جہلم میں سیمنٹ فیکٹریوں پر پانی کے تحفظ کے چارجز عائد کیے جانے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

سپریم کورٹ نے کٹاس راج تالاب خشک ہونے پر ازخود نوٹس لیا تھا— فائل فوٹو: اے پی پی
سپریم کورٹ نے کٹاس راج تالاب خشک ہونے پر ازخود نوٹس لیا تھا— فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ کو بدھ کے روز مطلع کیا گیا کہ جہلم کی غیرفعال ڈسٹرکٹ کونسل نے سیمنٹ فیکٹریوں اور بھاری صنعتی یونٹس پر پانی کے تحفظ کے چارجز عائد کردیے تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جہلم کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری فیصل حسین کی پیش کردہ ایک رپورٹ کے مطابق غیرفعال ضلعی کونسل نے مذکورہ یونٹس پر تجارتی استعمال کی جانچ کے لیے غریب وال سیمنٹ فیکٹری، ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری اور بیسٹ وے سیمنٹ کمپنی کے تین آبی وسائل پر واٹر میٹر لگائے تھے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کیلئے ڈیم کا پانی استعمال کرنے کے چارجز میں اضافہ

عدالت کو یہ معلومات کٹاس راج تالاب کے خشک ہونے کے بارے میں ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دی گئی جسے ہندو مقدس سمجھتے ہیں۔

6 نومبر کو سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے واٹر چارجز کی بدولت حاصل ہونے والی رقم سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار کی رپورٹ پیش کرے۔

2018 میں سپریم کورٹ نے سیمنٹ فیکٹریوں کے ذریعے زیر زمین پانی نکالنے پر پابندی عائد کردی تھی۔

تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان صنعتی یونٹوں میں پانی کے میٹر لگائے گئے تھے لیکن گھریلو استعمال کے لیے کٹوتی کا حساب نہیں لگایا جاسکتا ہے کیوں کہ پنجاب کی مقامی حکومت کے محکمے کی جانب سے ابھی تک گھریلو شرح کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غریبوال سیمنٹ فیکٹری کی انتظامیہ نے پلانٹ سے 20 کلومیٹر دور پنڈ دادن خان میں آبی وسائل تیار کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: زبردست بارشوں سے آبی ذخائر کی سطح میں ریکارڈ اضافہ

پانی کو اصل ذریعے کی بدولت فیکٹری میں پائپ لائنوں کے ذریعے لایا جاتا ہے جبکہ غیرفعال ضلعی کونسل نے گھریلو استعمال کا اندازہ لگانے کے لیے فیکٹری کے اندر چھوٹے میٹر نصب کردیے تھے جبکہ تجارتی استعمال کی حد کے تعین کے لیے ایک واٹر میٹر لگائے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 26 نومبر 2018 کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے سبب غریب وال فیکٹری نے ضلعی کونسل کو پانی کے تحفظ کی مد میں کچھ بھی رقم ادا نہیں کی تھی۔

فیکٹری کے مئی 2018 اور اکتوبر 2020 کے درمیان استعمال کی جانے والی خدمات کے عوض فیکٹری پر 59 کروڑ روپے کی رقم واجب الادا ہے۔

اسی طرح ڈنڈوٹ سیمنٹ فیکٹری نے مئی 2018 سے اکتوبر 2019 تک پانی کے تحفظ کے چارجز کی مد میں بطور 10 کروڑ 90 لاکھ روپے کے مقابلے میں 10 کروڑ روپے ادا کیے ہیں، فیکٹری کے آبی وسائل کے ذریعے قدرتی چشمہ ہیں، پانی پہلے دو تالابوں میں جمع ہوتا ہے اور پھر اسٹیل پائپ لائنوں کے ذریعے فیکٹری کو فراہم کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: خوبصورت سیاحتی مقام کٹاس راج

واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث پچھلے سال یکم نومبر کو پانی کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا، انتظامیہ میں تبدیلی اور مزدوروں کو ادائیگی جیسے داخلی معاملات کی وجہ سے یہ فیکٹری گزشتہ سال نومبر سے بند ہے۔

چاؤ سیدن شاہ میں بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری نے جہلم کی غیرفعال ضلعی کونسل سے منظوری ملنے کے بعد ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی نکالنا شروع کردیا تھا۔

فیکٹری پہلے ہی 2 کروڑ 82 لاکھ روپے کے پورے واجبات ادا کر چکی ہے لیکن پچھلے سال مئی سے پانی نکالنا بند کردیا ہے، فیکٹری نے پنڈ دادن خان کونسل میں پانی نکالنے کے لیے درخواست دی ہے۔

اقلیتوں کی عبادت گاہیں

سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ رام چندر مندر کے ساتھ ساتھ کٹاس راج کے اندر موجود مندر میں ایک بھی دیوتا دستیاب نہیں ہے۔

رمیش وانکواانی نے کہا کہ ملک میں ایک ہزار 221 ہندو مندر اور 589 گردوارے ہیں جبکہ ہندو برادری کی 15ہزار 849 ایکڑ اراضی متروکہ وقف املاک کے قبضہ میں ہے لیکن اس وقت صرف 31 مندر اور گردوارے کام کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کٹاس راج رو رہا ہے مگر ہم اسے بچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

چونکہ کٹاس راج مندر میں کوئی مستقل عبادت گزار نہیں ہے اس لیے جب بھی ضرورت ہو تو سکھر سے کسی عبادت گزار کو لایا جاتا ہے۔

عدالت نے متروکہ وقف املاک کے چیئرمین کو آئندہ سماعت کے دوران اقلیتوں کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔