ڈی سی اسلام آباد کا پولیس حراست میں ایک شخص کی ہلاکت پر تحقیقات کا حکم

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2020

ای میل

حمزہ شفقت نے تحقیقات کا حکم دیا—فائل فوٹو: اے پی پی
حمزہ شفقت نے تحقیقات کا حکم دیا—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقت نے کچھ دن قبل پولیس حراست میں ایک شخص کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق محمد حمزہ شفقت سے رابطہ کرنے پر انہوں نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کو ایک ماہ کے اندر تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ ان کے دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

خیال رہے کہ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس شخص کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر 6 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ دوران تفتیش اس شخص نے 9 اکتوبر ایک ڈکیتی کی واردات میں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کو اس وقت جائے وقوع سے گرفتار کیا گیا جب اس نے فرار ہونے کی غرض سے ایف-10/3 میں ایک چلتی کار سے چھلانگ لگائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی حدود میں زیر حراست ملزم کا قتل، 14 پولیس اہلکار معطل

جس کے نتیجے میں اسے کافی چوٹیں آئی تھیں اور وہ بیہوش ہوگیا تھا، بعد ازاں اسے ہسپتال لے جایا جارہا تھا کہ وہ دم توڑ گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 6 نومبر کو رات 9 بج کر 15 منٹ پر اس شخص کو مردہ حالت میں پمز ہسپتال لایا گیا تھا جبکہ اگلے دن لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا تاہم جب پوسٹ مارٹم کیا گیا اور پولیس ہسپتال سے لاش لے کر گئی تب متوفی کے گھر کا کوئی رکن موجود نہیں تھا۔

پولیس میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم میں جسم پر چوٹ کے نشانات ملے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جسم پر 10 زخم موجود تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کھوپڑی اندر سے زخمی اور پھٹی ہوئی پائی گئی جبکہ دماغ میں بھی مختلف چوٹیں نظر آئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ بائیں آنکھ کی بائیں جانب چوٹ اور رگڑ کے نشانات تھے جو بائیں بازو پر اور دائیں بازو کے پچھلے حصے پر بھی دیکھے جاسکتے تھے، مزید یہ کہ گھٹنے اور ٹخنے کے بائیں ٹانگ کے اگلے حصے پر زخم اور رگڑ تھی جبکہ گھٹنے اور ٹخنے کے درمیان دائیں ٹانگ کے گلے حصے پر رگڑ کے نشانات تھے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: پولیس حراست میں ملزم کی پراسرار ہلاکت، تھانہ ایس ایچ او معطل

بائیں تلوے اور دائیں پنجے سمیت دائیں اور بائیں کولہوں پر بھی زخموں کے نشان پائے گئے۔

ادھر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (پمز) ہسپتال کے سابق میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر وسیم خواجہ نے ڈان کو بتایا کہ پولیس کے تشدد کے معاملے میں عموماً زخم کولہوں، پاؤں کے تلووں اور ٹانگوں کے نچلے حصے کی اگلی طرف پر آتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پولیس معلومات نکلوانے کے لیے چمڑے یا لکڑی سے بنے ہوئے کند ہتھیاروں کا استعمال کرتی ہے۔

خیال رہے کہ 2010 میں کیپیٹل پولیس نے تمام اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز)، کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے انچارچز، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ اور اینٹی کار لفٹنگ سیل کے انچارجز سے یہ بیان حلفی لیا تھا کہ وہ حراست کے دوران ملزمان پر تشدد کا سہارا نہیں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ’تشدد سے ہلاک‘ ہونے والے صلاح الدین کے اہلِ خانہ نے پولیس اہلکاروں کو معاف کردیا

یہ اقدام دارالحکومت پولیس نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر لیا تھا۔

بیان حلفی میں کہا گیا تھا کہ حکام تفتیش کا بہانہ بناکر اپنا کوئی ذاتی یا خفیہ ٹارچر سیل (عقوبہ خانہ) نہیں چلائیں گے اور نہ تفتیش کے دوران کسی مشتبہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنائیں گے۔

ادھر جب ڈپٹی انسپکٹر آف جنرل (آپریشنز) وقار الدین سید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے پولیس کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی پی) کی جانب سے کیس سے متعلق ہدایات کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

جب انہیں بتایا گیا کہ انہیں انکوائری کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے تعینات کیا گیا اور ایک ہفتے میں رپورٹ میں آئی جی پی کے دفتر میں جمع کرانے کا کہا گیا ہے تو ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ وہ تفتیش کے اسٹیٹس کا جائزہ لیں گے۔


یہ خبر 22 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔