آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: خواجہ آصف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

خواجہ آصف سابق دور حکومت میں وزیر دفاع بھی رہے ہیں —فائل فوٹو: فیس بک
خواجہ آصف سابق دور حکومت میں وزیر دفاع بھی رہے ہیں —فائل فوٹو: فیس بک

لاہور کی احتساب عدالت نے آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میں سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کردی۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے خواجہ آصف کو احتساب عدالت پہنچایا، جہاں ان کی نمائندگی کے لیے سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔

بعد ازاں احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کی جہاں نیب نے خواجہ آصف کے ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع کی استدعا کی۔

اس پر جج نے نیب کے وکیل سے پوچھا کہ نیب کو کیوں خواجہ آصف کا مزید جسمانی ریمانڈ چاہیے، جس پر احتساب ادارے کے وکیل عاصم ممتاز کا کہنا تھا کہ گزشتہ ریمانڈ میں خواجہ آصف کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں، خواجہ آصف نے بیرون ملک سے تنخواہ کی مد میں پیسہ وصول کیا لیکن بینک اسٹیٹمنٹ نہیں دی۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: خواجہ آصف کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے طارق میر کمپنی میں 50 فیصد شیئرز ہیں لیکن اس کے ذرائع نہیں بتاسکے، مزید یہ کہ 51 کروڑ 70 لاکھ طارق میر کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے لیکن جمع کیوں کرائے وجہ نہیں بتائی گئی۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کے کیس میں مزید لوگوں کو شامل تفتیش کرنا ہے، اس پر جج نے پوچھا کہ یہ 51 کروڑ 70 لاکھ خواجہ آصف کی جیب میں گئے یا نہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ اس بارے تفتیش ہونا باقی ہے، اس لیے تو ریمانڈ چاہیے۔

نیب کے وکیل کی بات پر جج نے پوچھا کہ جس نے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرائے انہوں نے نکلوا بھی لیے، اس میں خواجہ آصف کا کیا کردار ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف کے ذاتی اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے جمع ہوئے اور نکلے، مزید لوگوں کو شامل تفتیش کر رہے ہیں لہٰذا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

سماعت کے دوران نیب وکیل کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے مختلف کمپنیز میں شیئرز خریدے، اس پر عدالت نے پوچھا کہ آپ نے منی لانڈرنگ کا بھی لکھا ہوا ہے، وہ کیوں لکھا، جس پر وکیل نیب نے کہا کہ خواجہ آصف کو جو بیرون ملک سے رقم آئی اس کے ذرائع نہیں بتائے جا رہے۔

بعد ازاں نیب کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کیے جس پر خواجہ آصف کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دینا شروع کیے اور سب سے پہلے نیب کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی مخالفت کی۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت منصفانہ ٹرائل ہر ملزم کا بنیادی حق ہے تاہم یہاں یہ بات عدالت سے چھپائی جا رہی ہے کہ یہ انکوائری شروع کب کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مارچ 2019 میں خواجہ آصف کے خلاف نیب راولپنڈی نے انکوائری شروع کی، جس پر جج نے پوچھا کہ تب حکومت کس کی تھی، جس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں یہ کیس بنا ہے۔

اس پر جج نے کہا کہ 2019 میں تو لانگ مارچ نہیں تھا؟ جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

تاہم عدالت میں دلائل جاری رکھتے ہوئے خواجہ آصف کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب لاہور کو انکوائری منتقل کی گئی اور 5 کال اپ نوٹس کے خواجہ آصف نے جواب دیے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 13 دن میں صرف 4 مرتبہ کچھ منٹ تفتیش کے لیے خواجہ آصف کے پاس آئے۔

یہ بھی پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: خواجہ آصف کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور

انہوں نے کہا کہ نیب والے کوئی ایک جرم بتا دیتے جو خواجہ آصف نے کیا ہو، جائیداد رکھنا اور کاروبار کرنا کوئی جرم نہیں ہے، معاملہ ایف بی آر اور خواجہ آصف کے درمیان ہے، یہ نیب بیچ میں کہاں سے آگیا، نیب کی جانب سے سیاسی کیس بنایا گیا ہے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ نیب کی خواجہ آصف کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کی جائے اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے تمام ریکارڈ نیب کو پہلے ہی جمع کرا دیے ہیں، اس سے زیادہ خواجہ آصف کیا دیں؟ کیا خواجہ آصف اپنی جان دے دیں؟

وکیل نے کہا کہ نیب والے چاہتے ہیں خواجہ آصف نیب کے سامنے پھندا ڈال کے ان کے سامنے کھڑے ہوجائیں۔

بعد ازاں انہوں نے اپنے دلائل مکمل کردیے، جس کے بعد عدالت نے خواجہ آصف کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ سناتے ہوئے اس میں 22 جنوری تک توسیع کردی۔

خواجہ آصف کی گرفتاری اور کیس

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو قومی احتساب بیورو نے 29 دسمبر کی رات گرفتار کیا تھا اور اگلے ہی روز راولپنڈی کی احتساب عدالت میں پیش کر کے ان کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد انہیں نیب لاہور منتقل کردیا تھا۔

نیب کی جانب سے جاری کردہ خواجہ آصف کی تفصیلی چارج شیٹ کے مطابق وہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 4 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3 کے تحت رہنما مسلم لیگ (ن) کے خلاف تفتیش کررہے تھے۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عوامی عہدہ رکھنے سے قبل 1991 میں خواجہ آصف کے مجموعی اثاثہ جات 51 لاکھ روپے پر مشتمل تھے تاہم 2018 تک مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد ان کے اثاثہ جات 22 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچ گئے جو ان کی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں:نیب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو گرفتار کرلیا

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے یو اے ای کی ایک فرم بنام M/S IMECO میں ملازمت سے 13 کروڑ روپے حاصل کرنے کا دعوی کیا تاہم دوران تفتیش وہ بطور تنخواہ اس رقم کے حصول کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے جعلی ذرائع آمدن سے اپنی حاصل شدہ رقم کو ثابت کرنا چاہا۔

احتساب کے ادارے کے مطابق ملزم خواجہ آصف اپنے ملازم طارق میر کے نام پر ایک بے نامی کمپنی بنام ’طارق میر اینڈ کمپنی‘ بھی چلا رہے ہیں جس کے بینک اکاؤنٹ میں 40 کروڑ کی خطیر رقم جمع کروائی گئی، اگرچہ اس رقم کے کوئی خاطر خواہ ذرائع بھی ثابت نہیں کیے گئے۔

نیب نے کہا کہ نیب انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا خواجہ آصف کی ظاہر کردہ بیرونی آمدن آیا درست ہے یا نہیں اور انکوائری میں ظاہر ہوا کہ مبینہ بیرون ملک ملازمت کے دورانیہ میں ملزم خواجہ آصف پاکستان میں ہی تھے جبکہ بیرون ملک ملازمت کے کاغذات محض جعلی ذرائع آمدن بتانے کے لیے ہی ظاہر کیے گئے۔