مزیدار گریاں جسم کو کیا فوائد پہنچاتی ہیں؟

12 دسمبر 2020
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

سرد موسم میں گریوں کا استعمال بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

مزیدار ہونے کے ساتھ یہ آسانی سے دستیاب اور اکثر افراد کو پسند بھی ہوتی ہیں اور جنک فوڈ کے متبادل کے طور پر کھائی جاسکتی ہیں۔

اگرچہ ان میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے مگر یہ صحت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

گریاں عام طور پر ایسے بیج ہوتے ہیں جو مختلف پودوں سے حاصل کیے جاتے ہیں، جن کا باہری خول سخت ہوتا ہے اور توڑ کر ہی کھایا جاتا ہے۔

بادام، کاجو، پستے، اخروٹ قابل ذکر گریاں ہیں، ویسے تو مونگ پھلی مٹر کی نسل سے ہے مگر اسے بھی گریوں کا ہی حصہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی غذائی خصوصیات ان سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔

صحت کے لیے گریوں کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

متعدد غذائی اجزا کے حصول کا بہترین ذریعہ

28 گرام مکس گریوں میں 173 کیلوریز، 5 گرام پروٹین، 16 گرام چکنائی، 6 گرام کاربوہائیڈریٹس، 3 گرام فائبر، وٹامن ای کی روزانہ درکار مقدار کا 12 فیصد، میگنیشم کی روزانہ درکار مقدار کا 16 فیصد، فاسفورس کی روزانہ درکار مقدار کا 13 فیصد، کاپر کی روزانہ درکار مقدار کا 23 فیصد، مینگینز کی روزانہ درکار مقدار کا 26 فیصد اور سیلینیم کی روزانہ درکار مقدار کا 56 فیصد حصہ جسم کو مل جاتا ہے۔

کچھ گریوں میں دیگر کے مقابلے میں مخصوص اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور

گریاں اینٹی آکسائیڈنٹس کا خزانہ ثابت ہوتی ہیں، جو جسم میں تکسیدی تناؤ کا مقابلہ کرکے خلیات کو پہنچنے والے نقصان سمیت دیگر امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مچھلی کے مقابلے میں اخروٹ جسم میں گردش کرنے والے مضر ذرات سے لڑنے کی زیادہ بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ اخروٹ اور باداموں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس خلیات کو تکسیدی تناؤ سے ہونے والے نقصان سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بادام یا اخروٹ کھانے سے لوگوں میں پولی فینولز کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ تکسیدی تناؤ سے ہونے والے نقصان میں نمایاں کمی آتی ہے۔

تاہم بزرگ افراد اور میٹابولک سینڈروم کے شکار مریضوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ اخروٹ اور کاجو سے اینٹی آکسائیڈنٹ کاا زیادہ اثر نہیں ہوتا، مگر کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی میں مددگار

ویسے تو گریوں میں کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہیں مگر تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملا ہے کہ ان کا استعمال جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ گریاں کھانے والے افراد کے کمر کی چوڑائی میں اوسطاً 2 انچ کمی آئی۔

بادام کھانے سے جسمانی وزن میں کمی آتی ہے اور کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق پستے بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

زیادہ جسمانی وزن کی شکار خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بادام کھانے والی خواتین کے جسمانی وزن میں کنٹرول گروپ کے مقابلے میں لگ بھگ 3 گنا کمی آئی۔

اگرچہ ان میں کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں مگر طبی سائنس نے دریافت کیا ہے کہ ہمارا جسم ان سب کو جذب نہیں کرتا۔

کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح میں کمی

گریوں سے کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح میں بہتری آتی ہے۔

موٹاپے کے شکار یا ذیابیطس سے متاثر افراد میں پستے کھانے سے ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح میں کمی آتی ہے۔

چونکہ گریوں میں فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو اس کے باعث بلڈ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

بادام کھانے سے جسم میں صحت کے لیے فائدہ مند ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ جبکہ نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے۔

میٹابولک سینڈروم کی کار خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 30 گرام اخروٹ، مونگ پھلی اور پائن نٹس کا 6 ہفتوں تک استعمال کرنے سے کولیسٹرول کی سطح میں کمی آئی۔

ذیابیطس ٹائپ 2 اور میٹابولک سینڈروم سے تحفظ

ذیابیطس ٹائپ ٹو سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد متاثر ہیں جبکہ میٹابولک سینڈروم ایسے عناصر کے گروپ کو کہا جاتا ہے جس کے نتیجے میں امراض قلب، فالج اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو اور میٹابولک سینڈروم کو ایک دوسرے سے منسلک سمجھا جاتا ہے اور گریاں ان کے شکار افراد کے لیے چند بہترین غذاؤں میں سے ایک ہے۔

گریوں میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم ہوتی ہے اور ان کو کھانے سے بلڈشوگر کی سطح میں زیادہ اضافہ نہیں ہوتا۔

تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ گریوں کو کھانے سے ذیابیطس اور میٹابولک سینڈروم کے شکار افراد میں تکسیدی تناؤ، بلڈ پریشر اور دیگر کی سطح میں کمی آتی ہے۔

ورم میں کمی

گریوں میں طاقتور ورم کش خصوصیات ہوتی ہیں۔

ورم جسم کا کسی زخم، بیکٹریا اور دیگر نقصان دہ جراثیموں سے دفاع کا ایک ذریعہ ہوتا ہے، تاہم طویل المعیاد اور دائمی ورم سے اعضا کو نقصان پہنچتا ہے اور امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ گریاں کھانے سے ورم کی سطح میں کمی آسکتی ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ صحت مند رہنا ممکن ہوتا ہے۔

کچھ گریاں جیسے پستے، اخروٹ اور بادام صحت مند افراد کے ساتھ ساتھ ذیابیطس اور گردوں کے امراض کے شکار افراد کو ورم سے لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

مفید فائبر سے بھرپور

فائبر جسم کو متعدد طبی فوائد فراہم کرتا ہے، اگرچہ ہمارا جسم فائبر کو ہضم نہیں کرپاتا، مگر آنتوں میں رہنے والے بیکٹریا ایسا کرتے ہیں۔

فائبر کی متعدد اقسام پری بایوٹیکس یا معدے میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹریا کی غذا کا کام کرتی ہیں۔

یہ بیکٹریا فائبر کو فائدہ مند شارٹ چین فیٹی ایسڈز میں تبدیل کردیتا ہے جو معدے کی صھت کو بہتر بنانے کے ساتھ ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ فائبر پیٹ کو بھرنے کا احساس دلاتا ہے اور کم کیلوریز کو جزوبدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔

28 گرام بادام سے جسم کو ساڑھے 3 گرام، پستے سے 2.9 گرام، مونگ پھلی سے 2.6 گرام فائبر ملتا ہے۔

فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم کرے۔

گریاں دل کے لیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہیں۔

متعدد تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گریوں سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے کیونکہ اس سے کولیسٹرول لیول کی سطح میں کمی، شریانوں کے افعال میں بہتری اور ورم کم ہوتا ہے۔

نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کے چھوٹے ذرات سے امراض قلب کا خطرہ زیادہ بڑھتا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں