے اہم بات تو یہ رہی کہ یہ انتخابات وبائی مرض کے دوران منعقد ہوئے اور شاید ہی ماضی میں کبھی ایسا ہوا ہو۔ وبائی مرض بھی ایسا جو امریکا میں 2 لاکھ سے زائد زندگیاں نگل چکا ہے۔ اس وبائی مرض کی وجہ سے قبل از وقت ووٹنگ اور پوسٹل بیلٹ میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا اور 3 نومبر کے الیکشن ڈے سے پہلے ہی 10 کروڑ سے زیادہ امریکی حق رائے دہی استعمال کرچکے تھے۔

اس بار صدارتی انتخابات کا ٹرن آؤٹ بھی ریکارڈ ہے۔ ٹیکساس، ہوائی، مونٹانا، واشنگٹن، فلوریڈا اور اوریگون میں 2016ء کی نسبت زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔ اس ریکارڈ ٹرن آؤٹ کی وجہ امریکا میں گہری سیاسی تقسیم ہے جسے انتخابی مہم کے دوران دونوں صدارتی امیدواروں نے خوب ہوا دی۔

مزید پڑھیے: صدارتی انتخاب: ابھی سے جیت کا سوچ کر خوشی محسوس ہورہی ہے، ٹرمپ

اس گہری تقسیم کی وجہ سے الیکشن ڈے پر ہنگاموں یا پولنگ میں تعطل کے خدشات بھی ظاہر کیے جارہے تھے، لیکن یہ سب تقریباً غلط ہی ثابت ہوئے۔ تقریباً کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کہ چھوٹے موٹے واقعات تو ضرور ہوئے لیکن انہیں زیادہ شدت سے رپورٹ بھی نہیں کیا گیا۔ کئی ریاستوں میں ووٹروں کو فون کالز موصول ہوئیں جن میں انہیں گھر سے نہ نکلنے کا کہا گیا۔ اس طرح کی تمام کوششوں سے متعلق ایف بی آئی اور نیویارک کے اٹارنی جنرل دفتر نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

واشنگٹن کے ایک فیڈرل جج کی عدالت نے کئی ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے بیلٹ پیپرز نہ پہنچنے پر محکمہ ڈاک کو بیلٹ اپنے دفاتر سے ڈھونڈ کر بروقت پہنچانے کا حکم بھی دیا۔ شمالی کیرولینا میں ایک شخص کو لائسنس شدہ اسلحہ کی نمائش اور پولنگ ایریا میں داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا۔ جارجیا کی 3 کاؤنٹیز میں ووٹنگ مشینیں کام نہ کرنے کی شکایت ملی۔ لاس اینجلس، نیویارک اور واشنگٹن میں بڑے اسٹور مالکان نے پُرتشدد مظاہروں کے خوف سے اپنی دکانوں کی کھڑکیوں پر حفاظتی چادریں لگا دیں۔

الیکشن ڈے کے بعد نتائج میں تاخیر یا کسی تنازع کی صورت میں اب بھی ہنگامے پھوٹ پڑنے کا خدشہ موجود ہے۔ ٹیکساس ہائی وے پر پک اپ ٹرکوں میں سوار ٹرمپ کے حامیوں نے ایک بس میں سوار بائیڈن کے ووٹروں کا گھیراؤ کیا۔ شمالی کیرولینا میں الیکشن ڈے سے پہلے ڈیموکریٹ ووٹرز جو پولنگ اسٹیشن کی طرف مارچ کر رہے تھے، ان پر پولیس نے مرچوں کا سپرے کیا۔ ایک ماہ پہلے ایک ملیشیا گروپ کے ارکان کو مشی گن کے ڈیموکریٹ گورنر کے اغوا کی منصوبہ بندی پر گرفتار کیا گیا۔

انتخابی مہم کے آخری ہفتے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے لیکن اس بار قبل از وقت ووٹنگ نے ووٹر کا آخری وقت میں ذہن بدلنے کا رجحان ختم کردیا۔ ایگزٹ پول میں یہ ثابت بھی ہوا اور صرف 4 فیصد ووٹروں نے کہا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے آخری ہفتے میں صدارتی امیدوار کا انتخاب کیا جبکہ 93 فیصد نے کہا کہ انہوں نے بہت پہلے ہی ذہن بنا لیا تھا کہ ان کا صدر کون ہوگا۔

امریکی انتخابات میں ایک اور بڑا فیکٹر الیکشن ڈے پر وال اسٹریٹ میں کاروبار کا رجحان ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ نے 1984ء کے بعد دوسرا بہترین الیکشن ڈے دیکھا۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 2 فیصد یا 550 پوائنٹس اضافہ ہوا۔ ایس اینڈ پی فائیو ہنڈرڈ انڈیکس میں 1.8 فیصد یا 58 پوائنٹس اضافہ ہوا۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ کی یہ کارکردگی بتاتی ہے کہ سرمایہ کاروں نے سیاسی مقابلہ بازی ختم ہونے پر سکھ کا سانس لیا۔ اگرچہ انتخابی نتائج کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ کا یہ رجحان بدل بھی سکتا ہے تاہم کچھ میڈیا ہاؤسز نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اچھے کاروبار کو سرمایہ کاروں کی بائیڈن سے وابستہ امیدوں سے جوڑا ہے۔

ایک اور اہم فرق جو اس بار دیکھنے میں آیا وہ یہ کہ دوسری مدت کے لیے الیکشن لڑنے والے صدر نے معمول کا دن گزارنے کی بجائے بے چین دن گزارا۔ خبروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی تیسری منزل پر رہائش گاہ میں وقت گزارا جہاں ٹی وی چینلز پر الیکشن ڈے کی رپورٹنگ چل رہی تھی اور ٹرمپ اپنے ساتھیوں اور مشیروں سے بار بار گراؤنڈ رپورٹ طلب کر رہے تھے۔

صدر ٹرمپ سوئنگ اسٹیٹ پنسلوینیا کے بارے میں زیادہ فکرمند رہے اور بار بار سوال کر رہے تھے۔ صدر ٹرمپ عدالت کی طرف سے بذریعہ ڈاک ووٹوں کو شمار کیے جانے کے حکم پر بھی فکرمند تھے۔ اس سے پہلے صدور دوسری مدت کے الیکشن میں بظاہر معمول کا دن گزارتے رہے ہیں۔ 2012ء کے انتخابات میں صدر اوباما الیکشن ڈے پر باسکٹ بال کھیلتے رہے جبکہ جارج ڈبلیو بش دوسری بار الیکشن کے موقع پر اپنے جم میں ورزش کرتے رہے۔

صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو فون پر انٹرویو بھی دیا جس میں ان کا چڑچڑا پن اور بدمزاجی عیاں تھی اور انہوں نے فوکس نیوز کو 2016ء کی طرح ساتھ نہ دینے پر خوب لتاڑا۔ صدر ٹرمپ نے ورجینیا میں الیکشن ہیڈکوارٹرز میں بات کرتے ہوئے خوداعتمادی دکھانے کی کوشش کی لیکن ہیجان واضح تھا۔ انہوں نے کہا کہ جیتنا آسان ہے لیکن ہارنا کبھی بھی آسان نہیں، خصوصاً میرے لیے۔

مزید پڑھیے: کیا ٹرمپ21 ویں صدی میں دوسری بار منتخب نہ ہونے والے پہلے صدر ہوں گے؟

امریکی انتخابات کس قدر تناؤ کے ماحول میں منعقد ہوئے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کیلیفورنیا کے گورنر نے کہا کہ ان کی ریاست اور پورا ملک انتخابی نتائج کے بعد بدامنی اور مظاہروں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے پہلے انتخابات میں اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے انتخابی نتائج پر بدامنی کی فکرمندی کا اظہار کبھی نہیں ہوا۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے بھی فوکس اینڈ فرینڈز سے انٹرویو میں کہا تھا کہ انتخابی نتائج کے بعد بدامنی اور مظاہروں کا خطرہ ہے لیکن یہ بدامنی ڈیموکریٹ ریاستوں اور شہروں میں ہوگی۔

اس الیکشن میں ایک بڑا مسئلہ نسل پرستی بھی تھی اور اگر اسے مزید واضح لکھا جائے تو یہ الیکشن ٹرمپ کی محبت اور نفرت میں لڑا گیا۔ ووٹروں نے ٹرمپ سے محبت کے لیے زور لگایا اور ٹرمپ کی ریلیوں میں ’ہمیں تم سے پیار ہے‘ کے نعرے گونجتے رہے۔ اس کے مقابلے میں سیاہ فام اور رنگ دار نسلوں کے لوگ سفید فام بالادستی کے ڈر سے بائیڈن کے جھنڈے تلے جمع ہوئے۔

سفید فام ووٹروں نے کورونا وائرس سے اموات اور معیشت جیسے مسائل کو بھی اہمیت نہ دی اور ٹرمپ کی فتح کے لیے زور لگا دیا۔ الیکشن ڈے پر نیویارک، جو روایتی طور پر ڈیموکریٹ ریاست ہے، وہاں بھی ری پبلکن ووٹر بڑی تعداد میں نکلے اور نیویارک ریاست نہ جیتنے کا یقین ہونے کے باوجود ٹرمپ کو ووٹ کیا۔

نفرت امریکی سیاست میں نیا فیکٹر نہیں، امریکی عوام کلنٹن خاندان سے نفرت کرنے لگے تھے اور اسی نفرت کی وجہ سے ہلیری کلنٹن ایک نوآموز سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ سے الیکشن ہار گئی تھیں۔ اگر آج ٹرمپ ہار جاتے ہیں تو یہ مکافاتِ عمل ہوگا کیونکہ وہ بھی نفرت کی لہر پر سوار ہوکر وائٹ ہاؤس پہنچے تھے۔

نفرت کی جڑیں مایوسی میں چھپی ہوتی ہیں لیکن نفرت وقتی طور پر اس مایوسی پر غالب آنے میں مدد دیتی ہے۔ حالیہ امریکی سیاسی تاریخ میں کئی صدور امید کے پیغام کے ساتھ جیت کر وائٹ ہاؤس پہنچے جن میں رونالڈ ریگن، بل کلنٹن اور اوباما شامل ہیں، یہ الگ بات ہے کہ امریکیوں کی کتنی امیدیں پوری ہوئیں لیکن اب امریکی معاشرہ ایک مایوسی کے عالم میں ہے اور کورونا کی وبا نے ان کی مایوسی کو بڑھا دیا ہے اور یہی مایوسی نفرت کو بڑھاوا دیے چلے جا رہی ہے۔

اس نفرت کا ثبوت وائٹ ہاؤس کے گرد راتوں رات کھڑی کی گئی نئی اونچی باڑ ہے جو کسی دہشتگردی کے خطرے کی وجہ سے نہیں لگائی گئی بلکہ انتخابی نتائج کے بعد پُرتشدد مظاہروں کے خوف پر خفیہ سروس کی سفارش پر کھڑی کی گئی ہے۔

اس صدارتی الیکشن کو دیکھنے کے بعد قدیم یونانی فلسفی سقراط کے شاگرد اور ارسطو کے استاد افلاطون کا ایک قول ذہن میں بار بار گونجتا ہے کہ ’جمہوریت انارکی کی طرف لے جاتی ہے جو ہجوم کی حکمرانی کا نام ہے‘۔