مصباح الحق کو ہٹانے کا فیصلہ، اینڈی فلاور سے معاہدہ ہو چکا ہے، شعیب اختر

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

شعیب اختر نے پی سی بی کو تنقید کا نشانہ بنایا —فائل/فوٹو: ڈان نیوز
شعیب اختر نے پی سی بی کو تنقید کا نشانہ بنایا —فائل/فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور کرکٹ کمیٹی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصباح الحق کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا اور اینڈی فلاور کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے۔

شعیب اختر نے اپنے یوٹیوب چینل پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ 'کرکٹ کمیٹی، پی سی بی کی لائن اور سفارشات پر چلتی ہے اور پی سی بی الزامات خود سے اتار کر کمیٹی پر رکھ دیتا ہے'۔

مزید پڑھیں: پی سی بی کرکٹ کمیٹی اجلاس، کھلاڑیوں کو سائنسی بنیاد پر تیار کرنے پر زور

ان کا کہنا تھا کہ 'مصباح کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، اینڈی فلاور کا تقرر ہوچکا ہے اور انہیں بطور کوچ لے آئے ہیں'۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'اینڈی فلاور اس لیے پیش کش تسلیم نہیں کر رہے کیونکہ وہ پی ایس ایل میں ملتان سلطانز کے کوچ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پی ایس ایل کے اس سال کے پیسے بن جائیں تو پھر میں عہدہ قبول کروں'۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ 'کمیٹی نے مصباح کو کوئی موقع نہیں دیا اور انہوں نے مصباح کو نکال دیا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ باقی جو 5 سے 6 لوگ درمیان میں ہیں وہ پھنسے ہوئے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وقار یونس بھی پھنسے ہوئے ہیں اور آگے پیچھے بھاگ رہے ہیں کہ میری نوکری بچ جائے، کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین باؤلر مصباح کے ماتحت کام کر رہا ہے'۔

وقار یونس کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ 'کرکٹ تاریخ میں 5 عظیم ترین فاسٹ باؤلرز میں سے وسیم اکرم اور آپ ہیں، خدا کا خوف کھائیں، مصباح کے ماتحت کام کر رہے ہیں، اب ایسا ہونا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: شعیب اختر کا آئی سی سی کی ٹوئٹ پر 'منہ توڑ' جواب

انہوں نے کہا کہ 'اینڈی فلاور اپنی ٹیم لا رہا ہے اور جو کوچ کے منظور نظر 5، 6 لڑکے ہوتے تھے ان کو نہیں بخشے گا اور اینڈی فلاور ایسے کام نہیں کرے گا کہ کوچ کے پسندیدہ آدمی ہیں تو آئیں، جہاز میں بیٹھیں آپ کو نیوزی لینڈ لے جاتے ہیں'۔

سابق فاسٹ باؤلر نے کہا کہ اینڈی فلاور اپنی ٹیم لے آئے گا، میڈیکل پینل بھی اپنا لے آئے گا، دنیا کے بدترین میڈیکل پینل کے بارے میں پی سی بی کو سوچنا پڑے گا۔

پی سی بی کے میڈیکل پینل پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ 'تصور کریں کہ حارث سہیل کا آپریشن کچھ اور تھا کروا کچھ اور دیا، ٹیکا ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور سوئی لگا دی، پوچھنے پر کہتا ہے میں بھول گیا ٹیکا ہاتھ میں رہ گیا، یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ڈاکٹروں کا حال ہے'۔

شعیب اختر نے کہا کہ 'چوٹ ماتھے پر لگی تھی پی سی بی کے ایک ڈاکٹر نے پورا سر گنجا کردیا کہ زخم نہیں مل رہا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'پی سی بی ایوریج لوگوں کو اس لیے لاتا ہے تاکہ 6 مہینے بعد الزام ان پر رکھ کر انہیں نکال سکے تاکہ ہم پر تنقید نہ ہو، پی سی بی والے بڑے چالاک ہوتے ہیں اور ڈرامے کرتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم کو احسان مانی کے علاوہ کوئی بندہ نہیں ملا، اگر ان کے دور میں کرکٹ ٹھیک نہیں ہوسکتی ہے تو پھر کس کے دور میں ٹھیک ہوگی'۔

شعیب اختر نے کہا کہ 'پاکستان کرکٹ کے لیے الارمنگ حالات ہیں'۔

مزید پڑھیں: شعیب اختر تنقید نہیں،ذات پر حملے کر رہے ہیں، سرفراز

انہوں نے کہا کہ 'یہ ساری باتیں غلط ہیں کہ مصباح سیریز جیتے گا ہم جائزہ لیں گے، سب جھوٹ ہے، اینڈی فلاور کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے اور اس نے اپنے پیسے طے کر لیے ہیں'۔

راولپنڈی ایکسپریس نے بتایا کہ 'اینڈی فلاور آکر پیسے بنا کر ایسا مزہ چھکائے گا پھر سمجھ آئے گا، بندہ بہت اچھا اور سخت ہے، ناکوں چنے چبوا دے گا اور اپنی ٹیم بھی لائے گا اور پاکستان ٹیم میں موجود 5، 6 ریلو کٹے بھی نہیں رہیں گے'۔

خیال رہے کہ پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی نے کہا تھا کہ 'کرکٹ کمیٹی نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ ٹیم کی انتظامیہ کو ٹیم سے متعلق اپنی حکمت عملی اور اہداف سے متعلق مکمل وضاحت دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اجلاس میں ان کا جائزہ لیا جاسکے'۔

سربراہ کرکٹ کمیٹی سلیم یوسف نے کہا تھا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے اختتام پر کمیٹی ایک بار پھر ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لے گی، جبکہ ٹیم انتظامیہ کو واضح کردیا ہے کہ دوسری پوزیشن پر آنے کا سوال نہیں بنتا ہے۔