المیہ یہ کہ نہ حکومت عوام کے بارے میں سوچ رہی ہے اور نہ اپوزیشن!

10 دسمبر 2020
لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔
لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔

ایک جانب تو ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے، تو دوسری جانب ملک میں جاری سیاسی کھیل بھی شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔

قوم کو درپیش صحت کے اس بحران سے دونوں طرف کے سیاسی قائدین کی لاتعلقی پریشان کن ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں سیاسی برتری کے آگے انسانی جان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔

حزبِ اختلاف کے اتحاد کی جانب سے حکومت گرانے کے لیے لوگوں کو سڑکوں پر جمع کرنا اور ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ایک خلافِ عقل اقدام نظر آتا ہے۔

کورونا کی دوسری لہر ملک کو پہلی لہر کے مقابلے زیادہ شدت سے متاثر کر رہی ہے۔ اس موقع پر پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ (پی ڈی ایم) اگلے ہفتے مسلم لیگ (ن) کے سیاسی گڑھ لاہور میں ایک بڑے سیاسی شو کی تیاری کررہی ہے۔ پی ڈی ایم کے مطابق یہ ایک فیصلہ کن جلسہ ہوگا۔ وہ ماہرینِ صحت کی تنبیہہ کے باوجود زیادہ سے زیادہ لوگ جمع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

مزید پڑھیے: کورونا کے بڑھتے کیسز کے باوجود اپوزیشن جلسے کرنے سے کیوں نہیں رک رہی؟

پی ڈی ایم گزشتہ 3 ماہ سے حکومت مخالف مظاہرے کررہی ہے۔ لیکن کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھا جائے تو بڑے عوامی اجتماعات ہمارے نظامِ صحت کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔

ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا کے تقریباً 3 ہزار نئے مریضوں کا اضافہ ہورہا ہے اور یہ تعداد گزشتہ لہر کے دوران جون کے مہینے میں روزانہ سامنے آنے والے نئے مریضوں کی تعداد کے قریب پہنچ رہی ہے۔

گزشتہ مہینے کے دوران ملک بھر میں کورونا سے ہونے والی اموات میں خاصا اضافہ ہوا ہے، اس کے ساتھ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں اسپتالوں پر پڑنے والا بوجھ بھی واضح ہے۔ ان شہروں میں کئی علاقوں میں پہلے ہی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ پاکستان میں مستقبل قریب میں ویکسین کی دستیابی کے بھی کوئی امکانات نہیں ہیں، اس وجہ سے مستقبل کا ایک تاریک منظرنامہ سامنے آرہا ہے۔

اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات اور کیا ہوگی کہ حزبِ اختلاف کی جانب سے حکومتی بے حسی کو اپنی لاپرواہی کے جواز کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ حکومت خود بھی اس بحران سے نمٹنے میں سنجیدہ نہیں ہے اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ لیکن کیا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ دوسری طرف کے رویے کی توثیق کرتا ہے؟ یاد رہے کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے اس کھیل سے زیادہ انسانی جانیں قیمتی ہیں۔

ایسا لگ رہا ہے کہ طاقت کے اس کھیل نے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات سے توجہ ہٹا دی ہے۔ اس وائرس کے خلاف کوئی مؤثر قومی حکمتِ عملی نظر نہیں آرہی جو معاشی استحکام کی ہماری کوششوں کو نقصان پہنچانے والا ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان کورونا کی پہلی لہر پر مؤثر طریقے سے قابو پانے اور اس دوران ملکی معیشت کو بھی سنبھالے رکھنے کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ لیکن موجودہ لہر کے دوران وہ بھی حزبِ اختلاف کے ساتھ محاذ آرائی میں مصروف نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیے: غلطی کس کی؟ سیاسی جماعتوں کی یا اسٹیبلشمنٹ کی؟

عمران خان کے الجھے ہوئے خیالات کے علاوہ بھی این سی او سی کی شکل میں ایک نظام موجود ہے جو کورونا کے خلاف قومی کوششوں کی قیادت کرتا ہے۔ لیکن بگڑتے ہوئے سیاسی حالات نے کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے قومی حکمتِ عملی کی تیاری کی تمام کوششوں کو متاثر کیا ہے۔

اب ہر صوبہ ایک الگ راستے پر چل رہا ہے۔ این سی او سی نے شادی کی تقریبات اور بازاروں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت تو کی ہے لیکن ان ہدایات پر عمل کروانے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی، اور اس کی ایک بڑی وجہ موجودہ سیاسی صورتحال ہے۔

بدقسمتی سے حزبِ اختلاف اپنے رویے کو درست ثابت کرنے کے لیے حکومتی نااہلی کا سہارا لے رہی ہے۔ کورونا کے حوالے سے دونوں طرف کے مؤقف میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے۔ کورونا کی گزشتہ لہر کے دوران عمران خان لاک ڈاؤن کے سخت مخالف تھے جبکہ حزبِ اختلاف مکمل لاک ڈاؤن کے لیے شور مچا رہی تھی۔

لیکن اب حزبِ اختلاف کے بیانات تبدیل ہوچکے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے کچھ رہنماؤں نے تو یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ ہجوم جتنا بڑا ہوگا وائرس پھیلنے کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔ کچھ رہنما تو ملک میں اس وائرس کی موجودگی سے ہی انکار کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے خیالات ہیں جو جمہوریت اور عوام کے حقوق کے لیے لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

پی ڈی ایم کے رہنما ہر قیمت پر اپنی حکومت مخالف جدوجہد کو تیز تر کرنا چاہتے ہیں۔ پی ڈی ایم اس جدوجہد میں اپنے لاہور کے جلسے کو بہت اہمیت دے رہی ہے۔ ان کے لیے لاہور کا جلسہ جنوری 2021ء میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی راہ ہموار کرے گا۔

یہ ایک بہت بڑا جوا ہے اور اس حکمتِ عملی کی کامیابی بھی مشکوک ہے۔ پی ڈی ایم ایک ’نیوکلیئر آپشن‘ پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس نیوکلیئر آپشن سے مراد قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ دینا ہے۔ لیکن یہاں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تمام ممبرانِ اسمبلی اس فیصلے پر عمل کریں گے۔

دوسری جانب حکومت بھی کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی اور وہ حزبِ اختلاف کی بے احتیاطی کو انہی کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ کیا وزیرِاعظم حالات کی سنگینی سے انکار کر رہے ہیں؟ ملک میں موجودہ سیاسی عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ان کی محاذ آرائی کی سیاست ہے۔

مزید پڑھیے: دبئی جانے والے پاکستانیوں کی دردناک کہانی

حال ہی میں، اپنے ایک مداح کو دیے گئے ٹی وی انٹرویو میں ان کی خود کو مسیحا کے طور پر پیش کرنے کی عادت ظاہر ہورہی تھی۔ وہ پورا انٹرویو ان کے اپنے بارے میں اور میڈیا اور حزبِ اختلاف پر تنقید کے حوالے سے تھا۔ وہ یورپ میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور خاندانی نظام کے انحطاط کے بارے میں زیادہ فکرمند تھے۔

وزیرِاعظم اس بات سے بھی پریشان تھے کہ غیر ملکی ثقافتی اثرات کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں فحاشی بڑھ رہی ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے لوگوں کو ترکی کے ڈرامے دیکھنے کی تجویز پیش کی۔ وبا اور سیاسی عدم استحکام کے دوران اس قسم کے بیانات عجیب محسوس ہوتے ہیں۔ لوگوں کو توقع تھی کہ وزیرِاعظم اس صورتحال میں اسٹیٹس مین شپ کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں اس کا فقدان پایا جاتا ہے۔

کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال سیاسی منظرنامے کو بھی تبدیل کرسکتی ہے اور ملک کو کسی انجان راستے پر ڈال سکتی ہے۔ طاقت کا یہ بے رحم کھیل ملک کو ایک گہری کھائی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ یہ بات صرف کورونا کے حوالے سے نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے بھی ہے۔ اس وقت ملک میں قیادت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جو کورونا کے دوران مزید واضح ہوگیا ہے۔


یہ مضمون 9 دسمبر 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں