پاکستان نے باسمتی چاول پر بھارتی دعویٰ چیلنج کردیا

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2020

ای میل

مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے بدھ کی رات کی گئی ایک ٹوئٹ میں اس پیش رفت کی تصدیق کی—فائل فوٹو: رائٹرز
مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے بدھ کی رات کی گئی ایک ٹوئٹ میں اس پیش رفت کی تصدیق کی—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) پاکستان نے یورپی یونین میں باسمتی چاولوں کے لیے خصوصی جغرافیائی اشارے (جی آئی) حاصل کرنے کے بھارتی اقدام کے خلاف درخواست دائر کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی پی او پاکستان نے برسلز میں موجود ایک بین الاقوامی لا فرم کے ذریعے ریگولیشن (ای یو) کی دفعہ 51 کے تحت مخالف درخواست جمع کروائی۔

مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے بدھ کی رات کی گئی ایک ٹوئٹ میں اس پیش رفت کی تصدیق کی، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ حکومت پوری تندہی اور عزم کے ساتھ اس کیس کا دفاع کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: باسمتی چاول کی ملکیت کے حوالے سے بھارتی دعویٰ چیلنج کرنے کا فیصلہ

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا کہ 'میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے یورپی یونین میں چاول کی برآمدات کے لیے باسمتی چاول کے خصوصی حقوق کی درخواست کی مخالفت میں درخواست دائر کردی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاول سے منسلک افراد کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم بھرپور تندہی اور عزم کے ساتھ اس کیس کا دفاع کریں گے۔

جہاں بھارت بین الاقوامی سطح پر باسمتی چاول کی 65 فیصد تجارت کرتا ہے وہیں بقیہ 35 فیصد باسمتی چاول پاکستان پیدا کرتا ہے جو ملک کی سالانہ 80 کروڑ سے ایک ارب ڈالر برآمدات کے برابر ہے۔

مزید پڑھیں: برآمد کنندگان نے یورپی یونین میں باسمتی چاول پر بھارتی دعوے کو چیلنج کردیا

آئی پی او کے ایک عہدیدار نے کہا کہ یورپی کمیشن کے قواعد کے تحت کوئی درخواست جب باضابطہ جنرل میں شائع ہوجائے تو اس کے 3 ماہ کے اندر مخالفت دائر کرنا ہوتی ہے، پاکستان نے اس مہلت کے ختم ہونے سے 2 روز قبل اپنی درخواست دائر کردی۔

11 ستمبر کے یورپی یونین کے باضابطہ جنرل کے مطابق بھارت نے یورپی پارلیمنٹ کے ریگولیشن کے آرٹیکل 50 اور کونسل آن کوالٹی اسکیم فار ایگریکلچر پروڈکٹس کے تحت باسمتی چاولوں کے لیے جی آئی ٹیگ کی درخواست دی تھی۔

تاہم 22 ستمبر کو پاکستانی حکومت نے یورپی یونین میں باسمتی چاول کے لیے جی آئی ٹیگ کے خصوصی حقوق حاصل کرنے کی درخواست کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اعتراض پر سعودی عرب نے 'کرنل' چاول کی رجسٹریشن منسوخ کردیا

جغرافیائی اشارے کا تحفظ کسی ملک کو اس کی برآمدات بڑھانے، دیہی ترقی میں معاونت اور ہنر مندوں، زرعی مصنوعات پیدا کرنے والوں کے روزگار کو فروغ میں مدد دیتا ہے۔

جی آئی مصنوعات کی مارکیٹنگ ضمنی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتی ہیں تاکہ علاقائی معاشی ترقی میں اضافہ ہو۔

جی آئی قانون مقامی پاکستانی مصنوعات مثلاً پشاوری چپل، ملتانی نیلے نقشین کاری والے ظروف، ہنزہ کی خوبانی، ہالہ کی اجرک، قصوری میتھی، چمن کے انگور اور تربت کی کھجوروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔