سربیائی آرتھوڈوکس چرچ کے روحانی پیشوا کورونا سے چل بسے

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2020

ای میل

90 سالہ بطریق اعظم رواں ماہ کے آغاز میں کورونا کا شکار ہوئے تھے—فائل فوٹو: اے پی
90 سالہ بطریق اعظم رواں ماہ کے آغاز میں کورونا کا شکار ہوئے تھے—فائل فوٹو: اے پی

یورپی ملک سربیا کے قدامت پسند مسیحی فرقے آرتھوڈوکس کلیسا کے روحانی پیشوا یعنی بطریق اعظم کورونا سے چل بسے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق سربیائی راسخ الاعتقاد کلیسا کے پیٹری آرک، جسے بطریق اعظم یا روحانی پیشوا بھی کہا جاتا ہے، 90 سال کی عمر میں کورونا سے متاثر ہونے کے بعد 19 نومبر کو چل بسے۔

سربیائی اورتھوڈوکس مسیحی، کیتھولک مسیحیوں سے الگ ہیں اور وہ ویٹی کن سٹی یا پوپ فرانسس کو نہیں مانتے۔

آرتھوڈوکس مسیحیوں کے بھی متعدد فرقے ہیں اور سربیائی آرتھوڈوکس کلیسا کے دنیا بھر میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد پیروکار ہیں۔

اگرچہ یورپی ملک سربیا کی مجموعی آبادی 75 لاکھ تک ہے اور وہاں کی کچھ آبادی کیتھولک عقائد کی پیروکار ہیں، تاہم سربیائی کلیسا کے پیروکار یورپ کے دیگر ممالک سمیت امریکا اور آسٹریلیا میں بھی بستے ہیں۔

سربیائی راسخ الاعتقاد کلیسا جسے عام طور پر 'سربین آرتھوڈوکس چرچ' کہا جاتا ہے اس کے سربراہ یا روحانی پیشوا کو 'پیٹری آرک' کا خطاب دیا جاتا ہے، جسے بطریق اعظم یا سردار بھی کہتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق سربیائی آرتھوڈوکس کے پیٹری آرک 90 سالہ ارنجی رواں ماہ 4 نومبر کو کورونا کا شکار ہوئے تھے اور انہیں فوجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا کا شکار ہوکر چل بسنے والے مسیحی بطریق اعظم نے گزشتہ ماہ اکتوبر میں پڑوسی ملک مونٹینیگرو میں ایک اعلیٰ مسیحی عالم کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی، جو بظاہر نمونیا کی وجہ سے چل بسے تھے مگر ان میں بھی کورونا کی علامات پائی گئی تھیں۔

روحانی پیشوا نے کورونا سے متاثر ہوکر مرنے والے مسیحی عالم کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی—فوٹو: شٹر اسٹاک
روحانی پیشوا نے کورونا سے متاثر ہوکر مرنے والے مسیحی عالم کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی—فوٹو: شٹر اسٹاک

اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کورونا کے باعث چل بسنے والے سربیائی آرتھوڈوکس کے بطریق اعظم نے جس مسیحی عالم کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی وہ کورونا سے حفاظتی انتظامات کے سخت خلاف تھے، تاہم وہ بھی زندگی کے آخری ایام میں کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بطریق اعظم نے جس مسیحی عالم کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی، اس میں دیگر درجنوں افراد نے بھی شرکت کی تھی اور لوگوں نے مرنے والے عالم کی لاش کو چوما بھی تھا۔

رپورٹ کے مطابق درجنوں لوگ فیس ماسک کے بغیر آخری رسومات میں شریک ہوئے تھے اور کورونا سے متاثر ہوکر مرنے والے مذہبی عالم کی لاش کو تابوت میں عوام کے لیے کھلا رکھا گیا تھا۔

مذکورہ تقریب میں شرکت کرنے اور مرنے والے مذہبی عالم کی آخری رسومات ادا کرنے کے بعد ہی سربیائی آرتھوڈوکس کے روحانی پیشوا کورونا میں مبتلا ہوئے اور 20 دن تک بیمار رہنے کے بعد 19 نومبر کو چل بسے۔

مرنے والے آرتھوڈوکس چرچ کے روحانی پیشوا کئی دہائیوں سے منصب پر فائز تھے، انہیں سخت مذہبی عالم سمجھا جاتا تھا۔

مرنے والے 90 سالہ بطریق اعظم ارنجی اسقاط حمل کے سخت مخالف تھے اور وہ ہر بار کہا کرتے تھے کہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرکے قوم کی نسل کو بڑھانا چاہیے۔

مرنے والے بطریق اعظم ہم جنس پرستی کے سخت مخالف تھے اور وہ سربیائی حکومت کی جانب سے ہم جنس پرستوں کے لیے نرم پالیسیاں رکھنے سمیت حکومت کی جانب سے خواتین کی نیم عریاں آزادی جیسے اقدامات پر برہمی کا اظہار کرتے رہتے تھے۔

کورونا سے مرنے والے بطریق اعظم سخت گیر تصور کیے جاتے تھے—فوٹو: شٹر اسٹاک
کورونا سے مرنے والے بطریق اعظم سخت گیر تصور کیے جاتے تھے—فوٹو: شٹر اسٹاک