متحدہ عرب امارات نے غیر ملکی ملکیت پر پابندیاں نرم کردیں

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

دبئی میں ورلڈ ایکسپو 2021 میں منعقد ہوگی — فائل فوٹو: اے پی
دبئی میں ورلڈ ایکسپو 2021 میں منعقد ہوگی — فائل فوٹو: اے پی

دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کمپنیز کی غیر ملکی ملکیت پر عائد پابندیوں کے ایک حصے کو نرم اور ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

یو اے ای کے سرکاری میڈیا کی جانب سے رپورٹ کیا گیا کہ یہ قدم عالمی حیثیت کو مزید بڑھانے اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے ملک کی جانب سے اٹھائے جانے والے حالیہ اقدامات کے تناظر میں ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق 7 صحراؤں کی فیڈریشن میں وبا کے باعث ہونے والے معاشی اثرات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک بار پھر چونکا دینے والی تبدیلی کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں ‘جدت پسندی’ کو نمایاں کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی

اس سے قبل گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے اپنے اسلامی قانونی میں مختلف اصلاحات کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت غیر شادی شدہ جوڑوں کو ساتھ رہنے، خواتین کے لیے تحفظ بڑھانے اور الکوحل کے استعمال پر پابندیوں میں نرمی شامل تھی۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں ‘جدت پسندی’ کو نمایاں کرنے کیلئے قوانین میں تبدیلی

ڈرامائی انداز میں یہ تبدیلیاں اس وقت سامنے آئیں جب متحدہ عرب امارات ورلڈ ایکسپو کے لیے ڈھائی کروڑ مہمانوں کی میزبانی کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرچکا ہے، یہ ایونٹ وبا کے باعث 2021 میں منتقل کردیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات یہ اُمید بھی کر رہا ہے کہ امریکی تعاون سے ہونے والے یو اے ای-اسرائیل معاہدے کے بعد اسرائیلی بھی غیر ملکیوں کے اس لشکر میں شامل ہوں گے جنہوں نے دبئی اور ابوظہبی کے ساحلی علاقوں میں کاروبار کھولے ہیں اور اپارٹمنٹس خریدے ہیں۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات کا تارکین وطن کو مستقل رہائش دینے کا فیصلہ

ریاست کے زیر انتظام نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم نے رپورٹ کیا کہ کارپوریٹ قانون میں تبدیلی کے صدارتی فرمان کے ذریعے علاقائی اور عالمی سطح پر متحدہ عرب امارات کے اہم کردار کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی کہ یہ منصوبوں اور کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔

علاوہ ازیں ریاستی اخبار دی نیشنل نے فرمان کی مزید تفصیلات رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی ملکیت سے متعلق ترامیم آئندہ 6 ماہ میں نافذالعمل ہوجائیں گی، مزید یہ کہ تبدیلیوں پر عملدرآمد کرنے میں کمپنیوں کو پورا ایک سال لگ سکتا ہے۔


یہ خبر 24 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔