نہ پنڈی، نہ آبپارہ کی رائے چلے گی، فیصلے عوام کریں گے، بلاول

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2020

ای میل

چیئرمین پی پی پی کے مطابق اجازت نہیں دیں گے کہ عوام کے خون کے ساتھ کھیلا جائے — فوٹو:ڈان نیوز
چیئرمین پی پی پی کے مطابق اجازت نہیں دیں گے کہ عوام کے خون کے ساتھ کھیلا جائے — فوٹو:ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پشاور میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت کا دور ہے اور آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے بچوں کے قاتل احسان اللہ احسان جیسے دہشت گرد کو این آر او دیا گیا۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے پشاور میں دلازک روڈ پر 11 اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے تحت جلسہ منعقد ہوا۔

جلسے میں پی ڈی ایم کارکنان بھی سیکیورٹی پر مامور ہیں—اسکرین شاٹ
جلسے میں پی ڈی ایم کارکنان بھی سیکیورٹی پر مامور ہیں—اسکرین شاٹ

خیال رہے کہ حکومت مخالف پی ڈی ایم کا یہ چوتھا سیاسی پاور شو تھا، اس سے قبل اپوزیشن اتحاد نے اپنے جلسوں کا باقاعدہ آغاز 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ سے کیا تھا، جس کے بعد 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ کیا گیا تھا جبکہ 25 اکتوبر کو پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں سیاسی طاقت دکھائی تھی۔

اگرچہ آج پی ڈی ایم کے چوتھے جلسے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پی ڈی ایم کو اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم اس کے باوجود اپوزیشن اتحاد نے میدان سجایا۔

ادھر جلسہ گاہ کے اطراف میں موبائل سگنل کے مسائل کی بھی شکایات موصول ہوئیں جبکہ ٹولیوں کی شکل میں کارکنان کی جلسہ گاہ آمد کا سلسلہ جاری تھا۔

احسان اللہ احسان جیسے دہشت گرد کو این آر او ملا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے این آر او اے پی ایس کے قاتل کو ملا ہے، این آر او احسان اللہ احسان جیسے دہشت گرد کو ملا ہے، سلیکٹڈ نے ہمارے بچوں کے قاتل کو جیل سے نکال دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تو اب بھی اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گرد، اچھے طالبان اور برے طالبان کھیل رہے ہیں لیکن ہم ان کو عوام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم دہشت گردوں اور اس کی سہولت کار حکومت کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ عوام کے خون کے ساتھ کھیلا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام، پولیس، فوج اور شہریوں نے قربانیاں دی ہیں اور ہم کٹھ پتلی کو اجازت نہیں دیں گے کہ دوبارہ دہشت گردی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے عوام کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں نے جو مکانات اور دکانیں تباہ کی ہیں اس کا معاوضہ دیا جائے لیکن افسوس کی بات ہے کہ فاٹا کے بجٹ میں کٹوتی کررہے ہیں اور شہدا کو معاوضہ نہیں دے رہے ہیں، یہ پی پی پی اور پی ڈی ایم کا وعدہ ہے کہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

پی ڈی ایم نے جلسے کے لیے میدان سجالیا ہے—فوٹو: ڈان نیوز
پی ڈی ایم نے جلسے کے لیے میدان سجالیا ہے—فوٹو: ڈان نیوز

بلاول بھٹو نے کہا کہ جو آئی ڈی پیز بے گھر ہوئے ان کی مدد نہیں کی گئی، آپریشن کے بعد عوام کے مسائل حل کرنے کا وقت آتاہے تو وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا آج بھی لاپتا افراد میں اضافہ ہو رہا اور لاپتا افراد کے مرکز قائم ہیں، جس کے حوالے سے مرحوم جسٹس وقار سیٹھ نے کہا تھا اور عدالت کا بھی حکم تھا کہ وہ پولیس کے حوالے کریں لیکن افسوس کی بات ہے آج تک اس پر کوئی کام نہیں ہوا، ہم چیف جسٹس وقار سیٹھ کو سلام پیش کرتے ہیں، ملک میں ایسے بہادر جج بھی موجود ہیں جن کے قلم سے ایسے فیصلے بھی آتے ہیں اور ان میں ہمت ہے کہ آمر کے خلاف فیصلہ کرسکتےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت کے دور میں تاریخی غربت اور تاریخی مہنگائی ہے، سلیکٹڈ حکومت کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں، ان کی وجہ سے پہلے چینی کا بحران آیا پھر آٹا کا بحران اور اب گیس کا بحران آنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی سے خیبرپختونخوا کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ پہلے جینا مشکل تھا اب جینا بھی مہنگا اور مرنا بھی مہنگا ہوچکا ہے، یہ عمران خان اور اس کے سہولت کاروں کا نیا پاکستان ہے، یہ تو کرپشن کے زیادہ خلاف تھے اور زیادہ چیختے تھے لیکن سب کو پتا چل گیا ہے کہ یہ تو کرپٹ ترین حکومت نکلی ہے۔

'نیب میں پاپا جونز کے بارے میں پوچھنے کی ہمت نہیں ہے'

ان کا کہنا تھا کہ اب تو ٹرانسپرنسی بھی کہہ رہی ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، کرپشن تو حکومت کرتی ہے مگر نیب کے نشانے پر صرف اور صرف اپوزیشن ہوتی ہے، نیب کے سیاسی انتقام اور جھوٹے کیسز کو اپوزیشن بھگت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کو نظر نہیں آتا ہے کہ پشاور میں ملک کی سب سے مہنگی میٹرو ہے، جس کی بسیں خود بخود جل جاتی ہیں اور مسافروں کو دھکا دے کر چلانا ہوتا ہے مگر نیب کو نظر نہیں آتا کہ کیسے سلائی مشین سے امریکا، نیویارک میں عمارتیں کھڑی ہو رہی ہے اور مالم جبہ میں کیا ہو رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری جلسہ گاہ پہنچ گئے— فوٹو: ڈان نیوز
بلاول بھٹو زرداری جلسہ گاہ پہنچ گئے— فوٹو: ڈان نیوز

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ نیب کو نظر نہیں آتا کہ فارن فنڈنگ کیس میں کیسے غیر ملکی، بھارت کے وزیر، اسرائیل کے شہری پی ٹی آئی کو فنڈنگ کرتے رہے، نیب کو نظر نہیں آتا کہ معاون خصوصی کی پاناما، اسپین اور امریکا میں جائیدادیں کیسے وجود میں آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب میں وہ ہمت نہیں ہے کہ وہ پوچھ سکیں پاپاجونز کا امپائر ایک معاون خصوصی نے پوری دنیا میں کاروبار کھڑا کردیا ہے مگر اب ان کے جانے کا وقت آگیا ہے اور جنوری تک مہمان ہیں، جنوری ان کا آخری مہینہ ہے اور پھر یہ چلے جائیں گے، اب ان سے حساب لینے کا وقت آیا تو عوام ان سے حساب لیں گے، ان کٹھ پتلیوں سے ضرور حساب لیں گے۔

'کٹھ پتلیوں کے پیچھے بیٹھے لوگوں سے بھی حساب لیں گے'

بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کٹھ پتلیوں کے پیچھے جو ہیں ان سے بھی اور نیب سے بھی ہم حساب لیں گے، نیب کے آئی اوز سے لے کر چیئرمین تک حساب لیں گے، نیب کے ہر افسر سے پوچھیں گے اور جب آئی اوز سے لے کر چیئرمین تک سب سے پوچھا جائے گا کہ آپ کے آمدن سے زائد اثاثے کیوں ہیں تو پھر پورے ملک کو پتا چلے گا کہ اصل میں کرپٹ کون ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس کرپشن کا ناسور اس وقت تک ختم نہیں کرسکتے جب تک ہم سب پاکستانیوں کے لیے ایک قانون نہیں ہوگا، جب سیاست دانوں، ججوں اور جرنیلوں کے لیے ایک قانون اور ایک عدالت نہیں ہوگی تب تک ہم کرپشن کا خاتمہ نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم گڈ کرپٹ اور بیڈ کرپٹ کھیلتے رہیں گے تب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا، وقت آنے والا ہے کہ احتساب ہم لیں گے، جب احتساب ہم کریں گے حساب دینے کے لیے تم کہاں ہوں گے۔

'اب عوام کی رائے چلے گی'

خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان اور وفاق میں اپنے نوکروں کی حکومت مسلط کرنا اور اب گلگت بلتستان میں اپنے نوکروں کی حکومت نافذ کرنے کے لیے اس ملک کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا ہے، اس ملک میں نہ عوام آزاد ہیں، نہ سیاست آزاد ہے، نہ عدالت آزاد ہے، نہ صحافت آزاد ہے، جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا ہے، انسانی حقوق تو ختم ہی ہوچکے ہیں اور خارجہ پالیسی میں ہمارے دوست بھی بھول چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب انہیں عوام کے فیصلے ماننے پڑیں گے، عوام کی رائے چلے گی، نہ پنڈی کی رائے چلے گی، نہ آبپارہ کی رائے چلے گی، اگر فیصلہ کریں گے تو پاکستان کے عوام فیصلہ کریں گے کہ اس ملک میں حکمرانی کون کرے گا، اس ملک کی معیشت کیسے چلے گی اور اس ملک کی خارجہ پالیسی کیسے چلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پی ڈی ایم کا منشور اور نظریہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں تک لے کر گیا تھا لیکن دھاندلی سے پی ڈی ایم کو وہ حق نہیں دیا گیا مگر ان کے ہتھکنڈوں اور دھاندلی کے باوجود سب سے زیادہ ووٹ پی ڈی ایم کی جماعتوں کو ملے ہیں اور پی ٹی آئی کو شکست ہوئی ہے۔

مریم نواز بھی جلسہ گاہ میں موجود ہیں—فوٹو: ڈان نیوز
مریم نواز بھی جلسہ گاہ میں موجود ہیں—فوٹو: ڈان نیوز

بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پی ڈی ایم کے نظریے کو زیادہ ووٹ دیا ہے اور اس دھاندلی کے بعد احتجاج شروع ہوا اور ایک نعرہ بلند ہورہا ہے کہ 'میرے ووٹ پر ڈاکا نامنظور' اور لوگ جذبے کے ساتھ پی ڈی ایم میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ بلاول بھٹو زرادری سے قبل مریم نواز نے شرکا سے مختصر خطاب کیا تھا، جس موقع پر انہیں ان کی دادی کے وفات کی خبر دی گئی تھی جس کے بعد وہ جلسہ گاہ سے چلی گئی تھیں۔

تاہم انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں کہا تھا کہ میں پشاور کے عوام سے بات کرنے آئی تھی لیکن میری دادی اور نواز شریف کی والدہ کا لندن میں انتقال ہوگیا ہے اور ان کے لیے دعا کریں۔

اس موقع پر نواز شریف کی والدہ کے لیے دعا کی گئی۔

دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کی گئی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی دن اعلان کیا تھا کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے اور تمام جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا تھا اور وہ آواز آج عام آدمی کی آواز بن گئی اور اب پوری قوم کی متفقہ آواز ہے اور آج اس جلسے سے حکومت اور اس کے سہولت کار گھبرائے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان اس حکومت کو نکالنا ہے، ہم اعلان جنگ کرچکے ہیں اور اب جنگ سے پیچھے ہٹنا حرام ہے، ہم چیلنج کردیا ہے اور واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں، ہمارا مؤقف واضح ہے، دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کی گئی ہے، ہمیں دھاندلی کرنے والا بھی معلوم ہے، وہ نامعلوم بھی ہمیں معلوم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو حکومت سیاسی طور پر ناجائز اور کارکردگی کی بنیاد پر نااہل اور معاشی قاتل ہے، ناکام خارجہ پالیسی، امریکا اور چین، افغانستان اور ایران بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں، سعودی عرب نے دو ارب دیے اور متحدہ عرب امارات نے بھی دو ارب ڈالر واپس لیا، تم نے پاکستان کے دوستوں کو ناراض کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ انسانوں، معزز اور قابل احترام لوگوں کا ملک ہے لیکن اس حکومت میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں، لاپتا افراد کہاں ہیں جن کی بات تم کیا کرتے تھے، آج بلوچ، پختون، سندھی اور پنجابی اور کشمیر رو رہا ہے، کشمیر بیچ دیا اور اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہو۔

پی ڈی ایم رہنماؤں کی بلور ہاؤس آمد

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی بڑھتی لہر اور انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ دینے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پشاور میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا۔

جلسہ گاہ پہنچنے سے قبل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور دیگر بلور ہاؤس پہنچے تھے جہاں ان کے لیے ظہرانے کا انتظام کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ناجائز حکمران بذات خود بڑا کورونا ہیں، فضل الرحمٰن

اس موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی اور نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے بلور خاندان سے ملاقات بھی کی۔

پی ڈی ایم رہنما جلسے سے قبل بلور ہاؤس پہنچے—فوٹو: سراج الدین
پی ڈی ایم رہنما جلسے سے قبل بلور ہاؤس پہنچے—فوٹو: سراج الدین

مہمانوں کے لیے ظہرانے پر مٹن تکہ، پشاوری چپلی کباب، چکن تکہ، قابلی پلاؤ اور میٹھے میں گاجر کا حلوہ پیش کیا گا جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کے لیے خصوصی طور پر سوجی کا حلوہ تیار کیا گیا۔

ظہرانے کے بعد پی ڈی ایم رہنما جلسہ گاہ پہنچے تھے۔

حکومت اور اپوزیشن کی ایک دوسرے پر تنقید

خیال رہے کہ ضلعی انتظامیہ نے شہر میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دی تھی جبکہ وزیراعظم سمیت وفاقی وزرا کی جانب سے بھی اس موقع پر جلسے کرنے پر پی ڈی ایم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم اپوزیشن اتحاد میں شامل بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ پشاور جلسہ ہر صورت میں ہوگا اور اس کے لیے ہمیں حکومتی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اپوزیش کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے خبردار کیا تھا کہ اگر پشاور جلسے سے خیبرپختونخوا میں کووڈ 19 کے کیسز میں اضافہ ہوا تو اپوزیشن لیڈرز اور منتظمین کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کروائیں گے۔

یاد رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر میں اضافے کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے جلسے، جلوسوں پر پابندی لگادی تھی۔

عمران خان نے تحریک انصاف کے جلسوں کو معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس پر عمل کریں۔

کورونا وائرس کی اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے اپوزیشن کو جلسے کی اجازت نہیں دی تھی اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) پشاور کے دفتر سے جاری خط میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور پشاور میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 13 فیصد سے زائد ہوگئی ہے جبکہ عوامی اجتماع کے باعث کورونا مزید پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس لیے کورونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن کے پشاور جلسے سے انکار نہ کرنے پر وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’پی ڈی ایم کے وہ اراکین جو پہلے سخت ترین بندشیں چاہتے تھے اور مجھ پر طنز و تنقید کے نشتر چلایا کرتے تھے آج لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر نہایت نا عاقبت اندیش سیاست کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیفیت یہ ہے کہ عدالتی احکامات ہوا میں اڑا کر کیسز میں نہایت تیز اضافے کے باوجود یہ جلسے پر مصر ہیں‘۔

دوسری جانب اپوزیشن نے حکومت کو کورونا سے زیادہ خطرناک قرار دے دیا تھا، پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت کووڈ 19 کے بہانے پشاور جلسے کو ناکام کرنے کی مایوس کن کوششیں کر رہی ہے لیکن خیبرپختونخوا کے لوگ ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

پی ڈی ایم کیا ہے؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو رواں ماہ سے شروع ہونے والے ’ایکشن پلان‘ کے تحت 3 مرحلے پر حکومت مخالف تحریک چلانے کے ذریعے حکومت کا اقتدار ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم اراکین لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں، عمران خان

ایکشن پلان کے تحت پی ڈی ایم نے رواں ماہ سے ملک گیر عوامی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، دسمبر میں ریلیوں اور جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک ’فیصلہ کن لانگ مارچ‘ کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے پہلے صدر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف سینئر نائب صدر ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی اس کے سیکریٹری جنرل ہیں۔

اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اس اتحاد میں بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں، تاہم جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔