پی ڈی ایم میں مخصوص جماعتیں میری موجودگی سے ناخوش تھیں، محسن داوڑ

اپ ڈیٹ 26 نومبر 2020

ای میل

محسن داوڑ نے 18 اکتوبر کو پی ڈی ایم کے کراچی جلسے میں خطاب کیا تھا—فائل/فوٹو: ڈان نیوز
محسن داوڑ نے 18 اکتوبر کو پی ڈی ایم کے کراچی جلسے میں خطاب کیا تھا—فائل/فوٹو: ڈان نیوز

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض جماعتیں میری موجودگی سے خوش نہیں تھیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے تفصیلی بیان میں محسن داوڑ نے کہا کہ ‘میں اعلان کر رہا ہوں کہ آئندہ میں پی ڈی ایم کے جلسوں اور اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں نے یہ فیصلہ اپنے ساتھیوں، دوستوں اور حامیوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد کیا’۔

مزید پڑھیں: موجودہ حکومت آمریت سے بدتر ہے، محسن داوڑ

رکن قومی اسمبلی نے لکھا کہ ‘پی ڈی ایم میں مخصوص جماعتوں نے اتحاد میں میری موجودگی پر بالواسطہ یا بلاواسطہ بے آرامی کا اظہار کیا، اس طرح کے غیر ضروری اختلاف سے اہم کام میں خلل پڑتا ہے جو ہم اپنے حقوق کے لیے خود کر رہے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم پی ڈی ایم کی جمہوریت کی مضبوطی اور سول بالادستی کے مطالبے کی حمایت جاری رکھیں گے، ہم قانون، پارلیمان اور آئین کی بالادستی کو قائم کرنےاور اپنے لوگوں کے لیے انصاف اور حقوق کی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں پی پی پی اور بلاول بھٹو زرداری کا ملتان کے جلسے کے لیے دعوت دینے، پی ڈی ایم کی تشکیل کی وجہ بننے والی اے پی سی، کراچی جلسے میں استقبال کرنے اور تعاون جاری رکھنے پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں’۔

محسن داوڑ نے کہا کہ ‘میں ان سب لوگوں کو بھی شکریہ ادا کروں گا جنہوں نے میرے لیے آواز اٹھائی، میرے ساتھ تعاون کیا اور میرے ساتھ کھڑے رہے، جس میں محنت کش طبقے، مختلف نسل و مذہب اور معاشرتی گروہوں کے کارکنان اور رہنما بھی شامل ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے کے لیے دعوت دینے پر میں اختر مینگل اور مالک بلوچ کا بھی شکر گزار ہوں’۔

اپنے عزم کو دہراتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ ‘پسے ہوئے طبقے کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی، ہماری جدوجہد ان لوگوں کے لیے مشترکہ جدوجہد ہے جو طاقتوروں کے ہاتھوں بدترین بے انصافی کا شکار ہیں’۔

خیال رہے کہ محسن داوڑ نے پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کی تھی جہاں پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ہر ایک کو غدار قرار دینے کی روایت ملک کیلئے خطرناک ہے، محسن داوڑ

بعد ازاں محسن داوڑ نے کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کی تھی اور خطاب بھی کیا تھا جبکہ کوئٹہ جلسے میں شرکت سے قبل انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

محسن داوڑ نے کراچی میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ 'پی ڈی ایم ملک میں حقیقی جمہوریت اور سول بالادستی کا آغاز ہے’۔

انہوں نے وزیرستان، گلگت بلتستان، بلوچستان اور سندھ میں سیاسی کارکنوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات درج کرنے پر حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مقدمات سیاسی اختلاف کی وجہ سے درج کیے گئے، موجودہ حکومت آمریت سے بھی بدتر ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘میں اس حکومت کو آمریت سے بدتر سمجھتا ہوں کیونکہ وہ وزیراعظم کو بھی دھکے مارتے تھے، درحقیقت ایجنسیاں فیصلہ ساز ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ریاستیں جنگی فرنچائز کے طور پر یا جنگی معاہدوں پر نہیں چل سکتیں، ریاست کو چلانے کے لیے اپنے شہریوں کو احساس دلانا ہوگا کہ وہ غلام نہیں بلکہ معزز شہری ہیں’۔

محسن داوڑ نے کہا تھا کہ ‘ریاست کو چلانے کے لیے اختیارات شہریوں کو دینے ہوں گے ورنہ یہ کمپنی نہیں چل سکتی’۔