پنسلوانیا: جج نے ٹرمپ کے انتخابی دھاندلی سے متعلق دعوے کو مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2020

ای میل

ٹرمپ کے وکیل نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا عندیہ دیا — فائل فوٹو: رائٹرز
ٹرمپ کے وکیل نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا عندیہ دیا — فائل فوٹو: رائٹرز

پنسلوانیا کے جج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسیع پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کو مسترد کردیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق پنسلوانیا کے جج کی جانب سے مذکورہ فیصلہ حالیہ صدارتی انتخاب میں ری پبلکنز کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ صدارتی انتخاب میں شکست تسلیم کرنے کے دہانے پر پہنچ گئے

پنسلوانیا کے جج میتھیو برن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے پنسلوانیا میں میل ان بیلٹ کے بارے میں اپنی شکایات میں 'میرٹ کے بغیر اور قیاس آرائیوں پر مبنی قانونی دلائل' پیش کیے تھے۔

انہوں نے لکھا کہ 'امریکا میں اس طرح کے دعوؤں کی بنیاد پر کسی ایک ووٹر کے حق رائے دہی کو مسترد نہیں کیا جاسکتا'۔

جج میتھیو برن نے فیصلے میں کہا کہ 'ہمارے لوگ، قوانین اور ادارے زیادہ حقائق کا مطالبہ کرتے ہیں'۔

اس مقدمے کی پیروی کرنے والے ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے مایوس ہوئے۔

انہوں نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا عندیہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا پابندیاں اٹھا لے تو جوہری معاہدے کی پاسداری کریں گے، ایران

ٹرمپ کے وکیل نے کہا کہ ٹرمپ مہم اب فلاڈیلفیا میں تیسری امریکی سرکٹ کورٹ سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرے گی۔

جوبائیڈن اور ٹرمپ نے بھی فوری طور پر مذکورہ فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی حریف اور سابق نائب صدر جوبائیڈن نے الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کرلیا جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کون وائٹ ہاؤس کا مسند نشین ہوگا۔

الیکٹورل کالج 14 دسمبر کو باضابطہ طور پر ووٹ ڈالے گا۔

مزیدپڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ ہار نہیں مانیں گے، شکست پر لڑ پڑیں گے، سابق اہلیہ

پنسلوانیا کے جج کی جانب سے ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی پیش کردہ پٹیشن خارج ہونے کے بعد ڈیموکریٹ جوبائیڈن کی کامیابی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور متعدد مرتبہ کہا تھا کہ وہ مقدمات کے ذریعے نتائج کو کالعدم کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جس پر امریکی صدارتی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والے امریکی صدر 74 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق اہلیہ و سابق ماڈل 71 سالہ ایوانا ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے سابق شوہر ضدی ہیں، وہ ہار نہیں مانیں گے۔