ٌپاکستان اور ترکی کا بین الاقوامی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

عمران خان نے جموں و کشمیر کے تنازع پر ترکی کی طرف سے پاکستان کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا — فوٹو: پی آئی ڈی
عمران خان نے جموں و کشمیر کے تنازع پر ترکی کی طرف سے پاکستان کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا — فوٹو: پی آئی ڈی

پاکستان اور ترکی نے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر باہمی دلچسپی کے امور پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور ترکی کے وزیر خارجہ نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

عمران خان نے جموں و کشمیر کے تنازع پر ترکی کی طرف سے پاکستان کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا اور بھارتی اقدامات کو امن و سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا۔

انہوں نے افغان امن عمل کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا اور تشدد میں کمی کے ذریعے جنگ بندی اور افغان مسئلہ کے وسیع البنیاد سیاسی حل کی تمام افغان فریقین کے لیے اہمیت کا ذکر کیا۔

مزید پڑھیں: ’پاکستان کی ترکی سے سرحد نہیں، دل اور دماغ ملتے ہیں‘

وزیر اعظم نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے اور حضور اکرمؐ کی ذات مبارک کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی اہمیت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں پاکستان اور ترکی کے درمیان اعلیٰ سطح کے وفود کے دوروں اور دونوں ممالک اور عوام کے باہمی فائدے کے لیے دوطرفہ اسٹرٹیجک تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستانی ہم منصب سے ترک وزیر خارجہ کی ملاقات

— فوٹو بشکریہ نوید صدیقی
— فوٹو بشکریہ نوید صدیقی

قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ان کے ترک ہم منصب نے وزارتِ خارجہ میں ملاقات کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دو رفہ کثیرالجہتی تعلقات، اہم علاقائی و عالمی امور سمیت باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ترکی کے مابین دو طرفہ تعلقات کی نوعیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کے اسٹریٹجک تعاون کونسل کے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ترکی کے مابین 71 نکاتی اسٹریٹجک اکنامک فریم ورک پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ترکی کی غیر متزلزل حمایت پر ترک وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں بھارتی قابض افواج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور خطے کو درپیش خطرات سے بھی آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکی کے درمیان 2 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط

انہوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں اور ان کے ثمرات سے ترک وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ، او آئی سی، ای سی او سمیت بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک کے مابین نقطہ نظر میں مماثلت خوش آئند ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر باہمی دلچسپی کے امور پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔

پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور ترکی کے درمیان دوہری شہریت کے معاملے پر بات چیت جاری ہے، دفتر خارجہ

ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے ترکی کے مختلف امور پر پاکستان کی حمایت اور معاونت پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔

تعلیمی شعبے میں دوطرفہ تعاون کا معاہدہ

دوسری جانب پاکستان اور ترکی کے مابین تعلیمی شعبے میں دو طرفہ تعاون کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا۔

وزیر تعلیم شفقت محمود اور  ترک وزیر خارجہ  میولود چاوش اولو  نے مفاہمتی دستاویزات پر دستخط کیے— فوٹو بشکریہ نوید صدیقی
وزیر تعلیم شفقت محمود اور ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے مفاہمتی دستاویزات پر دستخط کیے— فوٹو بشکریہ نوید صدیقی

اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ میں بدھ کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب ہوئی جس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے جہاں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے مفاہمتی دستاویزات پر دستخط کیے۔

اس موقع پر سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، وفاقی سیکریٹری تعلیم فرح حامد اور وزارتِ خارجہ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔