افغانستان: امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ جلد بازی پر مشتمل ہے، عبداللہ عبداللہ

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2020

ای میل

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ یہ امریکی انتظامیہ کا فیصلہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں — فائل فوٹو: اے پی
عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ یہ امریکی انتظامیہ کا فیصلہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں — فائل فوٹو: اے پی

افغانستان میں افغان امن عمل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ کابل سے امریکی فوجیوں کی واپسی شروع کرنے کا فیصلہ بہت جلد بازی میں سامنے آیا جبکہ ملک بدستور امن اور سلامتی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق عبداللہ عبداللہ نے آسٹریلوی فوجیوں کے ہاتھوں 39 افغان قیدیوں کی ہلاکت سے متعلق رپورٹ کو ’چونکا دینے والے حقائق‘ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: افغانستان: آسٹریلیا کی فوج کے ہاتھوں 39 غیر مسلح شہریوں کی ہلاکت کا انکشاف

انہوں نے آسٹریلوی حکام کی جانب سے مجرموں کی نشاندہی سے متعلق فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 4 ہزار 500 سے کم کرکے 2 ہزار 500 کرنے سے متعلق فیصلے پر عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ’یہ امریکی انتظامیہ کا فیصلہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری ترجیح یہ ہے کہ حالات بہتر ہونے کے ساتھ ہی امریکی فوجیوں کا انخلا ہونا چاہیے‘۔

قائم مقام امریکی وزیر دفاع کرسٹوفر ملر نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن جنوری کے وسط تک عراق اور افغانستان میں موجود فوجیوں کو کم کردے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 'وطن واپسی کا وقت آگیا، افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا میں تیزی لائیں گے'

افغان حکام نے خدشات کا اظہار کیا کہ امریکی فوجیوں کی تیزی سے کمی سے طالبان کے ہاتھ مضبوط ہوسکتے ہیں جبکہ عسکریت پسند اب بھی سرکاری افواج کے خلاف بھر پور شورش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افغان امن عمل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ’طالبان ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلیں گے۔

انہوں نے اس بات کا خیر مقدم کیا کہ ڈھائی ہزار فوجی باقی رہ جائیں گے اور یہ کہ نیٹو بھی اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔

علاوہ ازیں افغانستان میں آسٹریلوی فوجیوں کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر افغان شہریوں کی ہلاکت کے معاملے میں عبداللہ عبداللہ نے مزید کہا کہ ’ گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا وعدہ کیا گیا ہے، جس سے یقیناً اس طرح کے جرائم کو روکنے میں مدد ملے گی'۔

واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات آسٹریلیا کی فورسز کی 4 سالہ تفتیشی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ سینیئر کمانڈرز کے جبری احکامات پر جونیئر سپاہیوں نے 39 غیر مسلح قیدی اور افغان شہریوں کو قتل کیا۔

مزید پڑھیں: افغانستان سے فوجیوں کا انخلا اب بھی ’مشروط‘ ہے، امریکی جنرل

آسٹریلیا کے جنرل جان کیمبل نے 2005 سے 2016 تک اسپیشل فورسز کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ افغانستان میں آسٹریلیا کے اسپیشل فورسز کے 25 جوانوں کی جانب سے 23 مختلف واقعات میں 39 مقامی افراد کو ہلاک کرنے کی قابل اعتبار معلومات ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ رواں سال کرسمس (25 دسمبر) تک امریکی فوجیوں کو واپس لانے کے خواہش مند ہیں۔

ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر روبرٹ اوبرائن نے کہا تھا کہ فروری تک مزید 2 ہزار 500 فوجیوں کی کٹوتی ہوگی۔