تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2020

ای میل

خادم حسین رضوی کا انتقال 19 نومبر کو ہوا تھا—فائل فوٹو: ٹوئٹر/ ڈان نیوز
خادم حسین رضوی کا انتقال 19 نومبر کو ہوا تھا—فائل فوٹو: ٹوئٹر/ ڈان نیوز
نماز جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد شریک تھی—فوٹو: اے ایف پی
نماز جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد شریک تھی—فوٹو: اے ایف پی

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے انتقال کرجانے والے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی نے پڑھائی۔

نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی جبکہ خادم حسین رضوی کے جسد خاکی کو ایمبولنس کے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا تھا۔

علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے بھی خصوصی انتظام کیے گئے تھے جبکہ لاہور ٹریفک پولیس افسر کے مطابق 5 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور 36 انسپکٹر شہر میں ٹریفک کے انتظامات کو دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

خادم حسین رضوی کا جسد خالی ایمبولنس میں لایا گیا—اسکرین شاٹ
خادم حسین رضوی کا جسد خالی ایمبولنس میں لایا گیا—اسکرین شاٹ

نماز کے ادائیگی کے بعد جسد خاکی کو لاہور کے مختلف راستوں نیازی شہید انٹرچینج، بند رود، بابو سابو انٹرچینج سے لے جاکر یتیم خانہ چوک کے قریب مسجد و مدرسہ رحمت الالعالمین کے احاطے میں سپردخاک کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے

واضح رہے کہ خادم حسین رضوی اسی مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔

سربراہ ٹی ایل پی کے جنازے کے موقع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی جبکہ کچھ افراد کی جانب سے موبائل فون کے سگنل میں دشواری کی شکایات بھی موصول ہوئیں۔

خیال رہے کہ 19 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی 54 برس کی عمر میں لاہور کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔

ٹی ایل پی کے ترجمان حمزہ نے بتایا تھا کہ خادم حسین رضوی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا اور گزشہ چند دنوں سے بخار تھا۔

19 نومبر کی دوپہر کو ان کی طبیعت بگڑی تھی جس پر انہیں شیخ زید ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں رپورٹس کے مطابق انہیں مردہ قرار دیا گیا تھا تاہم ان کے اہلِ خانہ انہیں نزدیکی نجی ہسپتال لے کر گئے جہاں ان کی وفات کی تصدیق کی گئی تھی۔

خادم رضوی کے انتقال پر چند لوگوں نے ان کی موت کی وجہ کووِڈ 19 کو قرار دیا تھا جبکہ دیگر نے کہا تھا کہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی تاہم ان کے اہلِ خانہ اور ان کی پارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر موت کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

خادم حسین رضوی کے سوگواران میں دو بیٹے، تین بیٹیاں اور بیوہ شامل ہیں۔

سعد حسین رضوی ٹی ایل پی کے نئے امیر

ادھر نماز جنازہ کے موقع پر ٹی ایل پی کے نئے امیر کا بھی اعلان کردیا گیا اور خادم حسین رضوی کے بڑے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی کو نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔

اس حوالے سے جنازے میں شریک تحریک لبیک یارسول کے سربراہ آصف اشرف جلالی نے ڈان کو بتایا کہ سعد حسین رضوی کو ٹی ایل پی کا نیا امیر بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعد حسین رضوی علامہ خادم حسین رضوی کے بڑے بیٹے ہیں۔

قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ٹی ایل پی کارکنان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے لیے ان کا متبادل تلاش کرنا مشکل وقت ہوگا، ہوسکتا ہے جلد ہی پارٹی شوریٰ کا اجلاس ہو جس میں موجودہ نائب سید ظہرالاسلام حسن یا ان کے دونوں بیٹوں میں سے کسی ایک کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا جائے۔

تاہم کارکنان کے مطابق ایسی عمدہ شخصیت کی جگہ لینا نہ ہی ان کے جانشین اور نہ ہی جماعت کے لیے آسان ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ابھی پارٹی کی جانب سے ان کے جانشین یا شوریٰ کے اجلاس سے متعلق باقاعدہ کچھ نہیں کہا گیا۔

اس حوالے سے ایک پارٹی کے رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ ’کارکنان اور پارٹی قیادت کو اس اچانک پہنچنے والے صدمے س نکلنے کے لیے وقت لگے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹی ایل پی ایک سیاسی نہیں مذہبی جماعت ہے، جہاں اس کا قائد مذہبی اور روحانی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی، مذہبی اور ذاتی اطاعت بھی رکھتا ہے، چونکہ یہ نقصان تمام کارکنان کے لیے ذاتی ہے اور اسے تسلیم کرنے اور اس سے نکلنے میں وقت لگے گا۔

خادم حسین رضوی کون تھے؟

خادم حسین رضوی 22 جون 1966 کو پنجاب کے ضلع اٹک میں نکہ توت میں اجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے جبکہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنی بتدائی زندگی کے بارے میں اپنے قریبی لوگوں کو بھی زیادہ نہیں بتایا۔

انہوں نے جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سے مذاکرات کامیاب: ٹی ایل پی فیض آباد دھرنا ختم کرنے پر آمادہ

علامہ خادم حسین رضوی حافظ قرآن اور شیخ الحدیث تھے اور لاہور میں داتا دربار کے قریب پیر مکی مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کرتے تھے۔

انہوں نے تصدیق کی تھی کہ وہ 2006 میں گوجرانوالہ کے قریب ایک حادثے کا شکار ہوئے تھے جس کے بعد سے وہیل چیئر پر ہیں جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے یہ حادثہ ان کی گاڑی کے ڈرائیور کی وجہ سے پیش آیا تھا جو گاڑی چلاتے ہوئے سو گئے تھے۔

علامہ خادم حسین رضوی کی گاڑی راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی تھی۔

وہ مشہور اسلامی اسکالر امام احمد رضا خان بریلوی کے پیروکار تھے۔


اضافی رپورٹنگ: محمد تیمور