’ڈینیئل پرل کیس میں وکیل، گواہوں اور ججز تک کو دھمکیاں دی گئیں‘

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

امریکی صحافی کو 2002 میں قتل کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان
امریکی صحافی کو 2002 میں قتل کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف ڈینیئل پرل کے قتل کے ٹرائل کو وکلا، گواہوں اور یہاں تک کہ کیس کی سماعت کرنے والے ججز کو دھمکیاں ملنے کے بعد اسے انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کراچی سے اے ٹی سی حیدرآباد منتقل کیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈینیئل پرل کے والدین کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سماعت کرنے والے 3 رکنی بینچ کے سامنے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کو فیصلہ سناتے ہوئے ان حقائق اور حالات کا علم ہونا چاہیے۔

وکیل نے کہا کہ چونکہ وکلا، گواہوں اور یہاں تک کہ ججز کو بھی دھمکیاں ملی تھیں، جس پر اس کیس کو اے ٹی سی کراچی سے حیدرآباد منتقل کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: امریکا کو ملزمان کی رہائی کے عدالتی فیصلے پر ’شدید تشویش‘

واضح رہے کہ بینچ حکومت سندھ اور مقتول صحافی کے والدین رتھ اینڈ جوڈیا پرل کی جانب سے دائر کی گئی متفرق درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جہاں فیصل صدیقی والدین کی نمائندگی کر رہے وہیں مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کی نمائندگی ایڈووکیٹ محمود اے شیخ کے ذریعے کی جارہی ہے۔

مذکورہ اپیلوں میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 اپریل کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں ڈینیئل پرل کے مبینہ اغوا اور قتل پر احمد عمر سعید شیخ کو دی گئی سزا تبدیل کردی گئی تھی۔

38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کر رہے تھے، بعد ازاں ایک ماہ کے اغوا کے بعد امریکی قونصلیٹ کو ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی ایک گرافک ویڈیو موصول ہوئی تھی۔

جس کے بعد 2002 میں احمد شیخ کو گرفتار کیا گیا تھا اور ٹرائل کورٹ نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔

تاہم 2 اپریل 2020 کو سندھ ہائی کورٹ نے عمر شیخ کی سزا کو 7 سال کردیا تھا جبکہ دیگر 3 ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب، جنہیں پہلے عمر قید کی سزا ملی تھی، انہیں بری کردیا تھا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ مجرمانہ انصاف کے نظام میں ملزم ہمیشہ عدالت کا من پسند بچہ جبکہ متاثرہ فرد نظرانداز کیا جانے والا بچہ تصور کیا جاتا ہے، اس کیس میں عدالت عظمیٰ کو توازن برقرار رکھنا چاہیے اور گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو جانے نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف اعترافی بیانات کی بنیاد پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: بری ہونے والے ملزمان کی نظر بندی کالعدم قرار، رہائی کا حکم

علاوہ ازیں وکیل دفاع محمود اے شیخ نے ملزم کی جانب سے مؤقف اپنایا کہ یہ ہائی پروفائل کیس اور سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں بریت کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکن فیڈل بیورو آف انویسٹی گیشن کی ٹیم یہاں آئی تھی اور پاکستانی پولیس شدید دباؤ میں تھی، لہٰذا انہوں نے غلط اعتراف کے لیے مختلف طرح کے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جبکہ پولیس نے یہ دکھایا تھا کہ انہوں نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے جس سے اعتراف کرلیا ہے۔

محمود شیخ کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو شکوک و شبہات سے بالاتر ہوکر ثابت کرنے کے لیے استغاثہ پر بوجھ تھا، ساتھ ہی انہوں نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ کسی کی زندگی محض اندازے اور قیاس آرائیوں پر کیسے لی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’استغاثہ نے عدالت کے سامنے غلط اور من گھڑت ثبوت پیش کیے اور استغاثہ کی کمزوری ملزمان کے حق میں چلی جاتی ہے‘۔


یہ خبر 13 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی