افغانستان: بم دھماکے میں ٹریفک پولیس اہلکار سمیت 14 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

کسی نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی — فوٹو: رائٹرز
کسی نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی — فوٹو: رائٹرز

افغانستان کے صوبہ بامیان میں بم دھماکے سے ٹریفک پولیس اہلکار سمیت 14 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق واقعہ وسطی افغانستان میں پیش آیا جہاں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔

مزید پڑھیں: افغانستان: امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ جلد بازی پر مشتمل ہے، عبداللہ عبداللہ

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے بتایا کہ صوبہ بامیان کے شہر بامیان میں ہونے والے بم دھماکے میں 45 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکا اس قد خوفناک تھا کہ قریب میں موجود متعدد دکانیں اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

علاوہ ازیں بامیان میں صوبائی پولیس چیف کے ترجمان محمد رضا نے بتایا کہ دو بم ایسے تھے جو پے درپے پھٹ پڑے۔

کسی نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ بم دھماکے میں ان کا گروپ ملوث نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور کابل کا افغانستان میں تشدد کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق

افغانستان میں عسکریت پسند داعش نے ملک کی اقلیتی برادری اہل تشیع کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے اور بامیان میں زیادہ تر اہل تشیع افراد رہائش پذیر ہیں۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان میں تشدد اور افراتفری میں اضافہ ہوا ہے جب کہ حکومتی مذاکرات کار اور طالبان کئی عشروں سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے قطر میں مذاکرات کر رہے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں افغانستان کے دارالحکومت کی کابل یونیورسٹی میں ایرانی کتب میلے کے افتتاح کے موقع پر دھماکے کے بعد فائرنگ کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

چند روز کے فرق سے کابل میں ہی ایک سابق نیوز اینکر کی گاڑی میں نصب بم پھٹنے سے اینکر سمیت گاڑی میں موجود 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: گاڑی میں نصب بم پھٹنے سے سابق نیوز اینکر سمیت 3 افراد ہلاک

افغانستان میں امن اور مفاہمت کی کوششوں کی سربراہی کرنے والے عبداللہ عبداللہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’صحافت کو نشانہ بنانا، آزادی اظہار رائے کو نشانہ بنانا ہے اور یما سیاوش کی موت ملک کے لیے بڑا نقصان ہے‘۔

خیال رہے کہ افغان طالبان نے پینٹاگون کی جانب سے تقریباً 2 ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلانے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک اچھا قدم ہے جس سے ملک میں جاری طویل تنازع کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

اس ضمن میں افغان امن عمل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا تھا کہ کابل سے امریکی فوجیوں کی واپسی شروع کرنے کا فیصلہ بہت جلد بازی میں سامنے آیا جبکہ ملک بدستور امن اور سلامتی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔