پاکستان کو نظرثانی شدہ بولی کے ذریعے 38 فیصد تک سستی ایل این جی کی قیمت مل گئی

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2021

ای میل

پچھلی بولیوں کے تحت قیمت 8.9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے مقابلے میں نظر ثانی شدہ نرخ  6.6 ڈالر اور 7.2  ڈالر کے درمیان ہیں۔ - فائل فوٹو:اے ایف پی
پچھلی بولیوں کے تحت قیمت 8.9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے مقابلے میں نظر ثانی شدہ نرخ 6.6 ڈالر اور 7.2 ڈالر کے درمیان ہیں۔ - فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں کے گرنے پر پاکستان کو فوری ٹینڈرنگ عمل کے تحت مارچ میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے تین کارگو کی فراہمی کے لیے نمایاں طور پر سستی بولی موصول ہوگئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتیں گرنا شروع ہونے سے سرکاری سطح پر چلنے والی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے گزشتہ ہفتے مارچ میں ایل این جی کی فراہمی کے تین ونڈوز کے لیے بولیاں منسوخ کردی تھیں۔

متبادل کے لیے پی ایل ایل نے 26 جنوری کی آخری تاریخ کے ساتھ 22 جنوری کو نظرثانی شدہ فوری ٹینڈر حاصل کیا۔

منسوخ شدہ بولیوں کے مقابلے میں نظرثانی شدہ بولیاں 26 سے 38 فیصد سستے نرخوں پر موصول ہوئیں۔

مزید پڑھیں: ایل این جی ٹینڈر ڈیفالٹ پاکستان کے لیے رحمت بن گیا

پی ایل ایل سے حاصل کردہ نتائج میں اٹلی کے ای این آئی سے مارچ کے دوسرے ہفتے میں کارگو کی فراہمی کے لیے اسی کمپنی کے 22.24 فیصد برینٹ کے مقابلے میں برینٹ کی سب سے کم بولی 13.62 فیصد موصول ہوئی۔

اس سے ایک ہفتے کے اندر تقریبا 38 فیصد کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔

ای این آئی مارچ کے تیسرے ہفتے میں کارگو کے لیے سب سے کم بولی لگانے والا بھی تھا جب اسی ڈیلیوری ونڈو کے لیے وٹول نے 17.81 فیصد کی سب سے کم بولی لگائی گئی تھی جس سے 23.5 فیصد کے کم نرخ ظاہر ہوتے ہیں۔

مارچ کے چوتھے ہفتے کے لیے اس سے بھی کم بولی قطر پیٹرولیم کی جانب سے برینٹ کے 12.73 فیصد پر موصول ہوئی جبکہ گزشتہ بولی میں وٹول کی جانب سے برینٹ کے 17.19 فیصد دیا گیا تھا جس سے 26 فیصد کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔

اس ترمیم شدہ فوری ٹینڈرنگ میں مزید بولی دہندگان بھی متوجہ ہوئے، تین ترسیلی ونڈوز کے لیے کل 20 بولیاں موصول ہوئیں جبکہ اس سے قبل کل 12 بولیاں موصول ہوئی تھیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران طلب میں کمی آنے کے بعد اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں۔

پچھلی بولیوں کے تحت نرخ 8.9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے مقابلے میں نظر ثانی شدہ نرخ 6.6 ڈالر اور 7.2 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان ہیں۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب سے امارات نیشنل آئل کمپنی نے اسپاٹ قیمتیں بلند ترین سطح پر جانے پر فروری کے لیے سپلائی پر اپنی بولی کو ڈیفالٹ کیا ہے اس وقت قطر پیٹرولیم کی شرکت پاکستان کے لیے بولی کی قیمتوں میں کمی کا ذریعہ بنا ہے۔