اسٹیٹ بینک نے پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کے خطرے سے آگاہ کردیا

21 نومبر 2020
بیرون ملک کام کرنے والوں میں سے 91فیصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرتے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
بیرون ملک کام کرنے والوں میں سے 91فیصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرتے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرون ملک مقیم کارکنوں کی زبردستی وطن واپسی پر انتباہ جاری کیا ہے کہ یہ اقدام ملکی معیشت کے لیے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے اور حکومت سے صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنے پر زور دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک نے حال ہی میں جاری کردہ ریاست پاکستان کی معیشت 20-2019 کی پالیسی کے بیان میں کہا کہ اگرچہ کووڈ-19 کے بحران کے اچانک ہونے کے سبب قلیل سے درمیانی مدتی توجہ مرکوز کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، حکومت کو بھی ایک طویل المیعاد حکمت معلی وضع کرنی چاہیے اور نقل مکانی کی جامع پالیسی کو اپنانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: زلفی بخاری کی تارکین وطن سے 15 اگست کو بھارتی سفارتخانوں کے باہر احتجاج کرنے کی اپیل

اس میں مزید کہا گیا کہ اگر مہاجرین کو جبری وطن واپسی پر مجبور کیا جاتا ہے تو موجودہ فریم ورک ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے کوئی جامع عملی منصوبہ پیش نہیں کرتا۔

سالانہ رپورٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور خاص طور پر خلیجی خطے میں کارکنوں کی جبری وطن واپسی سے پیدا ہونے والی ممکنہ سنگین صورتحال کے بارے میں ایک جامع خاکہ فراہم کیا گیا۔

بیرون ملک جن ایک لاکھ ملازمتوں کے لیے بھرتی کا عمل جاری تھا وہ کووڈ-19 کے باعث درہم برہم ہوگیا ہے اور جب تک بھرتی منصوبوں کو بحال نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ نوکریاں دوبارہ آنے کا امکان نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کو پاکستانی تارکین وطن کیلئے ویزا کے عمل میں آسانی پیدا کرنے کی ہدایت

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 50ہزار پاکستانی تارکین وطن کو مختلف ممالک میں چھٹیوں کا سامنا کرنا پڑا، یہ ملازمتیں قلیل مدت میں بحال نہیں ہوسکتیں اور اس طرح وہ انتہائی خطرے سے دوچار ہیں۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لگ بھگ 60ہزار پاکستانیوں کو بیرون ملک کام کے لیے بھرتی کیا گیا تھا لیکن سفری پابندیوں اور فلائٹ آپریشن معطل ہونے کی وجہ سے وہ بیرون ملک نہیں جاسکے، بی ای او ای نے ان ملازمتوں کو انتہائی خطرے سے دوچار قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ 50ہزار تارکین وطن 20 جون تک ادائیگی یا بلا معاوضہ چھٹیوں پر واپس آئے، ان افراد کو نوکریوں سے فارغ نہیں کیا گیا لیکن ان کی ملازمت کا تسلسل خطرے میں ہے۔

جبری برطرفی کی صورت میں مزدوروں کو معاوضہ اور دیگر واجبات بھی نہیں ملے اور اسی وجہ سے خود ہی سفر کے اخراجات کا بندوبست کرنا مشکل ہوگیا، اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی حالیہ تعداد خلیجی خطے میں زیادہ ہے جس میں صرف دو ممالک یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں 91 فیصد سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: تارکین وطن یا ہجرت کرنے والوں کی زندگی کا مثبت چہرہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل سے جون کے دوران قومی ایئر لائن نے 490 خصوصی پروازیں کی اور اپریل سے جون کے دوران 90ہزار 308 شہریوں کو وطن واپس بھیج لایا گیا۔

کووڈ۔19 سے پہلے ہی نقل مکانی کے اہم مقامات سعودی عرب، کویت اور دیگر نے داخلی اصلاحات کا عمل شروع کیا تھا اور مقامی کارکنوں کی بھرتی کی حوصلہ افزائی کے لیے جامع اقدامات اٹھائے تھے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں