پی ایس ایل سیزن 5 کا فائنل: پاکستان کا ’ایل کلاسیکو‘

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2020

ای میل

جب 20 فروری 2020ء کو پاکستان سپر لیگ کا آغاز ہوا تھا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس سال کیا کچھ ہوگا؟

یہ غیر یقینی کیفیات کا سال ہے، اس صورتحال کا سال ہے کہ جس کا تصور بھی کسی نے نہیں کیا تھا، یہ انہونی کے ہونی بن جانے کا سال ہے اور شاید یہی کچھ ہمیں پی ایس ایل سیزن 5 میں بھی نظر آیا ہے کہ جہاں لیگ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ناکامیاں سمیٹنے والی ٹیمیں، یعنی کراچی کنگز اور لاہور قلندرز فائنل میں پہنچ گئی ہیں۔

جی ہاں! منگل 17 نومبر کو ہمیں نیشنل اسٹیڈیم، کراچی میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ یہ پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی رقابت ہے، جو اب 'پائے بمقابلہ نہاری' اور 'چرغہ بمقابلہ بریانی' جیسی ٹھنڈی جگتوں سے کہیں آگے نکل گئی ہے اور معاملات خاصے سنجیدہ ہو چکے ہیں کیونکہ اب داؤ پر ہے پی ایس ایل کی خوبصورت ٹرافی۔

کراچی کنگز نے تو پہلے کوالیفائر میں ملتان سلطانز کو سپر اوور میں شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی لیکن لاہور نے تو کمال ہی کر دیا۔ ان کو تو ایلیمنیٹر کھیلنا تھے یعنی ہار کا کوئی آپشن نہیں تھا۔ انہوں نے نہ صرف پہلے ناک آؤٹ مقابلے میں پشاور زلمی کو باہر کیا بلکہ 'مائٹی ملتان' کو بھی چاروں خانے چت کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کرلی ہے۔

لاہور اور ملتان کے میچ کی خاص بات ڈیوڈ ویز کی کارکردگی تھی۔ لاہور کا آغاز اچھا تھا، 12 اوورز میں 94 رنز اسکور بورڈ پر جگمگا رہے تھے اور قلندرز ایک بڑے ہدف کے لیے پر تول رہے تھا لیکن مسلسل 3 اوور میں محمد حفیظ، فخر زمان اور بین ڈنک کے آؤٹ ہونے سے لگتا تھا کہ اڑنے سے پہلے ہی پر کٹ گئے۔ 15 ویں اوور میں اسکور 111 رنز تھا اور تمام اہم کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے، نیلسن کی 'نحوست' لاہور کو ڈبونے والی تھی۔

یہاں پر ڈیوڈ ویز کا جادو چل گیا، وہ اننگز کھیلی جو بہت عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔ صرف 21 گیندوں پر 5 چوکوں اور 3 چھکوں کے ساتھ ناٹ آؤٹ 48 رنز بنائے۔ آخری دو اوورز میں تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ 19 ویں اوور میں 3 چوکوں اور ایک چھکے کے ذریعے جنید خان سے 20 رنز لوٹے اور پھر آخری اوور کی آخری 2 گیندوں پر سہیل تنویر کو بھی 2 کرارے چھکے جڑ دیے۔ اس اننگز کی بدولت لاہور نے آخری 3 اوورز میں ہی 49 رنز کا اضافہ کیا اور غالباً یہی میچ کا فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا۔

تعاقب میں جب ملتان 8 اوورز میں 75 رنز بنا چکا تھا تو ایک مرتبہ پھر ویز نے ہی اپنا جادو دکھایا۔ انہوں نے ایڈم لیتھ کی وہ قیمتی وکٹ حاصل کی جو ہر گیند کے ساتھ میچ کو لاہور کی گرفت سے باہر لے جا رہی تھی۔ صرف 29 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد لیتھ جیسے ہی اننگز کو اگلے گیئر میں ڈال رہے تھے ویسے ویز نے انہیں دبوچ لیا۔ یہی نہیں بلکہ ویز نے بعد میں روی بوپارا کی قیمتی وکٹ بھی حاصل کی۔

مسلسل 2 اوورز میں کپتان شان مسعود اور 'مردِ بحران' بوپارا کی وکٹیں گرنے سے جو دھچکا ملتان کو پہنچا، اس سے سلطانز سنبھل نہیں سکے۔ رہی سہی کسر حارث رؤف کے ایک ہی اوور میں رائلی روسو اور شاہد آفریدی کی وکٹیں گرنے سے پوری ہو گئی۔ حارث نے 'لالا' کو اِن سوئنگنگ یارکر پر کلین بولڈ کیا۔ جیسا کہ حارث کی عادت ہے کہ وہ وکٹ لینے کے بعد پورے جوش کے ساتھ اس کا جشن مناتے ہیں، لیکن انہیں یاد آ گیا کہ آؤٹ ہونے والے شاہد آفریدی ہیں اور انہوں نے فوراً ہاتھ جوڑ لیے۔ غالباً یہ میچ کا سب سے خوبصورت لمحہ تھا۔

لیکن یہ دن ڈیوڈ ویز کا تھا۔ وہ لاہور کے لیے گویا پارس کا پتھر تھے، جس چیز کا چھوا، وہ سونا بن گئی۔ پہلے ایک شاندار اننگز کھیلی اور پھر باؤلنگ میں بھی 4 اوورز میں 27 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

یوں پاکستان سپر لیگ کا پانچواں سیزن اپنے اختتام کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے اور سب سے بڑا مقابلہ واقعی 'بہت بڑا مقابلہ' بن گیا ہے۔ اس میں پاکستان ان ٹیموں کو مقابل دیکھے گا، جن کو دیکھنے کی خواہش سب کرتے ہیں۔ پاکستان کا 'ایل کلاسیکو'، جو فائنل میں کھیلا جائے گا۔

لاہور کا فائنل میں پہنچنا اس لیے بھی حیرت انگیز ہے کہ دنیا کے جانے مانے کپتان لاہور کی کارکردگی میں فرق پیدا نہیں کرپائے۔ برینڈن میک کولم، اے بی ڈی ولیئرز اور محمد حفیظ جیسے کھلاڑیوں نے قلندروں کی قیادت کی، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات یعنی پہلے ہی راؤنڈ میں باہر۔ لیکن اس مرتبہ سہیل اختر کی قیادت نے ٹیم میں نہ جانے کون سی بجلی بھر دی کہ کوئی اسے روکتا نہیں دکھائی دیتا۔

پی ایس ایل کا پانچواں سیزن اس لحاظ سے بالکل منفرد تھا کہ اس میں وہ ٹیمیں سب سے پہلے باہر ہوئیں جو اب تک لیگ کی سب سے نمایاں ٹیمیں تھیں۔ جیسا کہ سب سے پہلے اسلام آباد یونائیٹڈ باہر ہوئی کہ جو پی ایس ایل تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے اور 2 مرتبہ چیمپیئن رہ چکی ہے۔

پھر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کہ جو دفاعی چیمپیئن بھی تھا اور مجموعی طور پر تین مرتبہ فائنل کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل کر چکی ہے۔ پھر باری آئی پشاور زلمی کی، جو کوئٹہ ہی کی طرح ایک مرتبہ کی چیمپیئن اور دو مرتبہ کی رنراَپ ہے۔ لیکن اس بار اس کی بھی ایک نہ چلی۔ ایک تو بمشکل اگلے مرحلے تک آئی اور یہاں بھی پہنچتے ہی لاہور قلندرز کے ہاتھوں باہر ہو گیا۔

ویسے لگتا ہے کہ پاکستان پہنچ کر سپر لیگ کی کایا بھی پلٹ گئی ہے۔ اس سے پہلے پی ایس ایل کے چاروں سیزن میں کچھ بلکہ زیادہ تر مقابلے متحدہ عرب امارات ہی میں ہوتے تھے لیکن اس مرتبہ پورا سیزن پاکستان ہی میں کھیلا گیا اور بلاشبہ بہت کامیاب بھی رہا۔

اگر کورونا وائرس کی وبا سے سلسلہ نہ ٹوٹتا تو غالباً پی ایس ایل مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کر دیتا۔ البتہ کارکردگی اور سنسنی خیزی کے اعتبار سے لگتا نہیں کہ لیگ میں میچ اتنے مہینوں کے وقفے کے بعد ہوئے ہیں۔ سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا بالکل وہیں سے جڑتا نظر آیا ہے۔ وہی سنسنی خیزی، وہی جوش، وہی جذبہ اور وہی جذبات۔

آخری بار جب نیشنل اسٹیڈیم میں قلندرز اور کنگز کا مقابلہ ہوا تھا تو کراچی نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی، کیا لاہور اس شکست کا بدلہ فائنل میں لے پائے گا؟