لاہور: 7 سالہ بچے کا 'بدفعلی کے بعد قتل'، ایک ملزم گرفتار

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2020
ہمسائے نے 7 سالہ بچے کے گھر ٹریفک حادثے میں بچے کی موت کی اطلاع دی تھی—فوٹو: شٹر اسٹاک
ہمسائے نے 7 سالہ بچے کے گھر ٹریفک حادثے میں بچے کی موت کی اطلاع دی تھی—فوٹو: شٹر اسٹاک

لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں پولیس نے بچے کو مبینہ طور پر بدفعلی کے بعد قتل کرنے کے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق گرین ٹاؤن میں پیش آنے والے واقعے کو ملزم نے حادثے کا رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔

مزیدپڑھیں: 3 سالہ بچے کا ’بدفعلی کے بعد قتل‘، 15 سالہ ملزم گرفتار

پولیس کا کہنا تھا کہ گرین ٹاؤن میں ہمسائے نے 7 سالہ بچے کے گھر ٹریفک حادثے سے بچے کی موت کی اطلاع دی۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم نے بچے کو مبینہ طور پر ریپ کے بعد قتل کردیا اور واقعے کو حادثے کا رنگ دینے کی کوشش کی۔

متعلقہ علاقے کے ڈی ایس پی نے بتایا کہ پولیس کو ابتدائی تحقیقات میں شبہ ہوا کہ بچہ حادثے میں جاں بحق نہیں ہوا بلکہ قتل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کرلیا ہے اور دوسرے کی تلاش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: اہلِخانہ کی موجودگی میں خاتون کا 'گینگ ریپ'

بچے کے ورثا نے بتایا کہ بچہ چیز لینے کے لیے گھر سے نکلا اور ملزم اسے خون میں لت پت گھر لے کر آیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی احکامات جاری کردیے۔

علاوہ ازیں آئی جی پنجاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیا اور متاثرہ والدین کو جلد انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

خیال رہے کہ رواں برس اگست میں ٹیکسلا میں پولیس نے نر توپہ گاؤں میں 3 سالہ بچے کو مبینہ طور پر بدفعلی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں ایک 15 سالہ لڑکے کو گرفتار کرلیا تھا۔

قبل ازیں پنجاب کے ضلع خانیوال میں شہریوں نے بچوں سے بدفعلی کرنے والے جعلی پیر کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر تشدد اور سرمونڈنے کے بعد پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

مزیدپڑھیں: لاہور: نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی کا مبینہ گینگ ریپ

اس سے قبل سندھ کے ضلع خیرپور میں پولیس نے متعدد بچوں کے ساتھ بدفعلی کے الزام میں ریٹائرڈ اسکول ٹیچر کو گرفتار کیا تھا جس کی ایک بچے کے ساتھ بدفعلی کرتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

ملزم پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ اپنے طلبہ کو ایک دوسرے کے ساتھ جسمانی بدفعلی کرنے پر مجبور کرتا تھا۔

خیال رہے کہ غیر سرکاری تنظیم 'ساحل' کی مارچ میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2019 میں ملک بھر سے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے 2 ہزار 877 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں ہر روز 8 سے زیادہ بچوں کو کسی نہ کسی طرح کی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق صنفی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجموعی 2 ہزار 846 کیسز میں سے 54 فیصد متاثرین لڑکیاں اور 46 فیصد لڑکے تھے۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں