وزیراعظم کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، سیکیورٹی پر بریفنگ

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2020

ای میل

وزیراعظم کے ہمراہ آرمی چیف اور وفاقی وزرا بھی تھے—فوٹو:وزیراعظم ہاؤس ٹوئٹر
وزیراعظم کے ہمراہ آرمی چیف اور وفاقی وزرا بھی تھے—فوٹو:وزیراعظم ہاؤس ٹوئٹر
وزیراعظم کے ہمراہ آرمی چیف اور وفاقی وزرا بھی تھے—فوٹو:وزیراعظم ہاؤس ٹوئٹر
وزیراعظم کے ہمراہ آرمی چیف اور وفاقی وزرا بھی تھے—فوٹو:وزیراعظم ہاؤس ٹوئٹر

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزرا اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر عسکری قیادت کے ہمرا انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں قومی و علاقائی سیکیورٹی پر بریفنگ دی گئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری وزیراعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق وزیراعظم اور دیگر شرکا کو سیکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔

‘وزیر اعظم عمران خان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف ائیر اسٹاف ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کے ہمراہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا’۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آئی ایس آئی میں شرکا کا استقبال کیا۔

مزید پڑھیں: فوج کا مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے، عمران خان

وزیراعظم ہاؤس کا کہنا تھا کہ ‘اجلاس میں اعلیٰ قومی اور عسکری قیادت کو علاقائی اور ملکی صورت حال پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا’۔

بیان کے مطابق ‘وزیراعظم نے قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کے خلاف آئی ایس آئی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا’۔

رواں ہفتے پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر افسران کی ترقی، تبادلے اور تعیناتیاں کی گئی تھیں اور 6 میجر جنرل کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقیاں دے دی گئی۔

اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا تھا کہ فوج میں 6 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی ایک انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میری تمام سرگرمیوں سے متعلق آئی ایس آئی اور آئی بی کو معلوم ہوتا ہے اور میں بغیر کسی دباؤ کے کام کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر تقرریاں و تبادلے، 6 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ داخلہ اور خارجہ امور سے متعلق تمام پالیسی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہے اور فوج کا مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر آرمی نے مجھ پر دباو ڈالا تو میں اس کی مخالفت کروں گا لیکن آرمی نے کبھی مجھے کسی کام سے نہیں روکا جو میں کرنا چاہتا تھا۔