اسلام آباد ہائیکورٹ: سنتھیا رچی، رحمٰن ملک نے ایک دوسرے کیخلاف تمام درخواستیں واپس لے لیں

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

رحمٰن ملک نے بھی سنتھیا رچی کے خلاف اپنے مقدمات واپس لے لیے ہیں—فائل فوٹو: سوشل میڈیا
رحمٰن ملک نے بھی سنتھیا رچی کے خلاف اپنے مقدمات واپس لے لیے ہیں—فائل فوٹو: سوشل میڈیا

امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رحمٰن ملک کے مابین صلح کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر تمام درخواستیں واپس لے لیں۔

سنتھیا رچی کی جانب سے رحمٰن ملک کے خلاف درخواستیں واپس لینے کی متفرق درخواست دائر کی گئی تھی جس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کی۔

دوسری جانب رحمٰن ملک کی جانب سے بھی مقدمات واپس لینے کی درخواست کی گئی تھی، عدالت نے دونوں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے تمام درخواستیں خارج کردیں۔

یہ بھی پڑھیں: سنتھیا رچی کا پیپلزپارٹی پر ڈی پورٹ کرنے کی کوششوں کا الزام

اس ضمن میں سنتھیا رچی کے وکیل عمران فیروز نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سنتھیا رچی کی جانب سے رحمٰن ملک کے خلاف ایف آئی آر کے لیے دائر درخواست واپس لینے کی ہدایت ملی تھی۔

چنانچہ آج ہم نے متفرق درخواست پر تمام درخواستیں واپس لے لی جبکہ صلح ہونے پر رحمٰن ملک نے بھی اپنے مقدمات واپس لے لیے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی نے رحمٰن ملک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور جسٹس آف پیس کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی جبکہ سینیٹر رحمٰن ملک نے بھی جسٹس آف پیس کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سنتھیا رچی تنازع

پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر سنیتھا رچی نے گزشتہ برس پیپلز پارٹی کی شہید رہنما بینظیر بھٹو کے بارے میں متنازع ٹوئٹس کے بعد 5 جون کو اپنے فیس بک پیج پر جاری ایک لائیو ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ 2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے انکا ریپ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: سنتھیا رچی کا پاکستان مخالف سرگرمیوں کی تحقیقات کرنے کا دعویٰ

سنتھیا رچی نے سابق وقافی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر جسمانی طور ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ اس دوران یوسف رضا گیلانی ایوان صدر میں مقیم تھے۔

دوسری جانب رحمٰن ملک، یوسف رضا گیلانی، ان کے بیٹے اور مخدوم شہاب الدین نے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔

بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی نژاد پاکستانی بلاگر سنتھیا رچی کے خلاف پاکستان اور امریکا میں ہتک عزت کا دعوی دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنتھیا رچی نے بے بنیاد الزامات لگا کر میری ساکھ مجروح کی۔

دوسری جانب سینیٹر رحمٰن ملک کے وکلا نے بذریعہ ٹی سی ایس امریکی خاتون سنتھیا رچی کو الزامات عائد کرنے پر 50 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا، بعدازاں 9 جون کو سینیٹر رحمٰن ملک نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کو 50 ارب روپے ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سنتھیا رچی کا رحمٰن ملک کیخلاف مقدمہ درج کروانے کیلئے عدالت سے رجوع

سنتھیا رچی نے رحمٰن ملک کے خلاف اندراج مقدمہ کے لیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے رجوع کیا تھا جس پر 5 اگست کو جج نےسینیٹر رحمٰن ملک کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کرنے کی سنتھییا رچی کی درخواست کو پولیس رپورٹ میں اسے بے بنیاد قرار دیے جانے کے بعد مسترد کردیا تھا۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سنتھیا رچی نے ریپ کے الزام کی تصدیق کے لیے نہ تو کوئی ثبوت پیش کیا اور نہ ہی ایسا کوئی مواد پیش کیا کہ اسے پریشان ہراساں کیا گیا ہے۔

جس کے بعد 21 اگست کو سنتھیا رچی نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے استدعا کی تھی کہ وہ ان کی درخواست خارج کرنے کے لیے سیشن عدالت کے حکم کو معطل کردیں اور پولیس کو رحمٰن ملک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کریں۔