غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ

اپ ڈیٹ 18 جنوری 2021

ای میل

پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی آج مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اپوزیشن کے احتجاجی پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لیے اجلاس کرے گی، رپورٹ— فائل فوٹو:ریڈیو پاکستان
پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی آج مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اپوزیشن کے احتجاجی پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لیے اجلاس کرے گی، رپورٹ— فائل فوٹو:ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کے کل (منگل) سے دوبارہ آغاز ہونے سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے مابین سخت لفظوں کا تبادلہ دیکھا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جب سے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) نے اعلان کیا ہے کہ وہ سماعت کے روز ای سی پی کے دفتر کے باہر مظاہرے کریں گے، پی ٹی آئی کے بہت سے رہنما حکومت کے دفاع کے لیے میڈیا کو مصروف رکھے ہوئے ہیں۔

ایک سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے میڈیا میں غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے پر اپوزیشن کے بیانیے کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو اصل صورتحال اور سرکاری نقطہ نظر سے آگاہ کرنے کے لیے اپنے ترجمانوں کو ذمہ داری سونپی ہے۔

مزید پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس میں ہمیں پھنسانے کی کوشش کرنے والے خود پھنس گئے ہیں، شبلی فراز

دوسری جانب پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی آج جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ منگل کو ہونے والے اپوزیشن کے احتجاجی پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لیے اجلاس کرے گی۔

اس حوالے سے ایک بیان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پارٹی کی نائب صدر مریم نواز راولپنڈی سے اس ریلی کی قیادت کریں گی جو بعدازاں شاہراہ اقتدار پر قائم ای سی پی ہیڈکوارٹرز کے باہر جلسہ عام میں تبدیل ہوجائے گی۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز اور پارلیمانی سیکریٹری برائے ریلوے فرخ حبیب نے بعدازاں ایک پریس کانفرنس میں دعوٰی کیا کہ اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف کو پھنسانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ خود ہی اپنے جال میں پھنس چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی اہم جماعتوں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے پاس ان کی اپنی غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں کوئی جواب نہیں ہے اور اسی وجہ سے وہ کمیشن پر دباؤ ڈالنے کے لیے ای سی پی کے دفتر کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ نومبر 2014 میں تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کا کیس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا، مذکورہ کیس پی ٹی آئی کی غیر اعلانیہ غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات سے متعلق ہے۔

اکبر ایس بابر کے مطابق گزشتہ 6 برسوں میں اس معاملے میں 200 سماعتیں ہوچکی ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ 'اپوزیشن جماعتوں کا ای سی پی کے باہر احتجاج کا منصوبہ لوگوں کو گمراہ کرنے اور قومی ادارے کو دھمکانے کی ایک کوشش ہے'۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی کو تسلی بخش جوابات پیش کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب وہ ریلی نکال کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں آج تک اپنی غیرملکی مالی اعانت کے بارے میں جوابات جمع نہیں کرواسکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 'الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی نے بار بار شناختی کارڈ اور ان لوگوں کے پتے طلب کیے جنہوں نے دونوں جماعتوں کو چندہ دیا تھا تاہم وہ کوئی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم فارن فنڈنگ کیس میں 'فیصلے' کیلئے الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کرے گی، مریم اورنگزیب

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ دونوں سابقہ حکمران جماعتوں نے ایسا برتاؤ کیا ہے جیسے ملک ان کی ذاتی ملکیت ہے، تاہم میں کہنا چاہوں گا کہ 'ای سی پی کو تفصیلات پیش کریں تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ جھوٹا کون ہے'۔

بعد ازاں فرخ حبیب نے ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں کہا کہ تحریک انصاف نے ای سی پی کو درکار تمام دستاویزات پیش کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کے خلاف اکبر ایس بابر کی طرح سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی تاہم عدالت عظمیٰ نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی فنڈنگ ای سی پی کے دائرہ کار میں نہیں آتی کیونکہ وہ صرف ‘ممنوعہ’ فنڈز کی تحقیقات کرسکتا ہے۔