زلفی بخاری کی وائرل ویڈیو: 'دل آزاری ہوئی ہو تو معافی مانگتا ہوں'

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

زلفی بخاری نے وائرل ہونے والی ویڈیو پر معافی مانگ لی— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
زلفی بخاری نے وائرل ہونے والی ویڈیو پر معافی مانگ لی— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وزیر اعظم کے مشیر سید زلفی بخاری نے دھرنے کے دوران وائرل ہونے والے ان کے ویڈیو کلپ پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور اگر اس سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معافی مانگتے ہیں۔

واضح رہے کہ مچھ واقعے کے خلاف کوئٹہ میں دھرنا دینے والے مظاہرین سے مذاکرات کے لیے دیگر وفاقی وزرا اور حکومتی شخصیات کے ساتھ ساتھ زلفی بخاری اور علی زیدی بھی گئے تھے۔

مزید پڑھیں: ہزارہ برادری کو بلیک میلر کہہ کر وزیراعظم فرعونیت کے مرتکب ہوئے ہیں، مریم نواز

تاہم اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا تھا جب زلفی بخاری کی علما سے گفتگو کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی تھی اور وزیراعظم کے مشیر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

زلفی بخاری نے اردو نیوز سے گفتگو کے دوران معاملے پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک سے ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو میں میری گفتگو بمشکل 20 سے 30 سیکنڈ کی ہے، ہم اس سے پہلے ڈیڑھ دو گھنٹے دھرنے پر بیٹھے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم وہاں سے نکل رہے تھے تو میری علما سے آدھا گھنٹہ بات چیت ہوئی جس میں سے ایک منٹ نکالا گیا، یہ نہیں دیکھا گیا کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کیا بولا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ اپوزیشن اور لوگوں نے اس طرح سے منظر کشی کی کوشش کی جیسے میں کہہ رہا ہوں کہ وزیر اعظم کو یہاں آنے سے کیا فائدہ ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب انگریزی سے اردو ترجمہ کیا جاتا ہے تو اس میں فرق آ سکتا ہے اور جب میں بھی دیکھتا ہوں تو یہ سمجھ سکتا ہوں کہ لوگ ایسا کیوں سمجھ رہے ہیں، میرا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہماری پہلے سے ہی ایک ڈیڑھ گھنٹے سے یہی گفتگو چل رہی تھی کہ خان صاب تب ہی آئیں گے جب معاملات طے ہو چکے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: تدفین کیلئے آمد کی شرط رکھ کر وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا، عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ یہاں پروپیگنڈا کر کے گند پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایک خوفناک واقعے پر اور بھی چیزیں کرنے کی کوشش کریں، اگر کوئی ایسا مسئلہ ہوتا تو میں وہاں پانچ دن نہیں رہ سکتا تھا، ہم روز وہاں دھرنے پر جاتے تھے۔

زلفی بخاری نے کہا کہ اگر اس غلط فہمی پر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے اس پر میں بالکل معافی مانگتا ہوں لیکن معافی اس چیز کی مانگ رہا ہوں کہ وہ بات کو غلط سمجھ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں مسلح افراد نے کمرے میں سونے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

اس واقعے سے متعلق سامنے آنے والی معلومات سے پتا لگا تھا کہ ان مسلح افراد نے اہل تشیع ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ان 11 کوئلہ کان کنوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی، ان کے ہاتھوں کو باندھا جس کے بعد انہیں قتل کیا گیا۔

مذکورہ واقعے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

مزید پڑھیں: ہزارہ برادری کا دھرنا ختم کرنے اور میتوں کی تدفین کا اعلان

اس واقعے کے بعد وزیراعظم عمران خان سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے اظہار مذمت کیا تھا جبکہ عمران خان نے ایف سی کو واقعے میں ملوث افراد کو انصاف میں کٹہرے میں لانے کا حکم دیا تھا۔

البتہ اس واقعے کے فوری بعد سے ہرازہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر اپنے پیاروں کی میتیں رکھ کر احتجاج شروع کردیا تھا اور مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جب تک وزیراعظم نہیں آتے وہ اپنے پیاروں کی تدفین نہیں کریں گے۔

اس دوران کراچی سمیت ملک بھر میں ہزارہ برادری سے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی مقامات پر دھرنے دیے گئے تھے اور حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ شیخ رشید کے بعد زلفی بخاری اور علی زیدی سمیت دیگر وزرا اور اہم حکومتی شخصیات مذاکرات کے لیے گئی تھیں۔

اس دوران اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا تھا جب احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی تھی جس میں ذوالفقار بخاری اور ہزارہ برادری کے علما کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مبنی تھی۔

ویڈیو میں مظاہرین زلفی بخاری سے کہتے ہیں کہ ’ہمارے شور کا فائدہ پوری پاکستانی قوم کو ہو گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ہزارہ برادری کو مکمل تحفظ اور سیکیورٹی کا یقین دلائیں گے، عمران خان

اس کے جواب میں زلفی بخاری کہتے ہیں کہ ’آپ کیا فائدہ دیں گے اُن کے آنے پر ۔۔۔ یعنی آپ کیا ذمے داری لیں گے اگر عمران خان صاحب آتے ہیں۔۔۔‘

مظاہرین کہتے ہیں کہ 'ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ آ جائیں گے تو کم از کم شہدا کے لواحقین کو تو تسلی تو ملے گی۔‘

زلفی بخاری کہتے ہیں کہ لیکن خدا نخواستہ کل کہیں اور پاکستان میں ایسا واقعہ ہو جائے تو وہ کہیں گے ہم ایسا نہیں ایسا چاہتے ہیں۔۔۔ تو بات رکتی نہیں ہے‘۔