ٹک ٹاک میں 13 سے 17 سال کے صارفین کے لیے سخت پرائیویسی پالیسی متعارف

14 جنوری 2021

ای میل

— اے ایف پی فائل فوٹو
— اے ایف پی فائل فوٹو

نوجوانوں میں مقبول ترین سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک نے کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے پرائیویسی پالیسی کو زیادہ سخت کردیا ہے۔

13 جنوری کو کمپنی کی جانب سے نئے پرائیویسی ضوابط کا اعلان کیا گیا جن کا اطلاق 18 سال سے کم عمر صارفین پر ہوگا۔

نئے ضوابط کے تحت اب 13 سے 15 سال کی عمر کے تمام رجسٹر صارفین کے اکاؤنٹس بائی ڈیفالٹ پرائیویٹ ہوجائیں گے۔

آسان الفاظ میں ان کے اکاؤنٹس تک کوئی بھی رسائی حاصل نہیں کرسکے گا بلکہ دوستوں سے ہی رابطہ ممکن ہوگا۔

اس عمر کے صارفین کے لیے ایوری ون کمنٹ سیٹنگ کا آپشن ختم کردیا جائے گا اور کمنٹس کے لیے فرینڈز یا نو ون کے آپشن باقی رہیں گے۔

اسی طرح سجیسٹ یور اکاؤنٹ ٹو ادرز کی سیٹنگ بھی 13 سے 15 سال کی عمر کے صارفین کے لیے بائی ڈیفالٹ آف ہوگی۔

ڈوئٹ اور اسٹیچ آپشنز بھی اب 16 سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین کے دستیاب ہوں گے، تاہم 16 اور 17 سال کے افراد کے لیے ڈیفالٹ سیٹنگ فرینڈز کے لیے سیٹ ہوگی۔

نئی پالیسی کے تحت صارفین صرف وہ ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے جو 16 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پوسٹ کریں گے، مگر 16 سے 17 سال کی عمر کے صارفین کے لیے ان کی ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے کی سیٹنگ بائی ڈیفالٹ آف ہوگی۔

ٹک ٹاک نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے کم عمر صارفین کی آن لائن پرائیویسی کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ ٹک ٹاک کو اپنے پلیٹ فارم میں بچوں کے تحفظ کے لیے ناکافی اقدامات پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

2019 میں ٹک ٹاک نے 13 سال سے کم عمر بچوں پر ایپلیکشن کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔

یہ پابندی اس وقت عائد کی گئی جب ٹک ٹاک پر امریکا نے چلڈرنز آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ کے تحت جرمانہ عائد کیا تھا۔

اب 13 سے 17 سال کی عمر کے صارفین کو آن لائن مسائل سے بچانے کے لیے پرائیویسی پالیسی کو مزید سخت کیا گیا ہے۔