نیب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو گرفتار کرلیا

اپ ڈیٹ 29 دسمبر 2020
مذکورہ پیش رفت سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے تصدیق کی — فائل فوٹو: رائٹرز
مذکورہ پیش رفت سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے تصدیق کی — فائل فوٹو: رائٹرز

قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کو آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق کیس میں گرفتار کرلیا۔

اس پیش رفت سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ نیب نے خواجہ آصف کو اسلام آباد میں احسن اقبال کے گھر کے قریب سے گرفتار کیا۔

مزید پڑھیں: نیب نے خواجہ آصف کو 26 جون کو طلب کرلیا

اس ضمن میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے بتایا کہ خواجہ آصف کو نیب نے اسلام آباد میں احسن اقبال کے گھر میں مسلم لیگ (ن) کے اجلاس کے بعد گرفتار کیا۔

واضح رہے کہ خواجہ آصف کی گرفتاری سے محض کچھ دیر پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کا مشاورتی اجلاس جاری تھا جس میں تبادلہ خیال ہو رہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے گی یا نہیں۔

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں خواجہ آصف کی جانب سے پیش کردہ جوابات نیب لاہور کو مطمئن نہیں کرسکے، جس کے بعد نیب کی ٹیم اسلام آباد پہنچی اور سابق وزیر دفاع کو گرفتار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کی شہباز شریف کے ساتھ ’خفیہ‘ ملاقات پر نیب کی خاموشی

خیال رہے کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں خواجہ آصف کے وارنٹ گرفتاری سے متعلق کوئی تذکرہ نہیں تھا۔

جے یو آئی (ف) کی مذمت

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) نے خواجہ آصف کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

جے یو آئی (ف) کے ترجمان اسلم غوری نے ٹوئٹ میں کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب اپوزیشن فیصلہ کن تحریک کی تیاری میں ہے ایسے ہتھکنڈے حکومتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب انتقامی کارروائی کے لیے ڈکٹیٹر کا بنایا ہوا ادارہ ہے۔

اسلم غوری نے کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے قیادت کو پے درپے انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

خوجہ آصف کو کل احتساب عدالت اسلام آباد میں ٹرانزٹ ریمانڈ کیلئے پیش کیا جائے گا، نیب

نیب لاہور کی جانب سے جاری اعلامیے میں تصدیق کی گئی کہ سابق وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کو نیب لاہور نے مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔

نیب لاہور کے مطابق خواجہ آصف کی وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی جانب سے جاری کیے گئے اور ملزم کو کل احتساب عدالت اسلام آباد کے روبرو پیش ٹرانزٹ ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے خلاف نیب قانون این اے او 1999 کی شق (v) اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی سیکشن (3) کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔

نیب لاہور کے مطابق ملزم خواجہ آصف 1991 میں بطور سینیٹر عہدہ سنبھالا جو بعد ازاں مختلف ادوار میں وفاقی وزیر اور ایم این اے بھی رہے۔

اعلامیے کے مطابق عوامی عہدہ رکھنے سے قبل 1991 میں خواجہ آصف کے مجموعی اثاثہ خات 51 لاکھ روپے پر مشتمل تھے تاہم 2018 تک مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد ان کے اثاثہ جات 221 ملین تک پہنچ گئے جو ان کی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے یو اے ای کی ایک فرم بنام M/S IMECO میں ملازمت سے 13 کروڑ روپے حاصل کرنے دعوی کیا تاہم دوران تفتیش وہ بطور تنخواہ اس رقم کے حصول کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے۔

نیب لاہور کے مطابق اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے جعلی ذرائع آمدن سے اپنی حاصل شدہ رقم کو ثابت کرنا چاہا۔

نیب کے مطابق ملزم خواجہ آصف اپنے ملازم طارق میر کے نام پر ایک بے نامی کمپنی بنام ’طارق میر اینڈ کمپنی‘ بھی چلا رہے ہیں جس کے بینک اکاؤنٹ میں 40 کروڑ کی خطیر رقم جمع کروائی گئی اگرچہ اس رقم کے کوئی خاطر خواہ ذرائع بھی ثابت نہیں کیے گئے۔

نیب نے کہا کہ نیب انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا خواجہ آصف کی ظاہر کردہ بیرونی آمدن آیا درست ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انکوائری میں ظاہر ہوا کہ مبینہ بیرون ملک ملازمت کے دورانیہ میں ملزم خواجہ آصف پاکستان میں ہی تھے جبکہ بیرون ملک ملازمت کے کاغذات محض جعلی ذرائع آمدن بتانے کے لیے ہی ظاہر کیے گئے۔

واضح رہے کہ نیب لاہور نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کے خلاف سیالکوٹ میں ’غیر قانونی طور پر‘ رہائشی منصوبہ شروع کرنے کے خلاف تحقیقات میں رواں سال 26 جون کو طلب کیا تھا۔

نیب نے خواجہ آصف کو ٹھوکر نیاز بیگ ہیڈ کوارٹرز میں کمبائنڈ انویسٹیگیشن ٹیم (سی آئی ٹی) کے سامنے کینٹ ویو ہاؤسنگ سوسائٹی سیالکوٹ کے امور سے متعلق ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

رہنما مسلم لیگ (ن) کو جاری کیے گئے نوٹس میں نیب نے کہا تھا کہ ’اکٹھے کیے گئے شواہد سے بادی النظر یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ (خواجہ آصف) نے کینٹ ویو ہاؤسنگ سوسائٹی سیالکوٹ کے نام سے رہائشی منصوبہ قائم کیا جو غیر قانونی طور پر چلایا جارہا تھا‘۔

مزید پڑھیں: ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل: خواجہ آصف کی اہلیہ اور بیٹے کے خلاف مقدمہ

نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ ’آپ سے درج ذیل باتوں پر جواب درکار ہے: منصوبے میں آپ، آپ کے اہل خانہ (اہلیہ اور بیٹے) اور دیگر شراکت داروں یا رشتہ داروں کی جانب سے سرمایہ کاری کیے گئے فنڈز کی مقامی مقدار اور ذرائع کیا تھے۔

نیب، قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 18 (سی) کے تحت کینٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان، ڈویلپرز کے علاوہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گوجرانوالہ کے سابق ڈائریکٹر شیخ فرید، اے سی ای اے ڈی ای قاسم کے خلاف بھی تحقیقات کررہا ہے۔

نیب کے نوٹس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے ڈان کو بتایا تھا کہ ’میں اس سلسلے میں اپنا جواب نیب کو جمع کروا دوں گا اور اس معاملے پر میڈیا پر بات نہیں کروں گا‘۔

نیب نے سیالکوٹ سے ہی تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی شکایت پر خواجہ آصف کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات پر تحقیقات کی تھیں۔

عثمان ڈار نے خواجہ آصف پر الیکشن کمیشن سے آف شور اثاثے چھپانے کا الزام لگایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رہنما مسلم لیگ (ن) ابوظہبی میں موجود کمپنی سے 16 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کررہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیب عدم شواہد کی بنا پر خواجہ آصف کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات بند کرچکا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں