فوج سیاست میں مداخلت کرے گی تو نام بھی لیا جائے گا، مولانا فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2020

ای میل

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ نے کہا ہے کہ فوج دفاعی ادارہ ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں لیکن سیاست میں مداخلت ہوگی تو تنقید بھی کی جائے گی اور نام بھی لیا جائے گا۔

پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم کے تحت تاریخی اور فقیدالمثال کانفرنس کے انعقاد پر پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اس کی کامیابی اور جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے جو توانائیاں صرف کی ہیں اس پر مبارک باد دیتا ہوں۔

پی ڈیم ایم کے سربراہ نے مریم نواز، نواز شریف اور پورے خاندان سے تعزیت کی اور سابق وزیراعظم کی والدہ کی مغفرت کے لیے دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ میں اس اسٹیج سے جسٹس وقار سیٹھ اور علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال پر افسوس اور ان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

مزید پڑھیں: نہ پنڈی، نہ آبپارہ کی رائے چلے گی، فیصلے عوام کریں گے، بلاول

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے گجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ میں جلسہ کیا اور آج اہل پشاور اور خیبر پختونخوا کے عوام نے ریفرنڈم کیا اور عظیم الشان جلسے کے ذریعے دھاندلی کے تحت آنے والی حکومت کومسترد کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے پہلے ہی دن اعلان کیا تھا الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا تھا اور وہ آواز آج عام آدمی کی آواز بن گئی اور اب پوری قوم کی متفقہ آواز ہے اور جلسوں سے حکومت اور ان کے پشتی بان بوکھلائے ہوئے ہیں لیکن آگے بڑھنا اور ان کے اقتدار کے قلعے کو فتح کرنا ہے اور انہیں یہاں سے ذلت و رسوائی کے ساتھ نکالنا ہے'۔

'میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہے'

انہوں نے کہا کہ 'جنگ کا اعلان ہم کر چکے ہیں، اب میدان جنگ ہے اور جنگ سے پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہے، ہم نے چیلنج کردیا ہے اور واضح طور پر کہنا چاہتا ہیں، ہمارا مؤقف واضح ہے، دھاندلی ہوئی ہے، دھاندلی کی گئی ہے، ہمیں دھاندلی کرنے والا بھی معلوم ہے اور وہ جو نامعلوم ہے وہ ہم سب کو معلوم ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم فوج اور ادارے کا احترام کرتے ہیں اگر وہ ہمارا دفاعی ادارہ ہے، اگر دفاعی ادارہ تو ہماری سر آنکھوں پر لیکن اگر وہ سیاسی ادارہ بننے کی کوشش کرے گا تو پھر تنقید برداشت کرنی ہوگی، پھر یہ مت کہیں کہ ہمارا نام نہ لیا کرو، پھر تمھارا نام بھی لیا جائے گا اور پھر تم پر تنقید بھی کی جائے گی، پھر آپ کے سامنے کلمہ حق بھی کہا جائے گا، ہم آج بھی آپ کو مہلت دیتے ہیں کہ آپ ان کی پشتی بانی سے پیچھے ہٹ جائیں، دستبردار ہوجائیں اور کہہ دیں کہ یہ حکومت ہماری نہیں ہے اور آپ حکومت کے خلاف آواز ہمارے ساتھ ملائیں، پھر ہم آپ بھائی بھائی ہیں'۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ 'آپ سیاست میں کیوں آتے ہیں، اپنے دفاع سے کام رکھیں، دفاع کا کام کریں گے تو ہم آپ کے ساتھ ہیں'۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'آپ دھاندلی کریں وہ جرم نہیں، ہم دھاندلی کے خلاف احتجاج کریں تو آپ ہم سے خفا ہوتے ہیں پھر خفا نہ ہونا بلکہ برداشت کرنا لیکن بڑی وضاحت کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ دو سال کے عرصے میں تم نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کردیا ہے اور جب کسی ملک کی معیشت گرتی ہے تو پھر وہ ریاست باقی نہیں رہ سکتی، ریاست کی بقا کا دار ومدار مستحکم معیشت پر ہوا کرتا ہے، جب ہم حکومت چھوڑ رہے تھے تو ہم نے بجٹ میں کہا تھا کہ آئندہ سال اس ملک کی ترقی کا تخمینہ ساڑھے 5 فیصد ہوگا اور اس سے اگلے سال ساڑھے 6 فیصد ہوگا'۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو حکومت ملی اور آپ کی حکومت کے پہلے سال ترقی کا تخمینہ ایک اعشاریہ 8 پر آیا اور دوسرے سال کے بجٹ میں صفر اعشاریہ 4 پر آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم کا کراچی جلسہ: پورا دن جلسہ گاہ میں کیا کچھ دیکھا

ان کا کہنا تھا کہ 'اسٹیٹ بینک نے تین روز پہلے اپنی رپورٹ جاری کی ہے کہ 1951 اور 1952 کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پاکستان کا سالانہ بجٹ صفر اعشاریہ 4 پر آیا ہے، یعنی اگلے سال کوئی ترقی نہیں اور اس سے اگلے سال بھی کسی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہے پھر ہمیں کہتے ہیں معیشت کی بہتری کے اشارے مل رہے ہیں، یہ اشارے کہاں سے مل رہے ہیں، یہ کس چیز کے اشارے ہیں'۔

حکومت کی معاشی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ایک بھوکا بازار میں کھڑا ہے اور بلبلا رہا ہے، ایک آدمی گزرتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میرے پیچھے کوئی آدمی آرہا ہے شاید وہ آپ کے لیے کھانا لے آئے، اس کو کہتے ہیں اشارہ، اب اس اشارے سے کوئی فرق آیا، بات بنیادی یہ ہے کہ ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کردیا، آج ہم اس قابل نہیں ہیں کہ دنیا کا کوئی ملک ہم سے تعلقات قائم کرے'۔

انہوں نے کہا کہ 'وہ بھارت، جب واجپائی وزیراعظم تھا تو وہ پاکستان بس کے ذریعے آیا، لاہور میں اترا، مینار پاکستان پر کھڑا ہوا اور پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا، کیا وجہ تھی پاکستان معیشت کے لحاظ سے مستحکم تھا اور وہ پاکستان کے ساتھ تجارت کرنا چاہتا تھا'۔

'امریکیوں نے اپنے ٹرمپ کو مسترد کیا اب پاکستانی ٹرمپ کو مسترد کریں گے'

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے، پاکستان کے ساتھ رابطے میں رہتا تھا اور ہم سے تجارت کرنا چاہتا تھا لیکن آج افغانستان آپ سے مایوس ہے اور آپ سے کوئی رابطہ کرنے کو تیار نہیں ہے، ایران آپ کے مقابلے میں اب بھارت کی لابی میں جاچکا ہے، چین کے ساتھ ہم نے 70 سال ایسی دوستی رکھی کہ ہمالیہ سے بلند، بحرالکاہل سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی تھی'۔

انہوں نے کہا کہ 'آج ہم نے ان کی 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو تباہ و برباد کردیا، امریکا کے اشارے پر اور ایک ٹرمپ نے دوسرے ٹرمپ سے کہا کہ چین کے منصوبے کو ناکام بناؤ، جس طرح امریکیوں نے وہاں کے ٹرمپ کو مسترد کردیا انشااللہ پاکستان کے عوام پاکستانی ٹرمپ کو بھی مسترد کردیں گے'۔

حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں کہا کہ 'سوویت یونین کیوں تباہ ہوا دفاعی لحاظ سے طاقت ور تھا لیکن معاشی لحاظ سے کمزور ہوا اور اپنا وجود کھو بیٹھا، آج پاکستان کا یہ حشر کردیا گیا ہے، آج یہ پاکستان کا گورباچوف بننا چاہتا ہے، جس طرح اس کی غلط روش اور غلط پالیسی نے سویت یونین کا خاتمہ کردیا آج یہ پاکستان کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے، عجیب بات یہ ہے کہ سیاست دانوں سے کہتا ہے کہ یہ مجھ سے این آر او چاہتے ہیں، این آر او دینے والا یہ منہ نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'جو حکومت سیاسی طور پر ناجائز، جس کا کوئی حق اقتدار موجود نہیں، جو کارکردگی کی بنیاد پر نااہل اور پاکستان کی معاشی قاتل ہے، آج ناکام خارجہ پالیسی پر امریکا اور چین، افغانستان اور ایران بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں، بھارت پہلے ہی دشمن ہے اور تم دوسروں کو کرپٹ کہتے ہو'۔

مزید پڑھیں: ناجائز حکمران بذات خود بڑا کورونا ہیں، فضل الرحمٰن

ان کا کہنا تھا کہ 'جب تم اقتدار میں آئے تو سعودی عرب اور امارات نے دوستی نبھاتے ہوئے آپ کو 2،2 ارب ڈالر دیے، آج دو سال میں آپ سے اس حد تک ناراض کہ اپنے پیسوں پر ڈر رہے ہیں کہ ہمارے پیسے کو تم کہیں ضائع نہ کرو، چین کے پیسوں کو ضائع کیا، سعودی عرب اپنے پیسوں کو ضائع سمجھ رہا اور آپ سے دو ارب ڈالر واپس مانگ لیے اور تم پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں، تم نے پاکستان کے دوستوں کو ناراض کیا ہے اور پاکستان کو تنہا کردیا ہے'۔

'کشمیریوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے'

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'تم دنیا، اپنے لوگوں اور پڑوسیوں کی نظروں میں بھی ناقابل اعتماد تو پھر یہ قوم جانوروں کی نہیں ہے کہ جس طرف ہانکو گے چلے گی، یہ انسانوں، معزز اور قابل احترام لوگوں کا ملک ہے لیکن اس حکومت میں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں، لاپتا افراد کہاں ہیں جن کی بات تم کیا کرتے تھے، آج بلوچ، پختون، سندھی، پنجابی اور کشمیری رو رہا ہے، کشمیر کو تم بیچ دیا اور کشمیر کے سوداگر بنے اور اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہو'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت میں آنے سے پہلے کیا تم نے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا پیش نہیں کیا تھا، مجھے بتایا جائے کہ 1948 اور 1949 کی قرار دادوں میں کشمیر کو تقسیم کرنے کی کون سی گجنائش تھی'۔

کشمیر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے 70 تک کشمیریوں سے ایک بات کی کہ آپ نے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے، آپ کی حق ارادیت بین الاقوامی مسلمہ حق ہے لیکن عمران خان نے کہا تھا کہ خدا مودی کو کامیاب کرے جب وہ کامیاب ہوگا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا، مودی کو دعائیں دینے اور اس کو اقتدار میں لانے کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کی امیدیں لگانے والے تم ہو اور آج مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہو، تم نے کشمیر کو بیچا ہے اور کشمیریوں کی 70 سالہ قربانی کا مذاق اڑایا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'تم نے گلگت بلتستان میں جا کر کہا کہ ہم آپ کو پاکستان کا صوبہ بنائیں گے، ہم خوش ہوں گے اور سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستانی ہیں، وہ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں، کشمیری بھی پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں لیکن ان کے باقاعدہ حق خود ارادیت کی بنیاد پر اپنا فیصلہ خود کرنے پہلے یہ کہہ دینا کہ ہم آپ کا پاکستان صوبہ بناتے ہیں، کیا مسئلہ کشمیر کو ذبح نہیں کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جس طرح آپ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، ہم نے 70 سال میں کشمیریوں کی لاشوں پر سیاست کی، ہم نے وہاں ماؤں اور بہنوں کی عصمت اور ناموس پر سیاست کی، ہم نے ان کے بچوں کے چہروں سے ٹپکتے ہوئے خون پر سیاست کی، مظلوم کشمیری آج کس طرف دیکھیں، جس کو پاکستان اور پاکستانی پر بھروسہ تھا، تم نے 70 سال سے ان سے قربانیاں لے کر آج اس کو تنہا چھوڑ دیا ہے'۔

جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 85 ہزار مربع کلومیٹر کا کشمیر آج صرف 5 ہزار مربع کلومیٹر کشمیر پر آگیا ہے یہ تمہاری پالیسیاں ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'آپ نے فاٹا کا انضمام کیا لیکن فاٹا کے عوام حیران ہیں کہ اب ہم پاکستان اور صوبہ خیبرپختونخوا کا حصہ ہیں بھی یا نہیں، ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ عجلت نہیں ہونی چاہیے لیکن مجھے پتا ہے کہ کس کے دباؤ پر ایسا ہو رہا تھا، میں بہت کچھ جانتا ہوں، اندر کی بہت باتیں اور تمہارے ارادے اور عزائم کو جانتا ہوں'۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون بتادیں کہ کسی حکمران کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہوتو اس کے پاس اپنے ملک کی سرحد کو بھی تبدیل کرنے کا میندیٹ ہوتا ہے، کسی کے لیے اپنا ملک چھوڑ دے اور سرحد آگے پیچھے کرے، دنیا کا کوئی بھی طاقت ور ملک اپنی مرضی سے سرحدوں میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ یہاں پر کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے جغرافیے کو تقسیم کر رہے ہیں، اتنے بڑے حساس معاملات جب تک عوام کا اعتماد نہ ہو اور عوام بھرپور طور پر مطالبہ نہ کرے حل نہیں ہوسکتے، آپ نے آج پاکستان کو وہاں کھڑا کیا جہاں پاکستان کی بقا کا سوال کھڑا ہوا ہے۔

اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ آج پی ڈی ایم کا بنیادی مقصد پاکستان کا بقا اور اس کا تحفظ ہے، ہم اس ملک کی حفاظت کے لیے اکٹھے ہوئے اور اس طرح کے نااہلوں سے نجات پائیں گے تو مستقل محفوظ ہوگا ورنہ ان لوگوں کی حکمرانی میں پاکستان کا مستقبل غیر محفوظ ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ حکومت بھی ناجائز، اس کی داخلہ پالیسیاں بھی ناجائز، یہ انسانی حقوق کی بھی قاتل، یہ کشمیر کی بھی قاتل، یہ فاٹا کی بھی قاتل ہے اور آج ہم اپنے ملک کو بچانے اور ملک کے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے میدان میں نکلے ہیں اور عوام کو استقامت کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جس سفر کا آغاز کیا ہے اب وہ کافی طے ہوچکا ہے اور تھوڑا فاصلہ باقی ہے، استقامت کے ساتھ انشااللہ ہم اپنی منزل پر پہنچیں گے اور اس ملک کو حقیقی پاکستان بنائیں گے، اسلامی، جمہوری، وفاقی اور پارلیمانی پاکستان بنائیں گے اور ہم این ایف سی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں، ہم صوبوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

کارکنوں کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ سخت حالات میں آپ کی جنگ لڑی ہے، آج پھر میدان میں ہیں، ہم آپ ایک صف میں کھڑے ہیں، اس لیے اب صف کو مضبوط بنانا ہے، اس صف کو آگے لے جانا ہے، تمام سیاسی جماعتیں، سیاسی جماعتوں کے کارکن اور ان کے قائدین ایک صف ہو کر اس منزل کو حاصل کریں گے۔