'سینیٹ انتخاب سے متعلق صدارتی ریفرنس غلط فہمی پر مبنی ہے'

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2021

ای میل

رضا ربانی نے  دلائل دیے کہ جان بوجھ کر ریفرنس میں آئین کی کچھ دفعات کا ذکر نہیں کیا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
رضا ربانی نے دلائل دیے کہ جان بوجھ کر ریفرنس میں آئین کی کچھ دفعات کا ذکر نہیں کیا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے کہ آئندہ سینیٹ انتخاب اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کے سلسلے میں عدالتی رائے لینے کے لیے دائر ریفرنس غلط فہمی پر مبنی ہے کیوں کہ حکومت نے بدنیتی پر مبنی ارادوں کے ساتھ صدر کو ریفرنس دائر کرنے کا غلط مشورہ دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں دائر کیے گئے مفروضے میں رضا ربانی نے دلائل دیے کہ چونکہ حکمراں جماعت کے پاس سینیٹ میں عددی اکثریت نہیں اس لیے ریفرنس دائر کرنے کا مقصد آئین کی دفعہ 70، 72، 238 اور 239 میں دیے گئے قانون سازی کے طریقہ کار اور آئین کی دفعہ 67 کے تحت پارلیمان کے کوڈ آف بزنس اور رولز آف پروسیجرز کو بائی پاس کرنا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ اس ریفرنس کی سماعت کررہا ہے جس میں صدر عارف علوی نے یہ سوال کیا تھا کہ کیا آئین کی دفعہ 226 کے تحت خفیہ رائے شماری کی شرط سینیٹ انتخابات پر عائد ہوتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس: پورے آئینی ڈھانچے کو جانچنا پڑے گا، چیف جسٹس

رضا ربانی نے دلائل دیے کہ جان بوجھ کر ریفرنس میں آئین کی کچھ دفعات کا ذکر نہیں کیا گیا جس میں دفعہ 60 (2) اور (7) کے تحت چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور دفعہ 53 قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب سے متعلق ہے۔

سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017 جو سینیٹ انتخابات کے طریقہ کار سے متعلق ہے وہ آئین کی دفعہ 59 (سینیٹ انتخابات سے متعلق دفعہ) کے کسی اجزا کی وضاحت نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ انتخابات کے انعقاد پر الیکشن رولز 2017 کا باب 7 بھی اسی طرح خاموش ہے، الیکشن ایکٹ محض آئین کی مختلف دفعات کی تعریف کرتا ہے جس میں الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں، حلقوں، ووٹر فہرست، انتخابی عملے اور الیکشن کے انعقاد کے طریقہ کار کا اختیار شامل ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں یہ انتخابات کو شفاف اور آزادانہ طور پر یقینی بنانے کا عمل فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات صدارتی ریفرنس: اسپیکر قومی اسمبلی کی اوپن بیلٹ کی حمایت

انہوں متحدہ قومی موومنٹ کے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 سے متعلق کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس میں 'خفیہ رائے شماری' کے الفاظ کو 'شو آف ہینڈز' سے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے لیے تبدیل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آئین کی دفعہ 59، 223 اور 224 کو ایک ساتھ پڑھا جائے تو اس حوالے سے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ سینیٹ انتخابات 'آئین کے تحت ہونے والے انتخابات' ہیں۔

چنانچہ آئین کی دفعہ 226 قابل اطلاق ہے اس لیے سپریم کورٹ کو یہ واضح کرتے ہوئے سوال کا جواب نفی میں دینا چاہیے کہ سینیٹ اراکین کے انتخابات آئین کے تحت ہونے والے انتخابات ہیں۔