پاکستان کی توجہ علاقائی اقتصادیات کی طرف بڑھ گئی ہے، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

پاکستان خطے میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا، ہمارے تعلقات کو مزید بڑھانا ہوگا، شاہ محمود قریشی - فائل فوٹو:ڈان نیوز
پاکستان خطے میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا، ہمارے تعلقات کو مزید بڑھانا ہوگا، شاہ محمود قریشی - فائل فوٹو:ڈان نیوز

کراچی: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا، ہمارے تعلقات کو مزید بڑھانا ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بات انہوں نے ایک ویبنار میں اظہار خیال کے دوران کہی، جس کا موضوع تھا 'پاک-امریکا تعلقات کی بحالی' اور بھارت نے ایک ناگوار اور بے بنیاد سائبر حملے میں کراچی کونسل برائے خارجی تعلقات (کے سی ایف آر) کے زیر اہتمام اس ویبنار کو روکنے کی کوشش کی تاہم ناکام رہا۔

یاد رہے کہ اس ویبنار کے پرنسپل اسپیکر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی رہنماؤں نے پاکستان کے خلاف فوجی قوت استعمال کرنے کی اپنی خواہش کے بارے میں عوامی سطح پر بات کی ہے، جوہری ماحول میں کچھ بھی غیر ذمہ دارانہ نہیں ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا، ہمارے تعلقات کو مزید بڑھانا ہوگا۔

مزید پڑھیں: بھارت داخلی انتشار سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، وزیر خارجہ

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں نئی انتظامیہ کی آمد ہمیں طویل المیعاد، وسیع البنیاد اور کثیر الجہتی رشتہ رکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے، اس طرح کی شراکت کے لیے ایک ادارہ جاتی اور ساختی مشغولیت کی ضرورت ہوگی جو باہمی احترام پر مبنی ہو، (اپنی) خوبیوں اور اپنے ہی وزن پر امریکا اور پاکستان کے درمیان مضبوط رشتہ ہونا چاہیے، جیو اکانومکس کی وجہ سے یہ مجبوری ہے'۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان 22 کروڑ عوام پر مشتمل ملک ہے جس میں دو تہائی 30 سال سے کم عمر کے افراد ہیں، ہم چین، جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر بیٹھے ہیں، پاکستان خطے میں تجارت کے لیے اپنے آپ کو مستقبل کے مرکز کے طور پر تصور کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کو مل کر افغانستان کو مستحکم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے اور پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین کے تعاون سے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی کا 3 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ

ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی شعبے میں پاک امریکا تعلقات کی بہت زیادہ صلاحیت ہے، امریکا توانائی کے ایک بڑے سپلائر کے طور پر ابھر رہا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو اعلیٰ معیار کی سبسڈی والی صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی پر زور کے دوران کورونا بحران سامنے آگیا جس کی وجہ سے اس کی مزید فوری ضرورت ہوگئی ہے، اسی طرح ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پاکستان ایک علاقائی نمونہ رہا ہے، ہمارے بڑے پیمانے پر درخت لگانے کی مہمات نے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے، ہمیں اُمید ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ سے صحت کے بحران اور اس کے معاشی بحران کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ آب و ہوا کی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے ایجنڈے میں بدعنوانی کا خاتمہ ترجیح ہے، ہم صدر جو بائیڈن پر منی لانڈرنگ اور غیر قانونی محفوظ ٹھکانے بند کرنے پر زور دیتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں، پاکستانی عوام کا ہمیشہ ہی امریکا سے ذاتی تعلق رہا ہے، اقدار کی مشترکات کسی بھی مضبوط رشتے کی بنیاد ہیں۔

تقریر کے بعد وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 'ہماری توجہ علاقائی اقتصادیات کی طرف بڑھ گئی ہے اور یہ خطے میں امن کا مطالبہ کرتی ہیں اسی لیے ہمارے پاس افغانستان کے لیے ایک نیا نقطہ نظر ہے کہ وہاں پر امن کو سہولت فراہم کرنا، ہم بھارت کے ساتھ بھی صحتمند تعلقات کے خواہاں ہیں تاہم بدقسمتی سے (بھارت میں) موجودہ حکومت نے اپنے عمل سے اس کو ناکام بنا دیا ہے'۔

'امریکا اور پاکستان تعلقات میں رابطہ منقطع ہو رہا ہے' مائیکل کوگل مین

ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے کہا کہ امریکا اور پاکستان تعلقات میں کچھ سال پہلے ہی دوبارہ بحالی دیکھی گئی تھی جب ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات شروع کرنے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: افغان امن عمل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، شاہ محمود قریشی

ان کا کہنا تھا کہ ایک بار جب دونوں نے افغان مفاہمت کے عمل پر تعاون شروع کیا تو تعلقات مستحکم ہوگئے، آج بھی یہی صورتحال برقرار ہے، اہم سوال یہ ہے کہ آیا تعلقات (آنے والی جو بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ) گزشتہ دو سالوں کی رفتار کو کھودیں گے یا ترقی کریں گے اور اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ یہ کسی بھی سمت جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ تعلقات میں رابطہ منقطع ہو رہا ہے، پاکستان میں حکومت نسبتاً خاموش ہے، تعلقات کے لیے پاکستان کی اُمیدوں کے بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے اس سے اگلی انتظامیہ کے ساتھ اتنی ہمدردی نہیں مل سکتی ہے'۔

سفیر ضمیر اکرم نے کہا کہ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس کے قومی سلامتی کے مفادات سے چلتی ہے، واشنگٹن میں انتظامیہ کی تبدیلی کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کے پیرامیٹرز میں تبدیلی آئے گی۔

سفیر اعزاز احمد چوہدری نے اپنے خطاب میں تین ابتدائی نکات پیش کیے۔

ایک تو پاک امریکا تعلقات ہمیشہ ہی دوہرے رہے ہیں، دوسرا عوام سے عوام کا رابطہ مضبوط رہا ہے، تیسرا امریکا نے پاکستان کو پانچ عینکوں کے ذریعے دیکھا ہے جن میں سلامتی، چین، افغانستان، بھارت اور جوہری پروگرام شامل ہے، جس نے پاکستان کی اہمیت کو کم کیا ہے۔

انہوں نے جو بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ استدلال کیا کہ تعلقات کے لیے ایک وسیع البنیاد نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔

اس تقریب میں میزبانی کے فرائض کلیم فاروقی نے سنبھالے تھے۔