ایل این جی بحران کے دوران صنعتوں کو گیس کی فراہمی میں کمی کا امکان

اپ ڈیٹ 18 جنوری 2021

ای میل

2 غیر ملکی سپلائیرز نے فروری میں فراہمی کے لیے وعدے کے مطابق 2 بحری جہاز فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
2 غیر ملکی سپلائیرز نے فروری میں فراہمی کے لیے وعدے کے مطابق 2 بحری جہاز فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے غیر ملکی تاجروں کی جانب سے گیس کی قلت کے دوران فراہمی میں کوتاہی کی وجہ سے مجموعی صورتحال اور طویل بنیادوں پر صنعتوں کی بڑی تعداد کو گیس فراہمی معطل کرنے کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی آج ملاقات کرے گی۔

ان رپورٹس کے بعد کہ سرکاری ملکیت کے 2 غیر ملکی سپلائیرز نے فروری میں فراہمی کے لیے وعدے کے مطابق 2 بحری جہاز فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے، پاکستانی حکام نے اعلیٰ ترین سفارتی کوششوں کے ذریعے کم از کم ایک جہاز کو محفوظ بنایا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تاہم حکومت نے تصدیق کی ہے کہ فروری کے دوسرے حصے میں آنے والا بحری جہاز اب مزید دستیاب نہیں کیوں کہ اس کا کامیاب بولی دہندہ (متحدہ عرب امارات کے ای این او سی) ادائیگی میں ناکام ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنوری کیلئے ایل این جی کارگو کیلئے ریکارڈ مہنگی قیمتوں کی پیشکش

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل آئی) کے جاری کردہ بیان کے مطابق 'فروری کے آخری ہفتے میں دوسرا اسپاٹ کارگو سب سے کم بولی دینے والے بی بی آر اے رولز کو دیا گیا تھا جس نے بولی کے مطابق اس کی فراہمی کی نااہلی کے بارے میں آگاہ کیا ہے'۔

خیال رہے کہ اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت تقریباً خام کے برابر جا پہنچی ہے جو اس قیمت کی بھی دگنی ہے جس پر ای این او سی نے پاکستان کو سب سے کم بولی کے ذریعے ایل این جی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، متحدہ عرب امارات کی سرکاری کمپنی بھی اپنی بولی کے بانڈز کو ترک کر چکی ہے جس سے اعلیٰ حکام مجبور ہو کر رہ گئے ہیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ آذر بائیجان کی سرکاری تیل کمپنی کی ذیلی کمپنی ایس او سی اے آر ٹریڈنگ کو بھی فروری کے دوسرے ہفتے میں ایل این جی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن اسٹریٹیجک دوستانہ تعلقات نے اس فراہمی کو ختم ہونے سے روک دیا۔

مزید پڑھیں: ایل این جی اسپاٹ مارکیٹ میں پاکستان کو سرد مہری کا سامنا

اس کے علاوہ ایس او سی اے آر کے ساتھ 2017 میں ہونے والا طویل المدتی حکومت سے حکومت کے تعاون کا معاہدہ بھی پی ایل ایل کے بچاؤ میں کام آیا۔

ایک بیان میں پی ایل ایل کا کہنا تھا کہ 'پی ایل ایل کے ٹینڈرز میں بولی کے بعد فراہمی سے معذرت کرنے والے سرکاری اور بین الاقوامی ایل این جی تاجروں کے حوالے سے پی ایل ایل قانون کے مطابق تمام دستیاب اقدامات اٹھا رہی ہے جس میں بولی کے مطابق کارگو فراہم کرنے والے بولی دہندگان کے بولی کے بانڈ کی ضبطگی شامل ہے۔

دوسری جانب وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی، ای این او سی کی گیس فراہمی میں کوتاہی، متعدد شعبوں کے لیے قلت سمیت گیس فراہمی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ورچوئل ایل این جی پائپ لائنز کیلئے پرووژنل لائسنس کا اجرا

اس بات کا بھی امکان ہے کہ صنعتی شعبے کی جانب سے مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار کو ختم کرنے کے لیے طویل المدتی پالیسی منظور کی جائے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ فراہمی اور طلب کی مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان تمام صنعتوں کو یکم فروری سے قدرتی گیس کی فراہمی روک دی جائے جو اسے بنیادی طور پر اپنے استعمال کی بجلی بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

تاہم قدرتی گیس پر پابندی کا اطلاق ان صنعتی یونٹس پر نہیں ہوگا جو یا تو بجلی کے تقسیم کار گرڈ سے منسلک نہیں یا اسے اسٹیم انجن کے ایندھن کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔