ڈینیئل پرل کیس: ’جب بھی مقدمے کی سماعت ہوتی ہے بین الاقوامی لابی متحرک ہوجاتی ہے‘

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2021

ای میل

امریکی صحافی کو سال 2002 میں قتل کردیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان
امریکی صحافی کو سال 2002 میں قتل کردیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان

سپریم کورٹ میں ڈینیئل پرل قتل کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کے وکیل نے کہا ہے کہ جب بھی مقدمے کی سماعت ہوتی ہے تو بین الاقوامی لابی متحرک ہوجاتی ہے جبکہ ایسا تاثر ہے کہ اگر احمد عمر شیخ بری ہوا تو امریکا کے حوالے کر دیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی، اس دوران مرکزی ملزم احمد عمر شیخ و دیگر کے وکیل محمود اے شیخ نے دلائل دیے۔

واضح رہے کہ بینچ حکومت سندھ اور مقتول صحافی کے والدین رتھ اینڈ جوڈیا پرل کی جانب سے دائر کی گئی متفرق درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جہاں فیصل صدیقی مقتول صحافی کے والدین کی نمائندگی کر رہے وہیں مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کی نمائندگی ایڈووکیٹ محمود اے شیخ کے ذریعے کی جارہی ہے۔

مذکورہ اپیلوں میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 اپریل کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں ڈینیئل پرل کے مبینہ اغوا اور قتل پر احمد عمر سعید شیخ کو دی گئی سزا تبدیل کردی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: حکومت سندھ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

اپنے دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیس سے متعلق تفتیش میں پرنٹر اور اسکینر خریدنے کو سازش کا حصہ قرار دیا گیا، جس دکاندار سے پرنٹر اور اسکینر خریدے گئے اس نے کوئی رسید نہیں دی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ملزمان نے اگر جرم کے لیے سامان خریدنا ہوتا تو دکاندار کو اپنے درست نام نہ بتاتے جبکہ پرنٹر اور اسکینر خریدنے کی جو تاریخ بتائی گئی تب ملزمان پولیس کی تحویل میں تھے۔

ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ دکاندار نے عدالت میں اور بیان دیا جبکہ اس نے تفتیش میں کہا کہ اس نے کمپیوٹر بیچا، مزید یہ کہ پولیس کا ریکوری میمو جعلی اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔

اس پر عدالتی بینچ کے رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں دیگر وکلا بتا چکے ہیں آپ نئی بات بتائیں۔

جس پر وکیل نے کہا کہ مرکزی ملزم احمد عمر شیخ نے کوئی اعترافی بیان نہیں دیا، اس وقت کے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت سے سب کچھ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احمد عمر شیخ نے پولیس سے کہا کہ مجھے امریکا کے حوالے نہ کیا جائے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب بھی مقدمے کی سماعت ہوتی ہے تو بین الاقوامی لابی متحرک ہوجاتی ہے جبکہ ایسا تاثر ہے کہ اگر احمد عمر شیخ بری ہوا تو امریکا کے حوالے کر دیا جائے گا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ امریکا میں قیدیوں کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ دیکھ کر سب گھبرا جاتے ہیں۔

بعد ازاں انہوں نے اپنے دلائل مکمل کرلیے تاہم دلائل کا یہ سلسلہ کل بھی جاری رہے گا، اب اس کیس کی مزید سماعت 20 جنوری کو ہوگی۔

واضح رہے کہ 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کر رہے تھے، بعد ازاں ایک ماہ کے اغوا کے بعد امریکی قونصلیٹ کو ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی ایک گرافک ویڈیو موصول ہوئی تھی۔

جس کے بعد 2002 میں احمد شیخ کو گرفتار کیا گیا تھا اور ٹرائل کورٹ نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔

تاہم 2 اپریل 2020 کو سندھ ہائی کورٹ نے عمر شیخ کی سزا کو 7 سال کردیا تھا جو کہ پہلے ہی مکمل ہوچکی تھی جبکہ دیگر 3 ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب، جنہیں پہلے عمر قید کی سزا ملی تھی، انہیں بری کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ڈینیئل پرل کیس میں وکیل، گواہوں اور ججز تک کو دھمکیاں دی گئیں‘

تاہم رہائی کے احکامات کے فوری بعد ہی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

چنانچہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت صوبائی حکام نے انہیں 90 دن کے لیے حراست میں رکھا تھا، یکم جولائی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت مزید تین ماہ کے لیے انہیں حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں ان کی قید میں مزید توسیع ہوتی رہی تھی۔

جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل اغوا اور قتل کیس میں بریت کے باوجود ملزمان کو حراست میں رکھنے کے سندھ حکومت کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

عدالت عالیہ کے اس فیصلے پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا ردعمل بھی آیا تھا اور بیان میں کہا گیا تھا کہ اسے 24 دسمبر کے سندھ ہائی کورٹ کے ’ڈینیئل پرل کے قتل کے ذمہ دار متعدد دہشت گردوں‘ کو رہا کرنے کے فیصلے پر ’شدید تشویش‘ ہے۔