پی ٹی آئی کارکنان ہلاکت کیس: نواز شریف کے خلاف مقدمے کی درخواست بے بنیاد قرار

اپ ڈیٹ 15 نومبر 2020
درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدالت کے تفصیلی حکم میں اسے خارج کردیا گیا—تصویر: اے پی
درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدالت کے تفصیلی حکم میں اسے خارج کردیا گیا—تصویر: اے پی

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پر اسلام آباد میں 2014 کے دھرنے کے دوران جھڑپ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کی ہلاکت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدالت کے تفصیلی حکم میں اسے خارج کردیا گیا اور اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ شاہ محمود قریشی نے نہ تو پولیس میں اس کیس کی پیروی کی اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت بشمول سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق، چودھری نثار علی خان اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف لگائے گئے الزامات کے ثبوت پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی دھرنے میں کارکنان کی ہلاکت: نواز شریف، دیگر کےخلاف قتل کا مقدمہ خارج

مذکورہ درخواست میں جن دیگر افراد کو نامزد کیا گیا تھا ان میں سابق قائم مقام انسپکٹر جنرل آف اسلام آباد پولیس خالد خٹک سمیت پولیس کے دیگر عہدیداران اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ شامل ہے۔

عدالت نے کہا کہ 'معاملے کی تفصیلی تحقیقات کی گئیں اور پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ مظاہرین کا سرکاری عمارت پر قبضے اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کا ارادہ تھا جس کی وجہ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، چنانچہ درخواست/شکایت بغیر میرٹ کے بے بنیاد پائی گئی'۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجا جواب عباد حسن نے عدالتی فیصلے میں مزید کہا کہ 'رپورٹ کی منسوخی کا نوٹس شکایت گزار شاہ محمود قریشی کو دیا جاچکا ہے تاہم متعدد نوٹسز کے باوجود شکایت گزار عدالت میں پیش نہ ہوئے'۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ 'ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 160 کے تحت متعدد مرتبہ ارسال کردہ نوٹس کے باوجود نہ تو شکایت گزار تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوا اور نہ ہی درخواست میں لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش کیا گیا'۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کیخلاف پی اے ٹی کے دو کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج

عدالتی حکم کے مطابق اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی عدالت میں گواہان یا شواہد کی کوئی فہرست بھی نہیں پیش کی گئی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وقوعہ پر ملزمان کی موجودگی کو ثابت کرنے کے لیے بھی تفتیشی افسر کے سامنے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

ساتھ ہی ریکارڈ میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آسکی جو یہ ثابت کرسکے کہ ملزمان نے سیاسی کارکنان پر فائرنگ کا سہارا لیا یا ڈی چوک پر جمع ہونے والے سیاسی کارکنان پر براہ راست فائرنگ کے لیے اپنی اختیارات کا استعمال کیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں