'3 برس میں کراچی میں کینسر کے 33 ہزار 309 کیسز رپورٹ ہوئے'

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے، جس کے لیے مختلف سطحوں پر فوری مداخلت کی ضرورت ہے—  فائل فوٹو:شٹراسٹاک
یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے، جس کے لیے مختلف سطحوں پر فوری مداخلت کی ضرورت ہے— فائل فوٹو:شٹراسٹاک

کراچی کینسر رجسٹری کے مطابق گزشتہ 3 برس سے زائد عرصے میں شہر میں مہلک کینسر کے 33 ہزار سے زائد کیسز ریکارڈ ہوئے جن میں سے زیادہ تر کیسز منہ کے کینسر اور بریسٹ کینسر کے ہیں۔

یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے، جس کے لیے مختلف سطحوں پر فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔

مذکورہ بیان کراچی کینسر رجسٹری کے چیئرپرسن ڈاکٹر شاہد پرویز نے 'کینسر اینڈ کراچی رجسٹری' کے عنوان سے منعقد آن لائن عوامی آگاہی سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

یہ سیمینار گزشتہ روز کراچی یونیورسٹی کے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر شاہد پرویز جو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ڈپارٹمنٹ آف پیتھولوجی اینڈ لیبارٹری میڈیسن کے پروفیسر بھی ہیں انہوں نے کہا کہ کراچی میں بریسٹ کینسر سب سے زیادہ ہے اور دوسرے نمبر پر منہ کا کینسر ہے۔

کینسر رجسٹری کے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوری 2017 سے لے کر دسمبر 2019 تک مجموعی طور پر مہلک کینسر کے 33 ہزار 309 کیسز ریکارڈ ہوئے جس کے نتیجے میں 17 ہزار 490 (52.5 فیصد) اور 15 ہزار 819 (47.5 فیصد) مرد متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے جس کے لیے صحت مند طرز زندگی کی اہمیت اور چبانے والے مختلف خطرناک آمیزوں کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بریسٹ اور منہ کے کینسر کے جلد تشخیص کے لیے ہمیں اسکریننگ پروگرامز کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے بچوں اور نوعمر افراد میں لیوکیمیا، دماغ اور مرکزی اعصابی نظام میں کینسر کو عام پایا۔

انہوں نے کہا کہ کولو ریکٹل کینسر جو بڑی آنت کے 2 حصوں کولوں اور ریکٹم میں ہوتا ہے دونوں جنس کو متاثر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر شاہد پرویز کے مطابق ہماری آبادی میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے زیادہ بوجھ کی وجہ سے جگر کا کینسر بھی بہت عام ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینسر کا مرض پاکستان میں موت کی دوسری بڑی وجہ ہے جبکہ یہی بیماری ترقی یافتہ ممالک میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

ڈاکٹر شاہد پرویز نے کہا کہ کینسر رجسٹریز کا مقصد کینسر کے کیسز کے اعداد و شمار کرنا ہے تاکہ حکومت، محققین اور ماہرین صحت ہمارے طرز زندگی پر مبنی بڑے خطرات کی نشاندہی کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی ملک میں کینسر کنٹرول پروگرامز کے لیے سب سے بڑی ضرورت کینسر رجسٹریز ہیں، ان کا مقصد حکومتی پالیسیوں اور فنڈ مختص کرنے کو ترجیح دینا ہے۔

ڈاکٹر شاہد پرویز نے شرکا کو آگاہ کیا کہ کراچی کینسر رجسٹری، نیشنل کینسر رجسٹری کا حصہ ہے جسے اسلام آباد میں وزارت صحت کے تحت قائم کیا گیا۔

کراچی میں موجود رجسٹری نے 2017 سے ڈیٹا جمع کرنا شروع کیا تھا اور تمام کینسر تشخیصی اور علاج کے ہسپتالوں نے رضاکارانہ بنیادوں پر ڈیٹا بھیجنے کی دعوت دی تھی۔


یہ خبر 14 جنوری 2021 جنوری کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی