زین آفندی قتل کیس: عینی شاہدین نے 3 ملزمان کی شناخت کرلی

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی کے پوتے اور آصف زرداری کے کزن کو بدھ کی علی الصبح ان کی رہائش گاہ کے اندر گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی کے پوتے اور آصف زرداری کے کزن کو بدھ کی علی الصبح ان کی رہائش گاہ کے اندر گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی کی مقامی عدالت میں عینی شاہدین نے گھر میں مبینہ ڈکیتی کے دوران سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی حسن علی آفندی کے پوتے و سابق صدر آصف علی زرداری کے کزن زین حسن آفندی کے قتل میں ملوث 3 مشتبہ ملزمان کی شناخت کرلی۔

خیال رہے کہ 6 جنوری کو جمشید کوارٹرز پولیس نے کہا تھا کہ 50 سالہ زین حسن آفندی کو گرومندر کے قریب کوسموپولیٹن سوسائٹی میں ان کے گھر میں دوران ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی کے پوتے و آصف زرداری کے کزن قتل

ابتدائی طور پر پولیس نے زین حسن آفندی کے قتل کے الزام میں 5 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

بعد ازاں قتل میں مبینہ طور پر ملوث رحمت اللہ، عمران اور محمد گل کو حراست میں لیا گیا۔

کیس کے تفتیشی افسر نے جوڈیشل مجسٹریٹ میں مشتبہ افراد کی شناخت پریڈ کروانے کی استدعا کی تھی۔

تفتیشی افسر نے مقدمے کے ایک عینی شاہدین اور مشتبہ افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے قانونی مراحل مکمل کرنے کے بعد ملزمان کی شناختی پریڈ کرائی۔

عینی شاہدین نے تینوں افراد کو بطور ملزم شناخت کیا، جو مبینہ طور پر زین حسن آفندی کے گھر داخل ہوئے اور مسلح ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کردی تھی۔

مجسٹریٹ نے عینی شاہدین کا بیان قلمبند کیا اور حراست میں لیے گئے ملزمان کو 3 دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: زین آفندی قتل کیس: ڈکیتی اور قتل کی ایف آئی آر اہلیہ کی مدعیت میں درج

عدالت نے تفیتشی افسر کو ہدایت کی کہ وہ اگلی تاریخ کو تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ پیش ہوں۔

خیال رہے کہ مقتول کی اہلیہ انیتا زین کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق وہ بنگلے کے اوپری حصے میں قائم اپنے کمرے میں سو رہی تھیں جب انہوں نے سنا کہ صبح کے قریب 4 بجکر 20 منٹ پر ان کے کمرے کے دروازے پر زور سے دستک دی گئی، پھر اچانک چار مسلح افراد کمرے کا لاک توڑ کر داخل ہوئے۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی ملزمان نے سونے کے زیورات کا مطالبہ کیا تھا۔

شکایت کنندہ نے بتایا تھا کہ اس نے انہیں فوراً ہی اپنی سونے کی چین اور ایک انگوٹھی دے دی، اسی اثنا میں ایک مشتبہ شخص ان کے شوہر سے بات کرتے ہوئے اسے دھکے دے کر دوسرے کمرے میں لے گیا جب کہ دوسرے ملزمان نے میز پر پڑے دو موبائل فون اور دو پرس اٹھائے جس میں کچھ ضروری کاغذات اور نقدی موجود تھی۔

شکایت کنندہ نے بتایا تھا کہ اسی دوران ان کے شوہر نے مزاحمت کی اور مشتبہ شخص، جو اسے دوسرے کمرے میں لے گیا تھا اس نے ان پر فائرنگ کردی جس میں ان کے شوہر محفوظ رہے، جس پر ملزم نے پھر سے فائر کیا اور گولی ان کے شوہر کے منہ پر لگی۔

مزید پڑھیں: پشاور: درس قرآن کے معاملے پر تنازع، فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق

بعد ازاں ملزمان نے مزید تین، چار گولیاں چلائیں اور کمرے سے باہر چلے گئے جس کے بعد وہ فوری طور پر اپنے شوہر کے پاس پہنچیں جو پہلے ہی دم توڑ چکے تھے اور اپنے ڈرائیور کو فون کیا جو ان کی کال کا جواب نہیں دے رہے تھے۔

شکایت کنندہ نے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی ساس کو فون کیا اور جب وہ کمرے سے باہر آئیں تو ملزمان فرار ہوچکے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے گارڈ، چوکیدار اور ڈرائیور کے ہاتھ پیر باندھ دیے تھے اور ایک مسلح ملزم ان کی نگرانی میں کھڑا تھا۔