زائد العمر کھلاڑیوں کی ٹیم میں موجودگی، یکطرفہ مقابلوں سے پی سی بی کے دعوے دہرے رہ گئے

اپ ڈیٹ 09 نومبر 2020
پاکستان کرکٹ کے مقابلوں میں زائد العمر کھلاڑی بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں— فوٹو بشکریہ پی سی بی
پاکستان کرکٹ کے مقابلوں میں زائد العمر کھلاڑی بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں— فوٹو بشکریہ پی سی بی

لاہور: معیاری کرکٹ کی فراہمی، نوجوان کھلاڑیوں کو پروان چڑھانے اور زائد العمر کھلاڑیوں سے جان چھڑانے کے دعوؤں کے ساتھ دو سال قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے ڈومیسٹک کرکٹ سسٹم میں یہ دعوے دھرے رہ گئے اور حال ہی میں ختم ہونے والے نیشنل ٹی20 ٹورنامنٹ اور جاری قائد اعظم ٹرافی میں یہ دونوں اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق زائد العمر کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے پی سی بی کی جانب سے ختم کیے گئے ڈپارٹمنٹل کرکٹ ٹیموں کے ساتھ ساتھ 16 ریجنل ٹیموں کو بھی ختم کر کے 6 صوبائی ٹیموں پر تک محدود کردیا گیا جس سے سیکڑوں پیشہ ورانہ کرکٹرز نوکری سے محروم ہو گئے۔

مزید پڑھیں: آنے والے دن پی ایس ایل کے لیے اہم ترین کیوں؟

آسٹریلین کرکٹ سسٹم سے متاثر ہو کر بنائے گئے نئے نظام کو سابق کرکٹرز سمیت تمام حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ نظام آسٹریلیا کے لیے بنا ہے جس کی آبادی محض 6 کروڑ ہے اور یہ پاکستان جیسے ملک میں نہیں چل سکتا جس کی آبادی 22 کروڑ ہے۔

اگر پورے نظام کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معیاری کرکٹ دیکھنے کو ملتی ہے اور نہ زائدالعمر کھلاڑیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکا۔

دونوں ایونٹس میں فتح کے مارجن بہت زیادہ تھے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ کسی بھی طرح کے مسابقتی مقابلے نہیں ہوئے، دلچسپ امر یہ ہے کہ پی سی بی کے منتخب کردہ سلیکٹرز ڈومیسٹک میچوں میں معیاری مقابلے یقینی بنانے کے لیے چھ صوبائی ٹیموں میں توازن قائم کرنے میں بھی کامیاب نہیں رہے، چونکہ کسی کھلاڑی کی جائے پیدائش یا صوبے کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کی سلیکشن پر کوئی پابندی نہیں لہٰذا توازن قائم کرنے کے لیے چھ ٹیموں میں کسی بھی کھلاڑی کو منتخب کرنا آسان تھا۔

یہ بھی پڑھیں: محموداللہ کورونا وائرس کا شکار ہو کر پی ایس ایل پلے آف سے باہر

حال ہی میں ختم ہوئے نیشنل ٹی 20 میں 33 میچز کھیلے گئے لیکن صرف 8 میچوں میں سخت مقابلے ہوئے جبکہ دیگر میچوں میں فتح کا مارجن بہت زیادہ تھا، 11 میچوں میں فتح کا مارجن 6 وکٹوں سے زیادہ تھا جس میں سے ایک میچ میں وکٹوں سے فتح حاصل کی گئی جب سینٹرل پنجاب نے بلوچستان کو زیر کردیا تھا، بعدازاں سینٹرل پنجاب نے ناردرن کو 8 وکٹوں سے شکست دی جبکہ خیبر پختونخوا نے بھی بلوچستان کو 8 وکٹوں سے زیر کیا۔

کئی میچوں میں 7وکٹوں سے فتح حاصل کی گئی، مزید یہ کہ 8 میچوں میں فتح کا مارجن 25 رنز سے زیادہ تھا جبکہ ان میں سے کچھ میچوں میں یہ 79 رنز، 73 رنز یا 70رنز سے زائد تھا۔

قائد اعظم ٹرافی کے ابتدائی دو راؤنڈز کے چھ میچوں میں سندھ نے سینٹرل پنجاب کو 6 وکٹوں سے شکست دی، بلوچستان نے خیبر پختونخوا کو 186 رنز سے مات دی، سدرن پنجاب نے ناردرن کو 96 رنز سے ہرایا جبکہ ناردرن نے بھی سینٹرل پنجاب کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ حکام نے نئے ڈومیسٹک نظام کے حوالے سے مؤقف اپنایا تھا کہ اس نے ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کو ترجیح دی تھی کیونکہ اکثر ٹیمیں زیادہ عمر کے کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں اور نوجوان باصلاحیت کھلاڑیوں کو منتخب نہیں کیا جا رہا تھا، البتہ نیشنل ٹی20 کے ساتھ ساتھ قائد اعظم ٹرافی میں بھی متعدد 30-35 سال کے کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا، اس سب کے ساتھ چند عقل مند ماہرین محسوس کرتے ہیں کہ ہر کوئی جو فٹ ہے اور پرفارم کرتا ہے وہ کارکردگی کا مستحق ہے۔

مزید پڑھیں: کئی ماہ بعد صحتیاب ہونے والے حسن علی محض 39 اوورز کراکے دوبارہ ’زخمی’

کچھ تفصیلات کے مطابق 6 صوبائی ٹیموں میں 104 کھلاڑی کھیل رہے ہیں اور ان میں سے 43 کی عمر 30 سال سے زائد ہے، 43 میں سے نصف سے زائد کی عمر 35 سال سے زیادہ ہے، مزید یہ کہ قائد اعظم ٹرافی میں اب تک 6 ٹیموں میں 92 کھلاڑی نمائندگی کر چکے ہیں اور ان میں سے 44، 30 سال سے زائد جبکہ متعدد کی عمر 35 سال سے زیادہ ہے۔

پی سی بی نے خواہش کا ظہار کیا تھا کہ دو سابق ٹیسٹ کرکٹرز فاسٹ باؤلر عمر گل اور اوپننگ بلے باز عمران فرحت ریٹائرمنٹ لے لیں کیونکہ دونوں کی عمر 37 سال سے زائد ہے اور دونوں نے بورڈ کی اس خواہش کو پورا کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا البتہ اسی عمر کے متعدد دیگر کھلاڑیوں کو کیریئر کو طویل کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اپنے ہی مؤقف کے عین خلاف پی سی بی کے سلیکٹرز نے متعدد زائد العمر کھلاڑیوں کو منتخب کیا ہے جن کی مستقبل میں پاکستان کرکٹ کی نمائندگی کرنے کا کوئی امکان نہیں، ان میں سے کچھ وہ ہیں جو ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اب بھی قومی ٹیم میں جگہ برقرار رکھے ہوئے ہیں جیسے محمد حفیظ (40 سال)، شعیب ملک (39 سال)، وہاب ریاض (35 سال)، اسد شفیق (35 سال)، فواد عالم (34 سال) جبکہ اس کے علاوہ دیگر بھی ہیں جنہیں آزمایا کر اب مسترد کردیا گیا ہے اور جو اب قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے امیدوار نہیں ہیں۔

ان میں کامران اکمل (39 سال)، سہیل خان (37 سال)، سہیل تنویر (36 سال)، محمد عرفان سینئر (38 سال)، عمید آصف (37 سال)، اکبر الرحمٰن (37 سال)، زوہیب خان (37 سال)، سہیل اختر (35 سال)، آصف آفریدی (34 سال)، صہیب مقصود (34 سال)، مصدق احمد (35 سال)، اویس ضیا (34 سال)، احمد جمال (32 سال)، تابش خان (34 سال)، وقاص احمد (32 سال)، کاشف بھٹی (34 سال)، انور علی (33 سال)، سعد نسیم (31 سال)، حماد اعظم (32 سال)، زاہد محمود (33 سال)، عبدالرحمٰن مزمل (31 سال)، اشفاق احمد (34 سال)، نعمان علی (34 سال)، فیضان ریاض (32 سال)، بلال آصف (35 سال)، خالد عثمان (35 سال) اور تاج ولی (30 سال) شامل ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں