سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر مملکت کے دائر کردہ ریفرنس کی مخالفت

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2021

ای میل

صدر کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس مبینہ طور پر عدالت کو سیاسی تنازع کے سامنے کھڑا کرنے کے لیے تیار کیا گیا، ایس ایچ سی بی اے - اے ایف پی:فائل فوٹو
صدر کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس مبینہ طور پر عدالت کو سیاسی تنازع کے سامنے کھڑا کرنے کے لیے تیار کیا گیا، ایس ایچ سی بی اے - اے ایف پی:فائل فوٹو

اسلام آباد: سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس ایچ سی بی اے) نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے دائر کردہ ایک ریفرنس میں سپریم کورٹ کے مشاورتی دائرہ اختیار کو غلط اور وقت سے پہلے رجوع کیا جس میں عدالت عظمیٰ سے سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ اور شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے بارے میں رائے طلب کی گئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ صدر عارف علوی کی جانب سے اس سوال کے جواب کے لیے صدارتی ریفرنس پر غور کر رہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ رائے شماری کی شرط کا اطلاق سینیٹ انتخابات پر ہوگا یا نہیں۔

مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس: پورے آئینی ڈھانچے کو جانچنا پڑے گا، چیف جسٹس

ایس ایچ سی بی اے نے کہا کہ یہ ریفرنس مبینہ طور پر عدالت عظمیٰ کو ایک کھلے سیاسی تنازع کے سامنے کھڑا کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

ایس ایچ سی بی اے نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ایک تحریری خلاصے میں استدلال کیا کہ 'عدالت عظمیٰ سے مشورہ طلب کرنے کے بجائے دراصل ریفرنس حکمران جماعت اپنے سیاسی مقاصد میں عدالت کی توثیق حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے ممکنہ قانونی چیلنج سے بچنا بھی ہے'۔

سینئر وکیل صلاح الدین احمد کی جانب سے دائر کردہ خلاصے میں ایس ایچ سی بی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ریفرنس مبینہ طور پر صدر کی جانب سے ایک مشاورتی ریفرنس کی آڑ میں آئینی ترمیم کو نافذ کرنے کی کوشش ہے اور اس طرح یہ ریفرنس در حقیقت اور قانون کی نظر میں مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ لہذا سپریم کورٹ کو کسی بھی صورت میں اس طرح کے ریفرنس کا جواب دینے میں مستقل طور پر انکار کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات سے متعلق ریفرنس پر چیئرمین سینیٹ، اسپیکر اسمبلیز، الیکشن کمیشن کو نوٹس

ایس ایچ سی بی اے کا مؤقف ہے کہ سینیٹ میں میرٹ کے حساب سے سینیٹ انتخابات بغیر کسی تنازع کے آئین کے تحت ہیں اور اسی طرح آرٹیکل 226 میں خفیہ رائے شماری کا تقاضا سینیٹ انتخابات پر مکمل طور پر لاگو ہوتا ہے اور اس میں تبدیلی آئینی ترمیم کے بغیر ناممکن ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ موجودہ ریفرنس پر سماعت نہ کرے یا متبادل کے طور پر اس پر مشورے پیش نہ کرے کیونکہ ریفرنس سے جو سوال پیدا ہوا وہ قبل از وقت، علمی اور فرضی ہے۔

ایس ایچ سی بی اے نے عدالت کے سامنے یہ رائے پیش کرنے کی استدعا کی کہ آئین کے آرٹیکل 226 میں خفیہ رائے شماری کی ضرورت آئین کے آرٹیکل 59 کے تحت سینیٹ انتخابات پر پوری طرح لاگو ہے۔

انتخابی عمل کے تقدس اور ووٹرز کو دھمکانے / جبر / ناجائز اثر و رسوخ کے لیے پڑنے والے مضمرات کے سلسلے میں اس طرح کی صورتحال کا احساس کیا جانا چاہیے، حکومت نے براہ راست اور آزادانہ ووٹ کے لیے آرٹیکل 51 (6) اور 106 (3) کو سامنے رکھنے کی کوشش کی جس میں خفیہ رائے شماری کی ضرورت بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات میں کب، کیا اور کیسے ہوتا ہے؟ مکمل طریقہ

یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ براہ راست اور آزادانہ ووٹ کی ضرورت کا یہ لازمی مطلب نہیں ہے کہ ووٹ بھی خفیہ ہونا ہے۔

در حقیقت بھارتی آئین میں آزادانہ ووٹ کی ضرورت کا انعقاد اس طرح کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب خفیہ ووٹ نہیں ہے۔

یہ دلچسپ بات ہے کہ جہاں حکومت آرٹیکل 226 میں 'آئین کے تحت' کے الفاظ کی مصنوعی طور پر پابند تشریح اپنانا چاہتی ہے تاکہ سینیٹ انتخابات کے سلسلے میں خفیہ رائے شماری کی ضرورت کو دور کیا جاسکے وہیں یہ بیک وقت آرٹیکل 51 (6) اور 106 (3) میں الفاظ کو آزادانہ طور پر پڑھنے کے لیے تیار ہے تاکہ خفیہ رائے شماری کی ضرورت کو متعارف کرایا جاسکے حالانکہ وہاں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔