صدر و وزیر اعظم کی آذربائیجان کو نیگورنو ۔ کاراباخ کی آزادی پر مبارکباد

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

ڈاکٹر عارف علوی سے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف نے ایوان صدر میں ملاقات کی — فوٹو: پی آئی ڈی
ڈاکٹر عارف علوی سے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف نے ایوان صدر میں ملاقات کی — فوٹو: پی آئی ڈی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے نیگورنو ۔ کاراباخ کی آزادی پر آذربائیجان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، آذربائیجان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اے پی پی' کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی سے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف نے ایوان صدر میں ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان آذربائیجان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو مشترکہ عقیدے، تاریخی اور ثقافتی روابط پر مبنی ہیں۔

انہوں نے نیگورنو ۔ کاراباخ کی آزادی پر آذربائیجان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، آذربائیجان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم بڑھانے اور ثقافتی و تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے، امید ہے کہ اسلام آباد میں پاکستان، آذربائیجان، ترکی سہ فریقی مذاکرات سے سہ رخی تعلقات اور برادر ممالک کے مابین تعاون کو فروغ حاصل ہوگا۔

انہوں نے کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) رابطہ گروپ کے رکن کی حیثیت سے آذربائیجان کے کردار کو سراہا۔

اس موقع پر آذری وزیرِ خارجہ نے نیگورنو ۔ کاراباخ پر آذربائیجان کے موقف کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ اداکیا۔

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان مسئلہ کشمیر پر تمام بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، ترکی، آذربائیجان کا مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کا عزم

وزیراعظم کی آزاد کرائے گئے علاقوں کی تعمیرنو اور ترقی میں تعاون کی یقین دہانی

آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف نے وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم نے بہترین دوطرفہ سیاسی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے آذربائیجان کی قیادت اور عوام کو مقبوضہ علاقے آزاد کرانے پر مبارکباد دی اور آزاد کرائے گئے علاقوں کی تعمیر نو اور ترقی میں پاکستان کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

آذربائیجان کے وزیر خارجہ نے صدر الہام علیوف کی طرف سے وزیراعظم کو نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور نیگورنو ۔ کاراباخ کے تنازع پر پاکستان کی طرف سے مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر آذربائجان کی طرف سے پاکستان کی مسلسل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا۔

انہوں نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کی خواہش کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم

وفود کی سطح پر مذاکرات

قبل ازیں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ آذری وفد کی قیادت آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف کر رہے تھے۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین یکساں مذہبی، ثقافتی اقدار کی بنیاد پر گہرے برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آرمینیا کے ناجائز قبضے سے آذربائیجان کے علاقوں کو آزاد کروانے پر آذربائیجان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہمارا عالمی سطح پر واضح موقف رہا ہے کہ آذربائیجان کی علاقائی سالمیت کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔

ان مذاکرات میں پاکستان اور آذربائیجان کے مابین اقتصادی، تجارتی، دفاعی تعاون کے فروغ سمیت تعلیم، ثقافت اور ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اقتصادی تعاون بالخصوص توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ سائنس اور زراعت کے شعبوں میں بھی دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بھی غور کیا۔

وزرائے خارجہ نے کورونا کی عالمی وبا کے چیلنج کے مضمرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔

شاہ محمود قریشی نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، بھارتی ریاستی دہشت گردی کے حوالے سے آذری ہم منصب کو آگاہ کرتے ہوئے عالمی برادری کی جانب سے کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آذربائیجان کی جانب سے مسلسل حمایت پر جیہون بیراموف کا شکریہ ادا کیا۔