مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر کےخلاف مزار قائد کے تقدس کی پامالی کا مقدمہ جھوٹا قرار

اپ ڈیٹ 10 نومبر 2020
چالان کے مطابق شکایت کنندہ وقاص مزار قائد پر حاضر نہیں تھا — فائل فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
چالان کے مطابق شکایت کنندہ وقاص مزار قائد پر حاضر نہیں تھا — فائل فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

کراچی: پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے مقدمے کو 'جھوٹا' قرار دے دیا۔

مقدمے سے متعلق سٹی کورٹ میں ہونے والے سماعت میں پولیس نے استغاثہ کے پیش کردہ اعتراضات کو دور کرکے حتمی چالان جمع کروا دیا جس میں مقدمے کو 'بی کلاس' قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: گرفتار کیپٹن (ر) محمد صفدر کی ضمانت منظور

پیش کردہ چالان میں مزار قائد کے تقدس، اس کے املاک کو نقصان پہنچانے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات خارج کردیے گئے۔

چالان کا عکس
چالان کا عکس

پبلک پراسیکیوٹرز نے پولیس کے پیش کردہ چالان پر اتفاق کرتے ہوئے اسے ’بی کلاس‘ کرکے جھوٹا قرار دے دیا۔

چالان میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر کی متعدد کوشش کے باوجود شکایت کنندہ وقاص احمد خان اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے حاضر نہیں ہوا۔

علاوہ ازیں چالان میں کہا گیا کہ ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس وقت مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر مزار قائد پر حاضری کے لیے موجود تھے تب مدعی مزار قائد پر موجود نہیں تھا۔

چالان میں مدعی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وقاص احمد خان کے کال ڈیٹا ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ وہ مزار قائد میں موجود نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر و دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ

چالان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی مزار قائد پر حاضری کے وقت مزار عام شہریوں کے لیے بند تھا۔

اس ضمن میں استغاثہ نے اسکروٹنی نوٹ میں واضح کیا کہ قائد اعظم مزار سیفٹی اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 ہمارے دائر اختیار میں نہیں آتا، تاہم اگر ایچ ایس او چاہے تو مزار قائد آرڈیننس کے لیے علیحدہ کیس دائر کرنے کا مجاز ہے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما 18 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ ’پولیس نے کراچی کے اس ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کی جانب سے یہ گرفتاری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد سامنے آئی تھی۔

مزید پڑھیں: بلیک میل کرنے کی کوشش کے بجائے ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرو، مریم نواز

کراچی کے ضلع شرقی کے پولیس تھانہ بریگیڈ میں وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی اور قبر کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔

باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی، جیسے ہی فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے تھے، جس پر کیپٹن (ر) صفدر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا جبکہ یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔

اس دوران مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ’مادر ملت زندہ باد‘ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی ردعمل دیا۔

یہ صورتحال چند لمحوں تک جاری رہی تھی جس کے بعد مریم نواز اور دیگر افراد احاطے سے نکل گئے تھے۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں