ایران کی جوہری تنصیب پر جدید سینٹری فیوجز فعال ہیں، آئی اے ای اے

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

آئی اے ای اے نے گزشتہ ہفتے ایرانی تنصیبات سے متعلق رپورٹ جاری کردی تھی—فائل/فوٹو: اے ایف پی
آئی اے ای اے نے گزشتہ ہفتے ایرانی تنصیبات سے متعلق رپورٹ جاری کردی تھی—فائل/فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ادارے انٹرنیشل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ ایران نے زیر زمین اپنے اولین جوہری تنصیب میں جدید سینٹری فیوجز کو فعال کرنا شروع کر دیا ہے۔

خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے نے گزشتہ ہفتے رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران نے غیر فعال نطنز سائٹ میں سینٹری فوجیز نصب کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کی غیر اعلانیہ مقامات پر جوہری مواد کی وضاحت ‘غیر معتبر’ ہے، اقوام متحدہ

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جس وقت رپورٹ دی گئی تھی اس وقت انہوں نے سینٹری فیوجز فعال نہیں کیے تھے لیکن اب ایسا ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینٹری فیوجز کی فعالیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یورینیم کی تعداد میں خاص اضافہ کیا جائے گا کیونکہ انہوں نے یہ مختلف تنصیبات سے منتقل کیا ہے۔

آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران کے یورینیم کا ذخیرہ 2015 کے معاہدے کے مقابلے میں اب 12 گنا زیادہ ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے عالمی طاقتوں سے 2015 کے معاہدے کے تحت مخصوص سینٹری فوجیز کو یورینیم کی فراہمی کی جانی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا اور ایران پر پابندیاں بھی عائد کردی تھی، جس کے جواب میں ایران نے گزشتہ برس معاہدے کی خلاف ورزی شروع کی تھی۔

رواں ہفتے امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اپنے قومی سلامتی کے سینیئر مشیروں سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے امکانات سے متعلق سوالات کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے مشیروں سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی بات کی، امریکی اخبار کا انکشاف

رپورٹ میں چار موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ یہ ملاقات 12 نومبر کو اوول آفس میں ہوئی تھی جبکہ ایک روز قبل آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ جاری کی تھی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں نے خبردار کیا تھا کہ ان کی جانب سے صدارتی مدت کے آخری ہفتوں کے دوران اس طرح کا اقدام ایک بڑا تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔

عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے سینیئر مشیروں سے پوچھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے کون سے آپشن ہیں اور ان کا کیا جواب دیا جائے'۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حملے کا امکان ایران کے افزودگی پروگرام کے مرکز 'نطنز' پر تھا جس کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ یہ صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے ایرانی تنصیبات پر امریکا کے حملے کے خدشات سے متعلق سوال پر کہا کہ ‘میں صرف قیاس آرائی پر کوئی بات نہیں کروں گا، ہمیں اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی’۔

رپورٹس کے مطابق رواں برس جولائی میں نطنز جوہری تنصیب پر دھماکے سے نقصان پہنچا تھا، جس پر ایران نے الزام لگایا تھا کہ اس کو 'سبوتاژ' کیا گیا ہے۔

رافیل گروسی نے آئی اے ای اے کی رپورٹ کے دیگر پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر اعلانیہ مقام پر جوہری مواد کی موجودگی سے متعلق ایران کی وضاحت ناکافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ تنصیبات تہران کے ضلع تورقوز آباد میں ہیں اور جو کچھ وہ ہمیں بتار ہے ہیں وہ تکنیکی اعتبار سے کافی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی اکیڈمک مشق نہیں ہے، انہیں وضاحت دینی ہے کہ ہم نے جو کچھ دیکھا وہ کیوں تھا۔

خیال رہے کہ آئی اے ای اے نے گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ غیر اعلانیہ مقامات پر جوہری مواد کی موجودگی سے متعلق ایران کی وضاحت ‘معتبر نہیں’ ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کا ایک ہزار سے زائد سینٹری فیوجز کو گیس فراہمی کا اعلان

بیان میں مزید کہا تھا کہ ایرانی حکام کی جانب سے جوہری مقامات کے حوالے سے کچھ معلومات فراہم کی گئیں اور ‘ایجنسی نے ایران کو آگاہ کیا کہ ان کا جواب تکنیکی حوالے سے معتبر نہیں تاہم بدستور زیر غور ہے’۔

آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ ‘ایران کے ایک مقام پر یورینیم کے ذرات کی موجودگی سے متعلق مکمل رپورٹ میں ایجنسی کو درکار وضاحت موجود نہیں ہے’۔

یاد رہے کہ رواں برس اگست میں ایران نے اقوام متحدہ کے ادارے ’آئی اے ای اے’ کے ساتھ ایک ماہ کی کشمکش کے بعد 2 سابقہ خفیہ ایٹمی تنصیبات تک رسائی دینے پر اتفاق کرلیا تھا۔

رافیل گروسی نے تہران کا دورہ کیا تھا اور اسی دوران اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے نتیجے میں معاہدہ طے ہوا تھا۔

رافیل گروسی اور ایرانی جوہری ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ 'ایران رضاکارانہ طور پر آئی اے ای اے کو ان کی جانب سے بتائے گئے 2 مقامات تک رسائی دے گا'۔

آئی اے ای اے نے واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدلے میں ایران سے اس سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا۔

اس سے قبل آئی اے ای اے نے تہران اور اصفہان میں تنصیبات تک رسائی کی مہینوں تک کوشش کی تھی، جس کے بارے میں ایران پر الزام تھا کہ وہاں غیر اعلانیہ جوہری مواد رکھا ہوا ہے جو ہتھیار بنانے میں استعمال ہو رہا ہے۔