افغانستان: حملے کے نتیجے میں خاتون پولیس افسر بینائی سے محروم

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2020
خطیرہ نے چند ماہ قبل ہی غزنی پولیس اسٹیشن کے کرائم برانچ میں بطور افسر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا — فوٹو: رائٹرز
خطیرہ نے چند ماہ قبل ہی غزنی پولیس اسٹیشن کے کرائم برانچ میں بطور افسر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا — فوٹو: رائٹرز

افغانستان کے صوبے غزنی میں ایک خاتون پولیس افسر خطیرہ فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئیں اور آنکھوں میں چھری کے وار سے وہ بینائی سے محروم ہوگئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق 33 سالہ خطیرہ نے جو آخری چیز دیکھی وہ موٹر سائیکل پر سوار تین افراد تھے جنہوں نے ان پر افغانستان کے صوبے غزنی میں واقع تھانے میں ڈیوٹی ختم کرکے نکلنے کے بعد حملہ کر دیا تھا۔

حملہ آوروں نے ان پر گولیاں چلائیں اور ان کی آنکھوں میں چھری سے وار کیے تھے۔

حملے کے بعد جب وہ جاگیں تو ہسپتال میں تھیں اور ہر چیز تاریک تھی۔

مزید پڑھیں: افغان اداکارہ اور فلم ڈائریکٹر حملے میں زخمی

انہوں نے کہا کہ میں نے ڈاکٹرز سے پوچھا کہ میں کچھ دیکھ کیوں نہیں پا رہی؟ ڈاکٹرز نے مجھے بتایا کہ میری آنکھوں پر زخموں کی وجہ سے پٹی لگی ہے۔

خطیرہ نے کہا کہ اسی لمحے میں جان گئی تھی کہ انہوں نے میری آنکھیں چھین لی ہیں۔

—فوٹو: رائٹرز
—فوٹو: رائٹرز

حملے سے متاثر ہونے والی خاتون خطیرہ اور مقامی انتظامیہ حملے کا الزام طالبان جنگجوؤں پر عائد کرتے ہیں جو اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

طالبان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے خطیرہ کے والد کے کہنے پر ایسا کیا کیونکہ ان کے والد ان کی ملازمت کے مخالف تھے۔

اس حملے سے خطیرہ نے صرف اپنی بینائی نہیں کھوئی بلکہ ان کا خواب بھی ٹوٹ گیا جس کی تکمیل کے لیے انہوں نے ایک جنگ لڑی تھی۔

خطیرہ نے چند ماہ قبل ہی غزنی پولیس اسٹیشن کے کرائم برانچ میں بطور افسر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کاش میں نے پولیس میں کم از کم ایک سال گزارا ہوتا، اگر یہ حادثہ میرے ساتھ اس کے بعد ہوتا تو یہ کم تکلیف دہ ہوتا، یہ بہت جلد ہو گیا، مجھے ملازمت کرنے اور اپنا خواب جینے کے لیے صرف 3 ماہ ہی ملے۔

خطیرہ پر حملے کے بعد افغانستان میں خواتین کے نوکری کرنے پر شدید ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خطیرہ پر حملہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کا عندیہ ہے کہ خواتین کے ملازمت کرنے پر کتنا شدید اور اکثر پرتشدد ردعمل آسکتا ہے۔

طالبان اس وقت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جس میں اکثر کی جانب سے اقتدار میں طالبان کی واپسی کی توقع ظاہر کی جارہی ہے لیکن اس حوالے سے پیش رفت سست روی کا شکار ہے اور افغانستان بھر میں نامور خواتین اور عہدیداران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی 70 سالہ خاتون کمانڈر کی طالبان میں شمولیت

حالیہ مہینوں میں طالبان نے کہا ہے کہ وہ شریعت اور قانون کے تحت خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے لیکن کئی تعلیم یافتہ خواتین نے کا کہنا ہے کہ انہیں اس حوالے سے شکوک و شبہات ہیں۔

افغانستان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نمائندہ سمیرہ حامدی کہتی ہیں کہ افغان خواتین کے لیے سرکاری کردار ہمیشہ ہی خطرناک رہے ہیں، جبکہ تشدد میں حالیہ اضافے نے یہ معاملات مزید خراب کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے گزشتہ ایک دہائی کے دوران جو اچھے اقدامات کیے گئے ہیں انہیں طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کا شکار نہیں بننا چاہیے۔

خطیرہ کا گھر سے باہر نکل کر کام کرنے کا بچپن کا خواب تھا اور کئی سالوں تک والد کو منانے کی کوشش کے بعد بھی وہ کامیاب نہیں ہوئیں، لیکن شوہر کی حمایت مل گئی۔

تاہم خطیرہ کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے مخالفت کرنے میں ہار نہیں مانی۔

انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ، میں جب ڈیوٹی پر جاتی تو میں نے اپنے والد کو پیچھا کرتے دیکھا، انہوں نے قریبی علاقے میں طالبان سے رابطے شروع کر دیے تھے تاکہ مجھے ملازمت پر جانے سے روک لیں۔

خطیرہ نے کہا کہ ان کے والد نے طالبان کو ان کا آئی ڈی کارڈ دیا تھا تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ پولیس میں کام کرتی ہیں۔

ان کے مطابق جس دن ان پر حملہ ہوا اس روز ان کے والد ان کی لوکیشن پوچھنے کے لیے دن بھر کال کرتے رہے تھے۔

مزید پڑھیں: امن مذاکرات میں خواتین مذاکرات کار سخت گیر طالبان کا سامنا کرنے کو تیار

غزنی پولیس کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ طالبان نے کیا تھا اور خطیرہ کے والد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

دوسری جانب طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہیں لیکن ان کے مطابق یہ خاندانی مسئلہ ہے اور ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حملے کے بعد خطیرہ اپنے 5 بچوں سمیت کابل میں چھپ کر رہ رہی ہیں لیکن وہ صحتیاب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے کیریئر کے لیے افسردہ بھی ہیں۔

وہ سونے کی کوشش کرتی ہیں لیکن جب موٹر سائیکل کی آواز سنتی ہیں تو چونک جاتی ہیں، انہیں اپنے خاندان کے ساتھ رابطہ ختم کرنا پڑ گیا ہے جن میں ان کی والدہ بھی شامل ہیں جو خطیرہ کو والد کی گرفتاری کا قصوروار ٹھہراتی ہیں۔

حملے کے باوجود وہ پُرامید ہیں کہ بیرون ملک کوئی ڈاکٹر شاید انہیں بینائی واپس لوٹادے، انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ ممکن ہوا، اور میری بینائی لوٹ آئی تو میں اپنی ملازمت دوبارہ شروع کروں گی اور پولیس میں خدمات سرانجام دوں گی۔‘

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں