فردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

اپ ڈیٹ 09 جنوری 2021

ای میل

فی الوقت اپنے استعفے کی وجوہات ظاہر نہیں کرنا چاہتا، وجوہات جلد ہی سامنے آجائیں گی، فردوس شمیم نقوی - فائل فوٹو:ڈان نیوز
فی الوقت اپنے استعفے کی وجوہات ظاہر نہیں کرنا چاہتا، وجوہات جلد ہی سامنے آجائیں گی، فردوس شمیم نقوی - فائل فوٹو:ڈان نیوز

کراچی: سندھ اسمبلی کے رکن فردوس شمیم نقوی نے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے استعفی دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صوبائی اسمبلی کے احاطے میں قائم 'میڈیا کارنر' میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ اب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کےعہدے پر فائز نہیںرہیںگے اور انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھیج دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'میں تحریک انصاف کا ایک عام کارکن ہوں اور پارٹی کی خدمت کرتا رہوں گا، تحریک انصاف میری پہلی اور آخری سیاسی جماعت تھی اور وہ کسی دوسری پارٹی میں شامل نہیں ہو رہے'۔

انہوں نے بتایا کہ وہ فی الوقت اپنے استعفے کی وجوہات ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں، 'وجوہات جلد ہی سامنے آجائیں گی'۔

معلومات رکھنے والے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ یہ دوسرا موقع تھا جب پارٹی قیادت نے فردودس شمیم نقوی کا استعفی طلب کیا تھا۔

مزید پڑھیں: قیادت پر تنقید: فردوس شمیم نقوی سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے مستعفی

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ستمبر 2020 میں پی ٹی آئی کی قیادت نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا تاہم فردوس شمیم نقوی پارٹی قیادت کو راضی کرکے کسی نہ کسی طرح اس پوزیشن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ فردوس شمیم نقوی کی کارکردگی اور ان کے 'متنازع بیانات' کی وجہ سے پارٹی نے ان کا استعفیٰ طلب کیا ہے۔

دریں اثنا انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، سندھ کے نائب صدر حلیم عادل شیخ، جو اس وقت صوبائی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ہیں، کو اپوزیشن لیڈر بنائے جانے کا امکان ہے۔

'کراچی کے لیے 250 نئی بسز تاخیر کا شکار ہیں'

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ 2021 کے آخر تک 250 نئی بسز کراچی کی سڑکوں پر چلیں گی۔

سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران قانون سازوں کے تحریری اور زبانی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ نے پہلے ہی وزیر اعلٰی کو خط لکھ دیا ہے جس میں ان سے بسز کی خریداری کے لیے مناسب فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے تمام کاغذی کارروائی کرلی ہے اور ٹینڈرنگ کا عمل شروع کرنے کے لیے صرف فنڈز کی ضرورت ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: تابش گوہر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی کے عہدے سے مستعفی

اویس شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت رواں سال پاکستان کے دو 'سب سے بڑے' ٹرانسپورٹ منصوبوں کی بنیاد رکھنے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں 250 بسز لانے کا منصوبہ 2020 تک مکمل ہونا تھا تاہم کورونا وائرس اور دیگر امور کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ ‘

'کراچی میں ایک بھی بس نہیں چلائی گئی'

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی نصرت سحر عباسی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی زیر قیادت صوبائی حکومت کو 'اپنے 12 سالہ دور حکومت میں ایک بس تک نہیں چلانے' پر تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیروں کو بہت دفعہ تبدیل کیا جاتا رہا اور ہر وزیر ٹرانسپورٹ منصوبے کی تکمیل کے لیے نئی تاریخ دیتا رہا تاہم کوئیفائدہ نہیں ہوا'۔

وزرا کی وزیر اعظم کے ریمارکس پر تنقید

اسمبلی کی کارروائی کے دوران صوبائی وزرا نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے مظاہرین پر وزیر اعظم کے حالیہ بیان پر تنقید کی۔

مزید پڑھیں: فردوس شمیم نقوی ’کے فور‘ منصوبے کی عدم تکمیل پر حکومت سندھ، ایف ڈبلیو او پر برس پڑے

انہوں نے مظاہرین اور متاثرین کے اہل خانہ سے کہا کہ وہ وزیر اعظم کا انتظار نہ کریں اور آخری رسومات ادا کریں۔

کانوں اور معدنیات کے وزیر میر شبیر علی بجارانی نے کہا کہ وزیر اعظم نے مظاہرین کو 'بلیک میلرز' قرار دیا۔

انہوں نے متاثرہ افراد کے اہل خانہ سے درخواست کی کہ وہ اپنے پیاروں کی آخری رسومات کریں۔

وزیر وومن ڈیولپمنٹ شہلا رضا نے کہا کہ وزیر اعظم ہزارہ برادری سے تعزیت کے لیے دھرنے کا دورہ نہیں کریں گے کیونکہ 'انہیں ان کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی'۔

وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ وزیر اعظم کے بیانات سے ہر پاکستانی کے جذبات مجروح ہوے۔

صوبائی وزرا نے ہزارہ برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں ہونے والے 35 دھرنوں کے مظاہرین سے کہا کہ وہ اپنا مظاہرہ ایک مرکزی جگہ پر جمع ہوکر کریں 'کیونکہ سڑکوں اور گلیوں کی بندش کی وجہ سے عوام کو گزشتہ چند دنوں سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے'۔ ‘

'سندھ اسمبلی کو خطرہ’

کارروائی کے دوران اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کو ایک بڑے خطرہ کا سامنا ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ 'قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چند لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے اسمبلی کے داخلے اوردیگر مقامات کی تصاویر برآمد ہوئی ہیں'۔