وزیر اعظم سے آرمی چیف، سربراہ آئی ایس آئی کی ملاقات

اپ ڈیٹ 25 دسمبر 2020

ای میل

وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ایل او سی پر بھارت کی خلاف ورزیوں پر بھی بات کی گئی—فوٹو/ اسکرین گریب
وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ایل او سی پر بھارت کی خلاف ورزیوں پر بھی بات کی گئی—فوٹو/ اسکرین گریب

سول اور عسکری قیادت نے عوام کے تعاون کے ساتھ ملک کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے ملاقات کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران پاک فوج کے پیشہ ورانہ معاملات، بیرونی اور اندرونی سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں 'مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا'۔

مزید پڑھیں: بھارت کو جارحیت اور مِس ایڈونچر کا ہمیشہ منہ توڑ جواب ملے گا، آرمی چیف

اس موقع پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کے بلااشتعال جارحانہ اقدامات اور جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھی بات کی گئی۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ 'اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مادر وطن کا دفاع پوری قوم کے تعاون سے ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا'۔

خیال رہے کہ اس ملاقات سے دو روز قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی فوج کو خبردار کیا تھا کہ سرحد پر کسی قسم کی جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔تھا جہاں انہیں ایل او سی کی تازہ صورتحال، بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے سے متعلق بریفنگ دی گئی، جبکہ بین الاقوامی قوانین و اقدار کے برخلاف اقوام متحدہ (یو این) کی گاڑی کو ہدف بنانے پر بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے جوانوں کی آپریشنل تیاریوں اور بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے افسران و جوانوں کی مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے راولاکوٹ میں اپنی گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کردی

انہوں نے کہا کہ بھارت کی اشتعال انگیزیاں بالخصوص حال ہی میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی گاڑیوں کو نشانہ بنانا علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کو کسی بھی جارحیت اور مِس ایڈونچر کا ہمیشہ منہ توڑ جواب ملے گا، جکہ پاک فوج ایل او سی پر آبادی کے تحفظ کے لیے اقدامات بروئے کار لائے گی اور ملک کے وقار اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے متحدہ عرب امارات میں بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت، پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور ہم بھارت کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس منصوبے سے آگاہ اور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

اسی روز بھارتی فوج نے ایل او سی سے ملحقہ آزاد جموں و کشمیر کے سیکٹر چری کوٹ پر فائرنگ کر کے اقوام متحدہ کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا جس میں پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کے مبصر ملٹری گروپ کے دو افسران سوار تھے۔

اگلے روز اقوام متحدہ نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کی گاڑی کو لائن آف کنٹرول پر جمعہ کے روز پاکستان کی طرف راولاکوٹ کے قریب 'نامعلوم چیز' کی زد میں آنے سے نقصان پہنچا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت، پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کی منصوبہ بندی کررہا ہے، وزیر خارجہ

اتوار کو وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برداری کو واضح کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی آپریشن کیا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کو خبردار کرنا چاہتاہوں کہ بھارت میں بڑھتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل خاص کر معاشی تنزلی، کسانوں کے احتجاج اور کووڈ-19 کی ناقص حکمت عملی سے مودی حکومت پاکستان کے خلاف جعلی فلیگ آپریشن کے ذریعے اندرونی چپقلش سے توجہ ہٹائے گی'۔