امریکا: پاکستانی نژاد امریکی خاتون، پہلی مسلمان وفاقی پراسیکیوٹر مقرر

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2021

ای میل

صائمہ محسن 2  فروری سے وفاقی پراسیکیوٹر کا منصب سنبھالیں گی — تصویر: امریکی سینٹرل کمانڈ ٹوئٹر
صائمہ محسن 2 فروری سے وفاقی پراسیکیوٹر کا منصب سنبھالیں گی — تصویر: امریکی سینٹرل کمانڈ ٹوئٹر

پاکستانی نژاد امریکی خاتون صائمہ محسن کو ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں وفاقی پراسیکیوٹر مقرر کردیا گیا جو امریکا کی تاریخ کی پہلی خاتون، تارکِ وطن، مسلمان امریکی اٹارنی ہوں گی۔

امریکا کے جسٹس ڈپارٹمنٹ کے مطابق جوبائیڈن کے حلف اٹھانے کے فوراً بعد موجودہ وفاقی پراسیکیوٹر میتھیو شنیڈر اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے جس کے بعد ان کی جگہ صائمہ محسن کو اس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔

52 سالہ صائمہ محسن پاکستان میں پیدا ہوئیں اور سال 2002 سے امریکا کے اٹارنی آفس میں کام کررہی ہیں اور اس سے قبل ڈپٹی نیوجرسی اٹارنی جنرل اور مین ہیٹن میں اسسٹنٹ ڈسٹرک اٹارنی کا عہدہ بھی سنبھال چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نژاد علی زیدی، امریکی صدر جو بائیڈن کی ماحولیاتی ٹیم میں شامل

امریکی سرکاری نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی اردو سروس کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں وفاقی پراسیکیوٹر، امریکی محکمہ انصاف کا مقرر کردہ ایک لا افسر ہوتا ہے جو اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں میں وفاق کی طرف سے دائر کیے گئے کرمنل کیسز کی پیروی کرتا ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی پراسیکیوٹر ان مقدمات میں بھی وفاق کا دفاع کرتا ہے جن میں وفاقی حکومت فریق ہوتی ہے۔

امریکا کے وفاقی فوج داری نظامِ انصاف کے مطابق ان پراسیکیوٹرز کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کب، کہاں اور کس کے خلاف حتیٰ کہ کس فوج داری قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل صائمہ مارچ 2018 سے پہلی اسسٹنٹ یونائیٹڈ اسٹیٹ اٹارنی کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے چکی ہیں جو ایک غیر سیاسی عہدہ ہے۔

مشی گن کے سب سے بڑے اخبار دی ڈیروئیٹ فری پریس کی رپورٹ کے مطابق موجودہ وفاقی پراسیکیوٹر میتھیو شنیڈر اپنا استعفیٰ صدر کو بھیج چکے ہیں، وہ یکم فروری کو یہ عہدہ خالی کردیں گے اور صائمہ محسن 2 فروری سے قائم مقام اٹارنی کی حیثیت سے منصب سنبھالیں گی۔

مزید پڑھیں: جو بائیڈن نے ایک اور پاکستانی نژاد امریکی کو اپنی ٹیم کا حصہ بنالیا

صائمہ محسن نیوجرسی کی روٹگیر یونیورسٹی سے گریجویٹڈ ہیں انہوں نے قانون میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی، مستقل اٹارنی جنرل تعینات ہونے کے لیے انہیں امریکی سینیٹ سے توثیق کی ضرورت ہوگی۔

اپنے بیان میں میتھیو شنیڈر کا کہنا تھا کہ 'میں یہ دفتر صائمہ محسن کے ہاتھوں میں چھوڑ کر جانے پر خوشی محسوس کررہا ہوں جو انتہائی نفیس فیڈرل پراسیکیوٹرز میں سے ایک ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ صائمہ ایک بہترین وکیل اور ٹیلنڈ منیجر ہیں اور امریکا کی تاریخ کی پہلی خاتون، مہاجر، مسلمان امریکی اٹارنی کے طور پر ان کی خدمات حقیقتاً تاریخی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صائمہ محسن امریکا کی قائم مقام اٹارنی کی حیثیت سے سب سے بڑھ کر ہماری کمیونٹی کی نمائندہ اور محافظ ہوں گی۔

دوسری جانب ایک بیان میں صائمہ کا کہنا تھا کہ مشرقی ڈسٹرک مشی گن کے شہریوں کے لیے بطور قائم مقام امریکی اٹارنی اپنی خدمات فراہم کرنا میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی نژاد لڑکی کو ہیرو قرار دے دیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور قانون کی عمل داری کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاؤں گی۔

امریکی ریاست مشی گن میں مسلمان بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں جس میں پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کی بھی اچھی خاصی آبادی ہے اور یہاں کئی مساجد بھی قائم ہیں۔

ماضی میں بھی ریاست مشی گن میں محکمہ انصاف میں مسلمان خواتین کام کرتی رہی ہیں تاہم وفاقی پراسیکیوٹر کے طور پر کسی بھی خاتون مسلمان کو پہلی بار یہ ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔